عورت مارچ معاشرے کی اہم ترین ضرورت ہے

عورت مارچ معاشرے کی اہم ترین ضرورت ہے
عورت مارچ معاشرے کی اہم ترین ضرورت ہے

  



تحریر: اعظم پیرزادہ

گزشتہ سال اور اس سال میں ایک واضح فرق تو محسوس ہو رہا ہےکہ گزشتہ برس عورت کا دن منایا گیا اور اس کے بعد لمبے عرصے تک اس کی باز گشت سنی گئی۔شاید ہی کوئی صاحب قلم ہو جس نے اس موضوع پر قلمکاری نہ کی ہو یا ٹاک شوز، اور سوشل میڈیا پر بحث نہ چھڑی ہو۔مگر اس سال کھیل اور بھی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کہ مصداق ابھی عورت کا عالمی دن آیا نہیں اور ہر جگہ نا صرف موضوع بحث بنا ہوا ہے بلکہ اب تو نوبت ذاتیات اور گالم گلوچ تک پہنچ چکی ہے۔

مسئلہ وہی ازل کا ہے جو ابد تک رہنا بھی ہے۔عورت کو ہمیشہ سے اپنا آپ مظلوم اور مقید لگا ہے اور اس میں بہت حد تک سچائی بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے قوموں نے عورتوں کو ہمیشہ ایک جسم سمجھ کر ہی استعمال کیا ہے۔لڑائی میں صلح کروانی ہو، کسی سے بدلہ لینا ہو،کسی کو لڑائی پر اکسانا ہو، شملہ اونچا رکھنا ہو یا جنگوں کے بعد مال غنیمت کے طور پر لوٹنا ہو۔۔عورت بہترین نشانہ بنی رہی ہے۔اس لئے بجائے غصہ ہونے کے یا عورت کو نفرت سے جھڑکنے کے ان کے مسئلہ کو سمجھنا چاہیئے۔

لیکن یہاں پر ایک اضافہ بھی کرنا ضروری ہے کہ گھر کے مرد اور معاشرے کے مرد کے میں بھی فرق محسوس کرنا چاہئیے کہ اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے عدم تحفظ احساسات کو اپنے گھر کے مردوں سے شیئر کریں ناکہ سب کو ایک ہی تھالی کا چٹہ بٹہ سمجھ لیں۔ اب دیکھیں نا مثال کے طور پر اگر (خدانخواستہ) کسی عورت کو سڑک سے گزرتے ہوئے کوئی مرد گھور کر دیکھتا یاآواز کستا ہے تو کیا اس عورت کو گھر کے مرد سے تحفظ درکار کرنا چاہیئے یا اسی سے لڑ پڑنا چاہیئے؟

ایسے میں گزشتہ برس کے عورت مارچ کے بینزر پر لکھے نعرے دیکھیں تو صاف لگتا ہے کہ یہ مارچ عورتوں کی حمایت سے زیادہ مردوں کی نفرت میں کیاجارہا تھا۔اب دیکھیں نا۔۔۔ اپنے موزے خود ڈھونڈو۔۔۔۔میرا جسم میری مرضی۔۔۔۔لو میں ایسے بیٹھ گئی۔۔۔ہیپی ڈائیورسڈ۔۔۔اور دیگر گالم گلوچ یا نفرت انگیز نعروں کا کیا معنی؟وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں ایک عورت دو دفعہ وزیر اعظم رہ چکی ہو، کھیل کے میدان سے جنگ کے میدان کی سپاہی عورت کے روپ میں موجود ہو۔بیوروکریسی کے اختیارات ہوں یا سیاسی خدمات ہر جگہ عورت کے الگ تشخص کو تسلیم کیا جارہا ہے۔قانون کے ایوانوں میں عورت کی موجودگی بھی اگر عدم تحفظ پر تعبیر ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔سو یہ نعرے ہمارے ملک و معاشرے کے لئے قطعاََ موزوں نہیں تھے۔۔۔ہاں اگر ایسا کرنا جائز ہے تو ان نام نہاد لبرل ملکوں میں ہی جائز ہو سکتا ہے جہاں عورت کو حقوق کے نام پر مزید ذلتوں میں دھکیل دیا گیا ہے۔جہاں صرف زندگی کو انجوئے کرنے کے لئے عورت کو ساتھ رکھا جاتا ہے اور جب بچے پیدا ہو جاتے ہیں تو ان کی پرورش اور کفالت کے لئے وہی عورت ٹکے ٹکے کے لوگوں کے آگے رسوا ہوتی ہے۔جہاں بس میں عورت کو برابر ی دیتے ہوئے اسے بھی لٹک کر یا کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے۔جہاں لمبی قطاروں اور عوام کے دھکوں کی ذلت کا شکار عورت کو بھی برابر کاہی ہونا پڑتا ہے۔جہاں عورتوں کو دفاتر میں قابلیت سے زیادہ جسمانی ساخت کی وجہ سے نوکری دی جاتی ہے۔

مانا ملک عزیز میں بھی یہ خامیاں ہیں لیکن انفرادی حد تک۔۔۔کسی باہر کے فرد کی غلطی کا بدلہ اپنے گھر کے لوگوں سے لینا کہاں کی دانشمندی ہے؟

