"جو مزہ ساتھ دینے میں ہے وہ مقابل کھڑے ہونے میں ہرگز نہیں"

"جو مزہ ساتھ دینے میں ہے وہ مقابل کھڑے ہونے میں ہرگز نہیں"

  



لاہور (کالم: ڈاکٹر سویرا شامی)میری خوش قسمتی، میری پیدائش ایک ایسے گھر میں ہوئی جہاں بیٹی کی ضرورت تھی،اہمیت کا احساس تھااور اس کو حقیقی معنوں میں رحمت ہی سمجھا جاتا تھا۔جہاں آج بھی بیٹے اور بیٹی کی پیدائش پر ایک ہی طرح

خوشی منائی جاتی ہے، بلکہ یہ کہوں کہ بیٹی کو خوش نصیبی کی علامت سمجھا جاتا ہے توہرگز غلط نہیں ہو گا۔میں چار بھائیوں کی ایک بہن ہوں، ہمارے گھر میں بیٹے اور بیٹی میں کبھی کوئی تفریق نہیں رہی، زندگی میں آگے بڑھنے کے جو مواقع بیٹوں کو دئیے گئے وہی مجھے بھی حا صل تھے، جس اعتماد سے بیٹوں کو نوازا گیا وہی مجھے بھی ملا۔یہاں تک کہ کھیل بھی وہی کھیلے جو بھائی کھیلتے تھے، کرکٹ،ویڈیو گیمز،عید پر بکرے بھی چرائے، گلیوں میں سائیکل بھی چلائی، گھر میں کبھی کسی نے یہ نہیں کہا تھاکہ یہ لڑکیوں والا کام نہیں ہے، یہ لڑکیوں والا کھیل نہیں ہے، لڑکیاں ایسے نہیں کرتیں، لڑکیاں ویسے نہیں کرتیں،میری ان جملوں سے کوئی خاص آشنائی نہیں رہی۔

میرے گھر میں میرے لئے جہیزاکٹھا کرنے کی بجائے میری تعلیم و تربیت کو ترجیح دی گئی، بلکہ یہ بتایا گیا کہ شادی تو ہو ہی جانی ہے، یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے نہ ہی یہ مقصد حیات ہونا چاہئے۔میں کیا پڑھوں گی، اس کا فیصلہ ابو نے مجھ پر’تھوپا‘ نہیں بلکہ میری خواہش کو مقدم جانا، ان کی خواہش اور شرط صرف اتنی تھی کہ تعلیم حاصل کرنی ہے، پی ایچ ڈی کرنی ہے، معاشرے میں اپنا مقام بنانا ہے، کسی دوسرے پر انحصار نہیں کرنا۔اس وقت بھی ’کہنے والے‘اردگرد موجود تھے لیکن ان کی باتوں کی حدت کبھی مجھ تک پہنچنے نہیں دی گئی۔

شادی بھی شکر ہے ایک’با شعورانسان‘ سے ہی ہوئی،جن کو اچھے برے اور صحیح غلط میں فرق کرنا بخوبی آتا ہے، جن کے ساتھ میرا رشتہ اعتماد کا ہے، دوستی کا ہے،محبت کا ہے۔ جنہوں نے ہر معاملے میں میرا ساتھ دیا، پریشانی میں میرا ہاتھ تھاما۔ انہوں نے کبھی مجھ سے نہیں پوچھا کہ کہاں سے آ رہی ہو، کہاں جا رہی ہو، کیوں جار رہی ہو، کس سے مل رہی ہو، کیوں مل رہی ہو۔مجھے لگتا ہے کہ میرے شوہر ہی میرے بہترین دوست ہیں جن سے کسی بھی قسم کے ڈر خوف کے بغیر میں ہر بات کر سکتی ہوں اورمجھے یقین ہے کہ یہی دعویٰ میرے بارے میں وہ بھی کر سکتے ہیں۔

ہمارے نزدیک یہی میاں بیوی کا حقیقی رشتہ ہے،ایک دوسرے کا لباس ہیں، ایک دوسرے کا پردہ رکھنے والے ہیں،اس میں رعب و دبدبے، احساس کمتری اور احساس برتری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔میں شادی سے پہلے ملازمت کرتی تھی، میرے ابو نے میرے میاں کو پہلے ہی کہہ دیا کہ میری بیٹی کام کرتی ہے اوروہ کرتی رہے گی۔میرے میاں نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور آج تک اس وعدے پر قائم ہیں۔سسرال والوں نے بھی کبھی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔ خواہش ہے کہ ہر باپ اپنی بیٹی کی شادی کے وقت ایسا ہی وعدہ لینے کی ہمت جتا پائے۔

