پانچ سال میں پاک ترک تجارتی حجم 3.371ارب ڈالر

پانچ سال میں پاک ترک تجارتی حجم 3.371ارب ڈالر

  



اسلام آباد(اے پی پی) گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان اور ترکی کی باہمی تجارت کا حجم 3.371 ارب ڈالر رہا ہے، سال 2014ء تا 2018ء کے دوران پاکستان کو 47 ملین ڈالر کے تجارتی خسارہ کا سامنا رہا ہے۔ ترکش سٹیٹسٹیکل انسٹیٹیوٹ (ترک سٹیٹس) کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2014ء کے دوران پاک ترک دو طرفہ تجارت کا حجم 695 ملین ڈالر رہا تھا اور دوران سال پاکستان کی برآمدات کا حجم 436 ملن ڈالر جبکہ ترکی سے کی جانے والی درآمدات کا حجم 259 ملین ڈالر رہا تھا اور تجارت کا توازن 177 ملین ڈالر پاکستان کے حق میں رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سال 2015ء کے دوران دونوں ممالک کی تجارت 599 ملین ڈالر تک کم ہو گئی۔ پاکستان کی برآمدات 310 ملین ڈالر جبکہ درآمدات کا حجم 289 ملین ڈالر رہا اور 21 ملین ڈالر کا تجارتی توازن پاکستان کے حق میں رہا تھا۔ اس طرح سال 2016ء کے دوران پاک ترک دو طرفہ تجارت 610 ملین ڈالر رہی اور اس دوران پاکستان نے ترکی سے347 ملین ڈالر کی درآمدات کیں جبکہ برآمدات کا حجم 263 ملین ڈالر رہا تھا اور پاکستان کو 84 ملین ڈالر کے تجارتی خسارہ کا سامنا رہا۔ رپورٹ کے مطابق سال 2017ء کے دوران پاک ترک تجارت 675 ملین ڈالر تک بڑھ گئی جبکہ دوران سال پاکستان کی برآمدات 323 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 352 ملین ڈالر رہی تھیں اور دوران سال پاکستان کو 29 ملین ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا اس طرح سال 2018ء کے دوران پاکستان اور ترکی کی دو طرفہ تجارت کا حجم 792 ملین ڈالر تک بڑھ گیا اور دوران سال پاکستان نے ترکی کو 330 ملین ڈالر کی برآمدات کی تھیں جبکہ درآمدات کا حجم 462 ملین ڈالر رہا تھا اور پاکستان کو 132 ملین ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران پاک ترک باہمی تجارت میں پاکستان کو تجارتی خسارہ کا سامنا ریا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران پاک ترک باہمی تجارت میں اضافہ ہواہے تاہم پاکستان کو تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے جس میں ہر سال اضافہ کا رجحان رہا ہے۔

مزید : کامرس