عمر کوٹ کی عوام میں سیاسی خوف اور جمود کو توڑنے کے لئے یہاں پر الیکشن لڑنے آیا ہوں: ڈاکٹر ارباب غلام رحیم

عمر کوٹ کی عوام میں سیاسی خوف اور جمود کو توڑنے کے لئے یہاں پر الیکشن لڑنے آیا ...
عمر کوٹ کی عوام میں سیاسی خوف اور جمود کو توڑنے کے لئے یہاں پر الیکشن لڑنے آیا ہوں: ڈاکٹر ارباب غلام رحیم

  



عمرکوٹ(سید ریحان شبیر ) عمرکوٹ ضلع کے حلقہ پی ایس 52  پر صوبائی اسمبلی کی  نشست کے لیے جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کے  مشترکہ امیدوار سابق وزیراعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے نامزدگی فارم کی جانچ پڑتال کے بعد بحال کر دیے گئے ۔ اس موقع پر آر او آفس میں جی ڈی اے امیدوار کے ہمراہ فقیر جادم منگریو ، ارباب ابراہیم ارباب ، عنایت اللہ دیوان ، چوئتھ رام مالہی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی ۔

نامزدگی فارم کی بحالی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے کہا کہ عمر کوٹ کی عوام میں سیاسی خوف اور جمود کو توڑنے کے لئے یہاں پر الیکشن لڑنے آیا ہوں انہوں نے کہا کہ ہماری کامیابی یقینی ہے کیوں کہ پیپلزپارٹی سے پورے سندھ کی عوام بیزار ہو چکی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ میں پچاس   سالوں سے الیکشن لڑتا ہوا آ رہا ہوں صرف دو الیکشن میں شکست کا سامنا ہوا ہے باقی تمام الیکشن جیت کر عوام کی خدمت کرتا رہا ہوں پیپلزپارٹی  صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حیرت کی بات ہے مسلسل 11 سالوں سے سندھ میں  حکمرانی کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں پر سرکاری عمارات کی کمی ہے جہاں پر الیکشن کرائے جا سکے ۔

ان کا کہنا تھا کہ نہ جانے کیوں یہاں پی پیپلزپارٹی کی مقامی سیاستدانوں نے عوام کی خدمت کو ترجیح نہیں دی یہاں کی عوام کو ان سے سوال کرنے چاہیے انہوں نےاپنے دور میں کیے گئے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بتایا کہ جب ہم اقتدار میں تھے تو پورے سندھ میں ہم نے ترقیاتی کام کرائے اور لوگوں کی بے لوث خدمت کی  انہوں نے کہا کہ جب میں وزیراعلی سندھ تھا تو پورے سندھ کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے تھرپارکر اور عمرکوٹ کے گاؤں میں روڈ اور پانی کی سہولیات فراہم کیں ۔

ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے مزید کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن کے رولز کے تحت ڈی سی اور پولیس ایس پی کچھ بھی نہیں کر سکتے وہ صرف انتظامات سنبھال سکتے ہیں اس لیے عوام بے خوف ہوکر اپنے ووٹ کاسٹ بھرپور طریقے سے کرائے حلقہ پی ایس 52 پر جی ڈی اے کے امیدوار ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک مقامی سیاسی رہنما نے کہا کہ مجھے سید ہونے پر فخر نہیں ہے بلکہ کسی اور ذات پر فخر یے اس بات پر مجھے بڑا افسوس ہوا ہے میں سمجھتا ہوں سید کو تو ہندو بھی اہمیت دیتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہوتا کے اگر میں سید ہوتاآج پی پی امیدوار سید امیر علی شاہ و دیگر امیدواران کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی عمرکوٹ میں ضمنی الیکشن کےحوالے سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہے  ہندو پنچائت عمرکوٹ کی  جانب سے ماروی "لامبا"گراونڈ عمرکوٹ کی جانب سےہولی    کی  مناسبت سےایک بڑا رنگارنگ فنکشن میوزیکل نائٹ پروگرام رکھاگیاہے اس  ہولی کےفنکشن میں پیپلزپارٹی سندھ کی قیادت بھرپور شرکت کرکے سید امیر علی شاہ کی انتخابی مہم شروع کریں گی اس ہولی فنکشن میں سندھ کےنامور گلوکار موسیقار اپنے فن کا مظاہرہ کرینگے ہولی کےحوالے سے ڈانڈیا وغیرہ بھی پیش کیا جائے گا.

مزید : علاقائی /سندھ /عمرکوٹ