سات قبائلی اضلاع کے پریس کلبوں کیلئے ایک کروڑ 40لاکھ دینے کا اعلان

سات قبائلی اضلاع کے پریس کلبوں کیلئے ایک کروڑ 40لاکھ دینے کا اعلان

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل وزیر نے اطلاعات و تعلقات عامہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد باضابطہ طور پر میڈیا کو ہفتہ کے روز سول سیکرٹریٹ میں بریفنگ دی۔ صحافی حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا کہ صحافی برادری نے ہمیں قومی نوعیت کے ایشوز پر مکمل تعاون اور سپورٹ فراہم کیا ہے اور جہاں کسی منصوبے میں کمزور و کمی رہ گئی تو اس کی نشاندہی کی بروقت نشاندہی۔ صحافی برادری جب اور جہاں چاہے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اور وزیر اعلیٰ کے مشکور ہیں جنہوں نے ہر ضلعے کے لئے 20-20لاکھ کی گرانٹ کی منظور دی،وزیراعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر نے رشکئی اکنامک زون کو صوبے میں معیشت کی بہتری، بے روزگاری کے خاتمے اور غربت سے نمٹنے کے لئے ایک بہترین منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کی سربراہی میں رشکئی اکنامک زون کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے حکومت پرعزم ہے جس کی اعلیٰ مثال وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس کی منظوری ہے۔ اکنامک زون سے روزگار کے نئے مواقع ملنے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اجمل وزیر نے واضح کیا کہ رشکئی اکنامک زون سے تقریبا دو لاکھ افراد کو روزگار مل سکے گا۔ رشکئی اکنامک زون کے سلسلے میں ہونے والی سرمایہ کاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ مذکورہ منصوبے میں چار ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی جبکہ مستقبل میں اس منصوبے کو خیبراکنامک کوریڈور سے منسلک کریں گے جس سے ہماری صنعت و کاروبار افغانستان اور وسطی ایشیا تک بڑھنے میں اہم پیش رفت ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور عوام وزیراعظم عمران خان کے مشکور ہیں اور یہ ان کی جانب سے ہمارے لئے ایک تحفہ ہے۔ جس سے صوبے میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔صوبائی حکومت کا کھیلوں کی مد میں ٹیلنٹ کو سامنے لانے پر میڈیا کو بریف کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی حکومت موجودہ صوبائی کھیلوں کا چھوتا ایڈیشن منعقد کرا رہی ہے جس کے لئے ان کھیلوں کو بتدریج بہتر کیا جا رہا ہے اور کھلاڑیوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ صوبائی کھیل کے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ پچھلے ایڈیشن میں گیارہ ہزار کھلاڑیوں نے حصہ لیا تھا جبکہ اس بار پچیس ہزار کھلاڑی ان گیمز میں حصہ لے رہے ہیں۔ پچھلی مرتبہ42 مختلف کھیلوں کے مقابلے ہوئے تھے جبکہ اس بار47 کھیلوں کے مقابلے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 25اضلاع کے کھلاڑیوں نے شرکت کی جبکہ رواں سال34 اضلاع کے کھلاڑی ان کھیلوں میں شرکت کر رہے ہیں۔کھیلوں کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دینے پر بات کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کو 1300ملین روپے کی لاگت سے بین الاقوامی ضرورتوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جبکہ 25کروڑ روپے کی لاگت سے20سکواش کورٹس پشاور میں بنائے جا رہے ہیں تاکہ سکواش کے کھیل کو دوبارہ کھویا ہوا مقام مل سکے۔ دیگر اضلاع میں کھیلوں کی حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو بیان کرتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا کہ نوشہرہ میں 22کروڑ روپے کی لاگت سے بین الاقوامی معیار کا جمنازیم ہال بنا یا جا رہا ہے، اسی طرح کوہاٹ سپورٹس کمپلیکس میں سوئمنگ پول اور جمنازیم ہال تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جبکہ120کھلاڑیوں کے لئے ہاسٹل کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے۔ کوہاٹ میں مذکورہ پراجیکٹس مکمل ہونے پر26 کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں 100کھلاڑیوں کے لئے ہاسٹل تعمیر ہو چکا ہے اور اسی طرح سات ڈویژنل اضلاع میں خواتین کھلاڑیوں کے لئے الگ سپورٹس جمنازیم ہال 70 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رستم مردان میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر جلد مکمل ہوجائے گی جس پر24کروڑ کی لاگت آئی ہے۔ تین اتھلیٹکس ٹریک اور پانچ ہاکی ٹیرف پر کام شروع ہو چکا ہے جس پر تقریبا 80 کروڑ روپے کی لاگت آئی گی جبکہ یہ سہولیات ڈی آئی خان، کوہاٹ، پشاور، چارسدہ، بنوں، سوات اور مردان میں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ بونیر اور ایبٹ آباد میں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ انڈور گیمز کیلئے جمنازیم کی تعمیر جلد شروع ہوجائے گی۔مشیر اطلاعات نے کرک، مانسہرہ، دیر لوئر اور پشاور میں بھی سپورٹس کمپلیکس بنانے کی خوشخبری دی۔انہوں نے کہا صوبائی حکومت نے سائیکلنگ ویلوڈرم کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے جو کہ پاکستان میں اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں کھیلوں کی فروغ کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات دیتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا آئندہ دو سالوں میں حکومت خیبرپختونخو7.5 ارب روپے کی لاگت سے سات بڑے سپورٹس کمپلیکس اورچھ چھوٹے سپورٹس کمپلیکس بنا رہی ہے جبکہ نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے ایک ارب روپے کی لاگت سے تین سالوں میں سپورٹس کے مقابلے منعقد کئے جا رہے ہیں جس کے لئے رواں سال25 کروڑ روپے کی خطیر رقم جاری کیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ مارچ سے ان کھیلوں کا آغاز ہو گیا ہے۔صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے آئے روز احتجاج کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صوبائی مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات ہارنے کے بعد اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، انہی لوگوں نے عوام کو تاریکی میں رکھا جبکہ ہماری حکومت نے عوام کو دلدل سے نکال کر حقیقی ترقی کی راہ پر لگا دیا ہے۔ اس وقت صوبائی حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے بد ترین رویے کا سامنا ہے جس کو ہم خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں۔08 مارچ کو متوقع عورت مارچ پر اپنی خیالات کا اظہار خیال کرتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا کہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر کسی کواظہار خیال کی آزادی حاصل ہے لیکن اس انداز سے جس سے ہماری روایات، تہذیب اور مذہب پر کوئی آنچ نہ آئے۔ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کا ذکر کرتے ہوئے معاون اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومت بچوں اور بچیوں کو دیرپا تحفظ یقینی بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور بہت جلد مذکورہ ایکٹ صوبائی کابینہ کے سامنے رکھیں گے۔

مزید : صفحہ اول