اسلام کی بنیادی تعلیمات کا جزو ہے کہ جب بھی آپ نے کسی سے اپنی بات منوانی ہو تو نرمی اور محبت سے بات کریں۔قرآن پاک جو ہر قبیلہ، گروہ،ذات برداری، نسل اور جنس کے سر چشمہ ہدایت ہے اس میں خود اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو فرعون تک سے بات کرنے کے لئے بھیجتے ہوئے نرمی سے بات کرنے کی ہدایت فرماتے ہیں۔کبھی سوچا ہے کہ کیا مطلب ہے اس کا؟صاف سی بات ہے انسان کا دشمن انسان نہیں بلکہ شیطان ملعون ہے جو تمام انسانوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے اس کے لئے مرد عورت کا کوئی فرق نہیں،مسلم غیر مسلم اورگورا کالا سب ایک آدم کی اولاد ہیں اور اسی آدم کی اولاد کو بھٹکانے اور لڑانے کا عہد کیا تھا شیطان نے۔۔۔سو اب ہم آپس میں لڑنے سے پہلے کیوں نہیں سوچتے کہ کہیں ہم جانے انجانے میں شیطان کے آلہ کار تو نہیں بن رہے۔اور ہماری اس لڑائی سے ہم سے زیادہ تو شیطان کے مقصد کی تکمیل ہو رہی ہے۔

سو مرد اور عورت کے بیچ نفرت کا بیج بونے کی بجائے ان کو ایک دوسرے کی اہمیت تسلیم کرنی چاہیئے۔کوئی کسی سے کم تر نہیں اور کوئی کسی کا افسر مقرر نہیں ہے۔زور زبردستی اور جبر سے انکار چودہ سو سال پہلے ہی کردیا گیا تھا۔عورت سے تلخ اور تند لہجے کی گرفت ہمارے مذہب نے بہت پہلے ہی کر لی تھی پھر آج کوئی کیسے مذہب کے نام پر عورت کو ارزاں اور حقیر سمجھ سکتا ہے؟اگر آج بھی کوئی عورت کو غیرت کے نام پر قتل کرتا ہے یا عزت کے ڈر سے زندہ دفن کرتا ہے، آج بھی کوئی صلح کے لئے عورت کو بھیڑ بکری کی طرح استعمال کرتا ہے یا مال غنیمت سمجھ کر لوٹنے کی کوشش کرتا ہے تو یقین مانئیے وہ مذہب کا مجرم ہے اس کے لئے معاشرہ بھی وہی سزا مقرر کرے جو مذہب دیتا ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنا مردوں کے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

عورت کا گناہ اور مرد کا گناہ ایک برابر ہے اگر گناہ کے بعد مرد کو معاف کر دیتا ہے یا اس کے گناہ کو معاشرہ بھلا دیتا ہے تو عورت کو یہ سہولت میسرکیوں نہیں؟گھر کی عزت کا بوجھ بیٹے کے کاندھوں پر بھی اتنا ہی ہونا چاہیئے جتنا بیٹی کے سر پر ڈالا جاتا ہے۔راہ چلتی لڑکی جسم ڈھانپ کر چلے تو لڑکے کو بھی سر جھکا کر چلنا چاہیئے۔عورت اپنی زبان سنبھالے تو مرد کو بھی چاہیئے اپنے ہاتھ سنبھالے۔۔۔یہی برابری کا اصول ہے جو اسلام وضع کرتا ہے۔ اسی طرح کے مسائل کو عورت کے حقوق کے طور پر زیر بحث لانے کے لئے ہر سال عورت مارچ ضرور ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔جس میں عورتوں کے اصلی حقوق (جیسا کہ۔۔۔تعلیم سب کے لئے۔۔۔جائیداد میں میرا حق بھی ہے۔۔۔عزت دو- عزت پر قربان نہ کرو۔۔۔غیرت سب کی برابر ہوتی ہے۔۔۔۔ہاتھ،آواز اور نظریں نیچی رکھو۔۔۔۔میراصرف جسم ہی نہیں روح بھی ہے۔۔۔میری اور آپ کی بہن کی عزت ایک برابر ہے۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ) جو واقعی میں ضروری بھی ہیں اس طرح کے نعرے بلند کئے جائیں تو دل خوش فہم کا دعویٰ ہے کہ اسلام پسند اور پڑھے لکھے مردوں کی اکثریت بھی اپنی خواتین کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔کیونکہ ایسے مارچ کا مقصد معاشرے کی تعلیم و تربیت اور شعور کی آگہی ہوگا نہ کہ ذاتی اور جنسی نفرتوں کو مزید فروغ دینا۔مرد اور عورت مل کر اینٹ اور سیمنٹ کی عمارت کو گھر بناتے ہیں اور انھی دو جنسوں کی باہمی عزت اور محبت گھر کو جنت بنا دیتی ہے۔مرد کو گالی دینے سے پہلے اپنے بھائی اور باپ کو ذہن میں لانا یا کسی عورت کوبرا بھلا کہنے یا ہراساں کرنے سے پہلے اپنی بیٹی یا بہن کا تصور ذہن میں لانا غیرت کی علامت ہے۔اورغیرت مند افراد عزت دیتے ہیں لوٹتے نہیں۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