غرض جو ماحول مجھے ملا،جس طرح کے لوگ میرے اردگرد رہے، امی، ابو، بھائی، اور میاں، کبھی نہیں لگا کہ عورت اور مرد کے لئے کوئی الگ قسم کے اصول رائج ہیں، یاعورت کسی بھی طور مردسے کم ہے لیکن آہستہ آہستہ جب اپنے دائرے سے باہر نکل کر دیکھا توبہت سی تلخ حقیقتوں سے سامنا ہوا اور معلوم ہوا کہ زندگی ہر کسی کے لئے اتنی آسان نہیں ہے۔ ہمارا معاشرہ دعوے تو بہت کرتا ہے لیکن حقیقت مختلف ہے۔

ہم تو ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں عورت اپنی زندگی گزارنے کے لئے دوسروں کی محتاج ہے، ایک بیٹی جب پیدا ہوتی ہے تو اس کو بتایا جاتا ہے کہ تم تو پرائی امانت ہو، تم نے اگلے گھر جانا ہے، تمہاری جو خواہشات ہیں وہ اپنے گھر جا کر پوری کرنا۔بیٹے کی تعلیم کے لئے تو جان ماری جاتی ہے لیکن بیٹی کی تعلیم بوجھ لگتی ہے،اس کے لئے برتن جوڑنے، بستر بنانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔پھر جب وہ شادی کی عمر کو پہنچ جاتی ہے تو اس کی نت نئے لوگوں کے سامنے نمائش شروع ہو جاتی ہے، جو اس میں کیڑے نکالتے ہیں، عجیب و غریب توجیحات پیش کرتے ہیں، اپنا بیٹا جیسا مرضی ہو لڑکی حور پری ہی ہونی چاہئے۔ دلچسپ بات یہ ہے لڑکے کے والدین اپنی بیٹی کا وقت بھول کر دوسروں کی بیٹی میں خامیاں نکالتے ہیں۔

پھر جب شادی ہوتی ہے تو ایک بیٹی اپنے گھر، ماں باپ، بہن بھائی، بچپن کی یادیں تو چھوڑتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کو اپنی پہچان، اپنا مقام حتیٰ کہ نام بھی اسی گھر کی دہلیز پر چھوڑ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ نکاح کے بعد جو پہلی چیز بدلتی ہے وہ لڑکی کا نام ہوتا ہے، جس کا مذہب سے کوئی خاص لینا دینا نہیں بلکہ ’معاشرتی قید‘ ہے۔ ایک بارمیر ے شوہر کے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ آپ نے شادی کے بعد اپنا نام تبدیل نہیں کیا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے شوہر کی عزت نہیں کرتیں۔میرے اور میرے شوہر کے درمیان آج تک اس موضوع پر بات ہی نہیں ہوئی تھی،مجھے شدید حیرانی ہوئی کہ ہمارے ہاں عزت ماپنے کا معیار کتناکھوکھلا ہے۔

خیر سسرال جا کرپتہ چلتا ہے کہ ساری زندگی جو لڑکی اپنے گھر کی آس میں ماں باپ کے گھر کو عارضی ٹھکانہ سمجھتی رہی،وہ گھر بھی اس کا اپنا نہیں نکلا،وہاں بھی کوئی اور ہی قابض ہے۔وہ کیسے اٹھے گی، کیسے بیٹھے گی، کیا کھائے گی، کیا پیے گی، نوکری کرے گی یا نہیں، ان سب باتوں کو طے کرنے کا اختیار تو ’کسی اور‘ کے پاس ہے۔افسوس،ایسی ایسی کہانیاں ہمارے معاشرے میں بکھری پڑی ہیں جن کو سمیٹتے سمیٹتے روح تک زخمی ہو جائے۔

المیہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں عورت غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے،ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں آئے روز معصوم بچیوں کو زیادتی کے بعد مار دیا جاتا ہے،کبھی کوڑے کی طرح کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے، کبھی زندہ ہی کسی اندھے کنویں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ہم دو چار دن افسوس کرتے ہیں، تبریٰ کرتے ہیں اور پھر اپنی اپنی زندگیوں میں کھو ہو جاتے ہیں۔کاش! ان عناصر کو سزا دینے کا عمل تیز ہو جائے تو شائد صورتِ حال بہتر ہو جائے لیکن اتنی فرصت کسے ہے۔

