چین میں فیکٹری مالکان کام نہ ہونے کے باوجود تمام بتیاں کھلی چھوڑ کر کیوں بیٹھے رہتے ہیں؟ انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آگیا

چین میں فیکٹری مالکان کام نہ ہونے کے باوجود تمام بتیاں کھلی چھوڑ کر کیوں ...
چین میں فیکٹری مالکان کام نہ ہونے کے باوجود تمام بتیاں کھلی چھوڑ کر کیوں بیٹھے رہتے ہیں؟ انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آگیا

  



بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے چین کی فیکٹریاں اور کمپنیاں سنسان ہو گئی تھیں تاہم اب ورکرز واپس آنے لگے ہیں اور کام کسی طور معمول پر آ رہا ہے لیکن اب کاروباری افراد کے متعلق ایک حیران کن انکشاف بھی سامنے آ گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق چینی حکام کو ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ کاروباری لوگ فیکٹریوں کی لائٹس اور مشینری جان بوجھ کر چلتی چھوڑ رہے ہیں تاکہ حکام سمجھیں کہ ان کی فیکٹریوں میں کام دوبارہ معمول پر آ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکام فیکٹریوں میں کام معمول پر آنے کا اندازہ ان کی بجلی کی کھپت سے لگا رہے ہیں، چنانچہ کاروباری لیڈرز لائٹس اور مشینری چالو چھوڑنے کا حربہ استعمال کررہے ہیں، تاکہ ظاہر کر سکیں کہ ان کی فیکٹری میں کام معمول کے مطابق ہو رہا ہے اور اس طرح مقامی حکومتوں کے دباﺅ سے بچ سکیں۔ رپورٹ کے مطابق وائرس پھیلنے کے باوجود حکومت نے اضلاع کی انتظامیہ پر دباﺅ ڈالا کہ وہ فیکٹریوں اور کمپنیوں میں کام معمول کے مطابق چالو رکھوائیں۔

اس مقصد کے لیے مقامی حکومتوں نے بجلی کی قیمتیں بھی کم کر دیں اور لازمی پیداواری کوٹا بھی لاگو کر دیا لیکن ورکرز نہ آنے کی وجہ سے کمپنیاں اور فیکٹریاں بند ہوتی چلی گئیں۔ اب کاروباری افراد نے مقامی حکومتوں کے اس دباﺅ کا حل یہ نکالا ہے کہ انہوں نے لائٹس اور مشینری چالو رکھنی شروع کر دی ہے تاکہ مقامی حکام بجلی کی کھپت سے سمجھیں کہ وہاں کام معمول کے مطابق ہو رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی