خلیل الرحمان قمراب کیاکریں؟

خلیل الرحمان قمراب کیاکریں؟
خلیل الرحمان قمراب کیاکریں؟

  



کچھ روزقبل میں نے ایک بلاگ لکھاجس میں گزارش کرنے کی کوشش کی کہ ہماری نئی نسل ہماری گفتگو،ہمارے انداز،طرزعمل سے سیکھتی ہے،بچے وہ سب کاپی کرتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں لہذا دانشمندی یہی ہوتی ہےکہ کچھ ایسانہ کیاجائے جوبچوں کی تربیت پربری طرح اثراندازہو،میں ذاتی طورپراپنے بیٹے کوسوالوں کے جواب دےدےکربعض دفعہ تھک جاتاہوں،کچھ سوال ایسےبھی ہوتے ہیں جن میں الجھناابھی اس کی عمرنہیں لیکن اب کیاکریں؟موبائل فون میں سب کچھ ہے، ایک بٹن دباؤاورجومواد وہاں دستیاب ہوگاوہی حرف آخرسمجھ کربچے اپنے دماغ میں بٹھا لیں گے،اس لیے کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنی زبان سے ہی سوالات کے ایسے جوابات بچے کودیئے جائیں جودرست بھی ہوں اورجن سے اس کی تربیت پربھی برا اثرنہ پڑے۔

عورت مارچ کے معاملے پرماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمرکے درمیان ہونے والی نازیباگفتگوکے بعدمختلف ٹی وی شوزپراس پرمزیدشعلے بھڑکائے گئے اور پھر ایک طبقےحتی کہ مذہبی شخصیات نےبھی خلیل الرحمان قمرکے حق میں خوب قصیدے پڑے،پھرمختلف صحافیوں نےان سے انٹرویولینے کی کوشش کی تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچیں کہ ٹی وی شوپراس نہج تک معاملہ کیسے پہنچ گیاکہ جناب کوپروگرام کی دوسری مہمان کوالو کی پھٹی تک کہناپڑ گیا۔اسی کوشش میں ہمارے صحافی بھائی اوردھیمے مزاج کے مالک فرخ شہبازوڑائچ بھی اُن کاانٹرویولینے پہنچ گئے،اس کے بعدکیاہوا،آپ فرخ شہبازوڑائچ کی فیس بک وال سے جاکر وہ ویڈیودیکھیں توآپ کو اندازہ ہوکہ انہیں کس حدتک اپنی زبان پرکنٹرول ہے،ہم نے مان لیاکہ ماروی سرمدنے آف کیمرہ کچھ ایسی گفتگو کی اورمعاملہ بھی کچھ ایساتھا کہ انہیں غصہ آگیا،یاپھریوں کہہ لیجیے کہ انہیں غصہ دلایاگیاتاکہ وہ آن ائیربھی کچھ ایسابولیں جس سے عورت مارچ کے منتظمین کومفت کی تشہیرمل جائے اورسچ بھی یہی ہے کہ عورت مارچ کوکروڑروں روپے لگاکربھی اتنی تشہیرنہ ملتی جتنی اس ٹی وی شو کے بعدملی،خیرہرنئی خبرکے بعدپرانی دفن ہوجاتی ہے اور رفتہ رفتہ نام ونشان تک نہیں رہتا اور یہ المیہ بھی ہے کہ بعض دفعہ کچھ اہم مسائل بھی سردخانوں کی نذرہوجاتے ہیں کہ پرانی خبرمیڈیا کونہیں چاہیے اورہم نئے ایشوز کی طرف بڑھ جاتے ہیں کہ ڈیمانڈبھی یہی ہوتی ہے کہ بھئی پرانا ہوگیاہے سب کچھ ۔۔اب کچھ نیالاؤ،مصالحے دار،چٹ پٹا ہوتاکہ دنیادیکھے۔اس لیے نت نئے کی تلاش آج کے صحافی کی ذمہ داری بھی بن چکی ہے۔

ہم بات کررہے تھے فرخ شہبازوڑائچ کیساتھ ہونے والی بدزبانی کی،کہتے ہیں الفاظ بعض دفعہ زہرآلودخنجرسے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں اوربروقت اور درست موقع پران کی ادائیگی بالکل زہرقاتل کابھی کام کرتی ہے۔جو جو الفاظ خلیل الرحمان قمرکی زبان سے اداہورہے ہیں،وہ ہمارے معاشرے کی اخلاقیات پربری طرح اثراندازہورہے ہیں،جب ایک طرف سے سوالات کودھیمے اندازمیں کیاجارہاہے اوروہ سوالات جو دنیا جانناچاہتی ہے،ان پرجواب دینے کی بجائے نہ صرف سخت زبان کااستعمال بلکہ بدتمیزی کے زمرے میں آتے جوابات پرہم توکم ازکم افسوس ہی کرسکتے ہیں کیوں کہ ہربندہ خلیل الرحمان قمرتونہیں ہوسکتاکہ انہیں ویسے ہی الفاظ سے پکارے،ان کے بارے میں ویسی ہی زبان استعمال کرے جوانہوں نے کرناشروع کردی ہے۔

اگرخلیل الرحمان قمرکوسوالوں کے جواب دیناپسند نہیں توآسان سا کام ہے،وہ کچھ دن کسی پرفضاعلاقے میں تشریف لے جائیں،یابیرون ملک چلے جائیں کہ جب تک یہ معاملہ ٹھنڈانہیں ہوجاتا،کم ازکم آئے روزہمیں سوشل میڈیا پرایسے کلپ تونہیں ملیں گے جن میں اُن کا نئے سے نیاچہرہ بے نقاب ہورہاہے،ممکن ہے وہ دل کے اچھے ہوں مگرزبان ان کے دل کی دلالت نہیں کررہی اور عام لوگ تو زبان اور طرزعمل سے ہی اندازہ لگائیں گے،وہ جو کسی کو اپنے قریب تک نہیں آنے دے رہے ،دل تک کون پہنچنے کی جرات کرسکتاہے۔

اگروہ برانہ منائیں توانہیں ایک مشورہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خطائیں معاف فرمانے والاہے،اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں اورجن جن لوگوں کے دل دکھائے ہیں،ایک اجتماعی معذرت کی ویڈیو بناکرسوشل میڈیا پراپ لوڈ کردیں تاکہ آپ پرجوبدزبانی کادھبہ لگ چکاہے،یہ دھل جائے،جب رابی پیرزادہ ایک ویڈیو کے بعدتائب ہونے کی ویڈیوبناکرقوم کے دلوں میں نیک سیرت بن چکی ہیں توآپ نے توابھی رابی کے مقابلے میں کچھ ایسانہیں کیا،جو ریکارڈ کاحصہ ہو۔سب معاملہ ٹھیک ہوجائے گا،عہدکرلیں کہ یا توآپ کچھ دن گوشہ نشین ہوجائیں یاپھرہرسوال کاتحمل سے جواب دینے کاعہدکرلیں کہ خدا معاف فرمانے والا ہے اور بندہ توپھرخدا کابندہ ہے ، کیوں نہیں معاف کرے گا؟۔فرخ شہبازوڑائچ بھی اچھا بندہ ہے،ایک مسکراہٹ سے مخالفت دوستی میں بدل جائے گی،اس نے کون سا آپ کیساتھ زمینیں بانٹنی ہیں؟۔

بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک نجی ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پراُن سے رابطہ کیا جا سکتا ہے (www.facebook.com/munazer.ali)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