ہم توایک ایسے دیس کے باسی ہیں جہاں راہ چلتی عورت پر جملے کسے جاتے ہیں، گھر سے باہر نکلنے والی عور ت کو عجیب و غریب کلمات سے نوازا جاتا ہے، ایسی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ روح بھی کانپ جائے۔عورت کو مرضی سے شادی کا حق نہیں دیا جاتا، جائیداد میں حصہ دینے کا وقت آئے تو اپنے ہی پرائے ہو جاتے ہیں، ساتھ پلنے بڑھنے والے بھائی انجان لگنے لگتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک سیمینار میں جب میں نے کہا کہ میرے والد نے جائیداد میں میرا حصہ بھی اتنا ہی رکھا ہے جتنا کہ میرے بھائیوں کا، تو ایک لڑکے نے اُٹھ کر کہا کہ یہ تو غلط ہے، غیر شرعی ہے،وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں، اس ذہنیت پر اس وقت بے اختیار سر پیٹنے کو دل کیا۔

اور ابھی چند روز سے جو طوفان بد تمیزی برپا ہے،وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارا ملک، پوری قوم ایک ہی نعرے میں اُلجھ کر رہ گئے ہیں، اس کے حق اور مخالفت میں ایسی ایسی منطقیں پیش کی جارہی ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے، ایسی ایسی تاویلیں سننے اور پڑھنے کو مل رہی ہیں کہ رہے رب کا نام،اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے،کھلم کھلا گالم گلوچ ہو رہی ہے،اپنے آپ کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی جنگ جاری ہے،افسوس اس بات کا ہے کہ اس سارے ہنگامے میں، لفظوں کی اس گولہ باری میں بنیادی مقصدتو کہیں کھوہی گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ جو عورت کل مشکلات کا شکار تھی وہ آج بھی ہے، جو عورت کل تشدد کا شکار تھی وہ آج بھی ہے، جس پر کل زندگی تنگ تھی اس کو آج بھی انہی حالات کا سامنا ہے،جس عورت کی روز تحقیر کی جاتی ہے، جس کی عزت نفس روز کچلی جاتی ہے اس کو کوئی نعرہ تسکین نہیں پہنچاتا، اس کو کوئی بحث سکون نہیں دیتی۔کوئی ’عورت مارچ‘ کرنا چاہتا ہے شوق سے کرے، کوئی ’تحریک نسواں‘ پر یقین رکھتا ہے تو یہ اس کا حق ہے، کوئی ’حیا ڈے‘ منانا چاہتا ہے تو اس کا اختیار بھی اسے حاصل ہے۔

ہر ایک کا اپنا نقطہ نظر ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نہ آزادی کی اندھی آرزو کی جا سکتی ہے اور نہ ہی غلامی کے اندھے کنویں میں زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ ہم اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں،کبھی معاشرتی اقدار کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی لبرل ازم کا سہارا لینے کو کوشش کرتے ہیں۔یہ مارچ، یہ تحریکیں کسی کام نہیں آئیں گی،ان سے کچھ خاص افاقہ نہیں ہو گا،نعروں سے کام چلتا ہوتا تو شائد ہم دنیا فتح کر چکے ہوتے، دھرنے حکومتی تختے الٹ چکے ہوتے، احتجاج سے تمام مسائل حل ہو چکے ہوتے۔اس وقت اگر ضرورت ہے تو وہ رویے بدلنے کی ہے، صحیح اور غلط میں پہچان کرنے کی ہے، فرسودہ روایات سے دامن چھڑا لینے کی ہے اور اس کی ابتدا اپنے گھر سے کرنا ہو گی۔

مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ ہمارے یہاں بیٹے اور بیٹی کی تربیت کے پیمانے مختلف کیوں ہیں؟عزت کو صرف ایک ہی صنف کی میراث کیوں سمجھا جاتا ہے؟ ہماری لڑائی آخر کس سے ہے؟اپنے ہی باپ سے، بھائی سے، شوہر سے؟برتری ثابت کرنی ہے تو کس پر؟ اپنی ہی بیوی، بیٹی، بہن پر؟آخر کیوں ہم ایک دوسرے کے مقابل ہی کھڑے رہنا چاہتے ہیں؟آخر کیوں ہم ساتھ نہیں چل سکتے؟

آئیے خواتین کے اس عالمی د ن کے موقع پر ’مقابل نہیں ساتھ‘ کا نعرہ بلند کریں، جو مزہ ساتھ دینے میں ہے وہ مقابل کھڑے میں ہونے میں ہرگز نہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور