کرونا وائرس پر قابو پانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں: ناصر شاہ

    کرونا وائرس پر قابو پانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں: ناصر شاہ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر بلدیات، اطلاعات، آرکائیز، ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ، فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کروناوائرس پر قابو پانے کیلئے سندھ حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے،عوام کو گھبرانا نہیں چاہئے البتہ احتیاتی تدابیر ضرور اختیار کریں، اس حوالے سے چائنہ سمیت دیگر ممالک سے مسلسل رابطے میں ہیں اور صوبے بھر کے تمام اضلاع سے یومیہ رپورٹ فراہم کی جارہی ہے، جس کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور مزید اقدامات کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ایکلسیلنس کلب کی جانب سے ان کے اعزاز میں منعقدہ ایک شام گیسٹ اسپیکر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ سے متعلق کئے جانے والے اقدامات کے تحت اسکولوں، جامعات کو بند کرنے کے فیصلے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ بچے مستقبل ملک کے اثاثے ہیں،ان کی بہتر صحت ہی ہمارے حق میں ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ کراچی میں عمارت گرنے پر سندھ حکومت کو تشویش ہے،حکومت متعلقہ علاقائی افسران و دیگر عملے کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں غیر ممالک سمیت دیگر صوبوں کے لوگوں کے آنے کا نہ رکنے والا سلسلے جاری ہے، جس کے باعث کچی آبادیاں قائم ہو رہی ہیں، جو حکومت کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، یہ ہی معاشرتی خرابیوں کی جڑ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ ماضی کے مختلف ادوار میں شروع ہوا، ان غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر میں ملوث سرکاری افسران کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل سندھ کیبینیٹ میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی خصوصی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی جا چکی ہے اور قوانین بھی تیار کئے جا رہے ہیں، یہاں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں تو کی جاتی ہیں، لیکن انہیں سزائیں نہیں ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں 900 سے زائد غیر قانونی عمارتوں کو منہدم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران، عملے اور نام نہاد بلڈرز باالخصوص سادہ لوگ عوام کوکی لوٹ کھسوٹ سے متعلق انصاف کی فراہمی کیلئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی عدالتوں کا قیام نا گزیر ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت ’سرسبز سندھ‘ کے نعرے سندھ بھر سمیت کراچی کی لیاری ندی و دیگر متعلقہ علاقوں میں پیپلز اربن فاریسٹ منصوبہ پر عمل پیرا ہے، اس حوالے سے مختلف ممالک سے معاہدے طے پا چکے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی میں دیگر صوبوں سے آنے والے لوگوں اور ان کی غیر قانونی آبادکاری سے پیدا ہونے والے سیوریج، ڈرینیج و پینے کے پانی کا مسئلے کو حل کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورنگی پرکشش تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، جہاں مختلف منصوبوں کا افتتاح پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کیا ہے، جبکہ کورنگی میں پیپلزپارٹی کا کوئی بھی نمائندہ حتی کہ یو سی چیئرمین تک منتخب نہیں ہے، لیکن سندھ کا کونہ کونہ ہمارا ہے، ہم اس کی حفاظت اور ترقی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بھر کے تمام اضلاع سمیت کراچی کے ماسٹر پلان کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ پاکستان ایکسیلنس کلب کے چیئرمین حمید بھٹو نے کہا کہ صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے اپنے سیاسی کیریئر میں نہایت ہی ملنساری کے ساتھ ملک و قوم کی ترقی میں ہمیشہ اپنا اہم کردار ادا کیا ہے، انہوں نے اپنے آپ کو تکلیف دے کر ہمیشہ مسکراہٹ کے ساتھ قوم کی خدمت میں کوشاں ہیں۔ پاکستان ایکسلینس کلب کا مقصد ہی ملک و قوم کی ترقی میں حصہ ڈالنے والے ایکسیلنس شخصیات کی پذیرائی کرنا ہے، اس سلسلے میں ہر 15یوم کے بعد منعقدہ گیسٹ اسپیکر پروگرام میں اہم شخصیات کے ہمراہ شام منعقد کرکے ان کو ان کی زندگیوں میں ہی خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ تقریب میں فیڈریشن آف پاکستان، چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکھر سندھ کا تیسرا بڑا تجارتی شہر ہے، قدرت نے وہاں تجارت سے متعلق ماحول پہلے سے تیار کیا ہوا ہے،سکھر میں ایک بہت بڑا تفریحی مقام شاہ جو بیلو بھی موجود ہے، چھوارے کی عالمی منڈی ہے۔اس لئے سکھر کو عالمی شہر بنایا جا سکتا ہے، لیکن افسوس کہ وہاں ڈرائی پورٹ نہیں ہے۔ میں صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ سے گذارش کروں گا کہ سکھر کو عالمی شہر بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے سید ناصر حسین شاہ کی شخصیت کو رول ماڈل بنایا ہے، کسی کو بھی ان سے کوئی شکایت لاحق نہیں ہے، یہ ایک درویش صفت انسان کی نشانی ہے، اس لئے سید ناصر حسین شاہ کو چاہئے کہ مذکورہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت کریں اور یہ میراث اپنے بچوں کو منتقل کریں۔پاکستان ایکسیلنس کلب کے چیف پیٹرن انور علی سانگی نے کہا کہ سید ناصر حسین شاہ سے عرصہ دراز سے بے لوث محبتوں کا رشتہ ہے، وہ دوستوں کے دوست اور شفیق انسان ہیں۔ ایکسیلنس کلب ملک کے ایکسیلنس شخصیات کی ہمت افزائی کرتی رہے گی۔ سیکریٹری انڈسٹری، حکومت سندھ اور ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نسیم الغنی سہتو نے کہا کہ سید ناصر حسین شاہ کے عملی اقدامات کے پیش نظر یقینا سندھ معاشی طور پر مستحکم ہوگا اور تاجر برادری و حکومت کے مابین خوشگوار تعلقات کی فضا بھی پروان چڑھے گی۔ سیکریٹری بلدیات روشن علی شیخ نے کہا کہ جہاں افسران کی سوچ انتہا کو پہنچتی ہے وہاں سید ناصر حسین شاہ کی سوچ کا آغاز ہوتا ہے، وہ ہمیشہ وزارت کے مفاد میں ہی کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی، بزنس مین، سابق مشیر اور یمن کے اعزازی کاؤنسلیٹ مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ پاکستان ایکسیلنس کلب اور حمید بھٹو کے 11 منعقدہ پروگراموں کی کارکردگی اس لئے قابل تعریف ہے کہ انہوں نے میرٹ کو کبھی بھی پامال نہیں کیا۔ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مسکراتے ہوئے مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ کرنا اور اس کا حل تلاش کرنا جانتا ہے، ملک و قوم کی ترقی کیلئے محنت، جوش، ولولے کے جذبے سے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں، یہ ہی سبب ہے کہ پارٹی کی قیادت انہیں کئی محکموں کے فولیو تفویض کرکے اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ نہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ سید ناصر حسین شاہ کراچی ماس ٹرانزٹ جیسے بڑے منصوبے کی سرپرستی کریں گے، کیونکہ یہ منصوبہ کراچی کے لوگوں کیلئے بہت اہم ہے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر عمر ریحان نے کہا کہ ایکسیلنس کلب ایک منفرد ارہ ہے، جس نے بیوروکریسی اور تاجروں کے بعد اب حکمرانوں کوبھی جوڑنے جیسے کٹھن مرحلے پر کام کااغاز کیا ہے، یہ عمل قابل ستائش ہے، جس سے تینوں اسٹیک ہولڈرز کے مابین روابط کا سلسلہ فروغ پائے گا جو ملک کے مفاد میں ہے۔ سید ناصر حسین شاہ کو سوسائٹی میں ایک قابل، جفاکش اور مخلص صوبائی وزیرکی حیثیت سے پہچان ہے، یہ ہی سبب ہے کہ لوگ ان سے بے حد پیار کرتے ہیں۔ سابق صوبائی وزیراور معروف بینکر شجاعت علی بیگ نے کہا کہ سندھ حکومت میں بہت ساری وزارتوں کی ذمہ داریاں اد اکرنے کیلئے سندھ کیبینیٹ میں ایک ہی وزیر ہے، وہ ہے سید ناصر حسین شاہ،جس کے باعث انہیں کام بھی زیادہ کرنے پڑتے ہیں اورہر ایک سے محبت و شفقت سے پیش آتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول