8مارچ……یوم خواتین اور سالِ رواں 

8مارچ……یوم خواتین اور سالِ رواں 

  

سو سال پہلے شروع ہونے والی خواتین کی جدوجہد رنگ لا رہی ہے

پاکستان میں مریم نواز نے پذیرائی حاصل کی ہے، آصفہ بھٹو نے بھی خوب انٹری دی 

مارچ کے پہلے عشرے کی8تاریخ کو پاکستان سمیت دُنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن روایتی جذبے اور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اِس دن تقریبات منعقد ہوتی ہیں،حکومت کی طرف سے خواتین کے حقوق کے حوالے سے مختلف مراعات کا اعلان کیا جاتا ہے، خواتین کی کارکردگی کو سراہا جاتا ہے اور ان کی خدمات پر اُنہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ پاکستان میں خواتین کا عالمی دن اس مہینے میں منایا جاتا ہے جب بہار کا موسم پورے جوبن پر ہوتا ہے۔ اس روز عالمی دن کی مناسبت سے جو تقریبات منعقد ہوتی ہیں ان میں خواتین نت نئے اور خوبصورت ڈیزائن کے مختلف قسم کے ملبوسات زیب تن کر کے شریک ہوتی ہیں،اس طرح موسم بہار کے رنگوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اللہ بزرگ و برتر نے عورت کو دُنیا کے رنگ برنگے باغ میں بہار کی حیثیت سے بنایا ہے اُس کا مقام بہن سے لے کر ماں تک انتہائی معتبر اور تکریم کے قابل ہے،لیکن معاشرے کے بعض حلقوں نے جہاں خدا تعالیٰ کی دیگر نعمتوں کی ناشکری کی ہے رب العزت کے اس تحفہ کی بھی اُسی طرح قدر نہیں کی،جو اُس پر فرض بھی تھا اور معاشرے کی بھلائی کے لئے ضروری بھی تھا اگر قدرت کے نظام پر مکمل عمل کیا جاتا تو آج ساری دُنیا امن کا گہوارہ ہوتی، عورت کو اللہ تعالیٰ نے صبر اور امن کی قوت سے نوازا ہے وہ تمام ظلم اور جبر برداشت کر کے بھی گھر ٹوٹنے سے بچاتی ہے، تکلیفیں برداشت کرتی ہے، لیکن اولاد کو گلے لگائے بُرے حالات میں بھی بہتر مستقبل کی نوید دیتی ہے، جہاں کہیں عورت کا رویہ سخت نظر آتا ہے وہ اُس عمل کا ردعمل ہے جو اُسے کمزور لاچار سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ عورت نے ہر دور میں جب سے کائنات وجود میں آئی ہے اپنی جدوجہد کو منوایا ہے، معاشرے کی اقدار میں بہتری کے لئے عورت کا کردار ناقابل ِ فراموش ہے۔

 عورت نے اپنی جدوجہد کے ذریعے ہی اپنے حقوق حاصل کئے ہیں اگرچہ اُسے معاشرتی ناہمواری کی وجہ سے مکمل حقوق طویل عرصہ کے بعد بھی نہیں مل سکے، لیکن اُس کی جدوجہد نے یہ امر بین الاقوامی طور پر اور دُنیا کے اعلیٰ اداروں سے تسلیم کرا لیا ہے کہ اُس کے حقوق غصب ہیں جنہیں پورا کیے بغیر سائنسی ترقی کے دور میں بھی دُنیا وہ کچھ حاصل نہیں کر سکتی جو اس کا مقصد اور ضرورت بھی ہے۔

خواتین نے اپنے حقوق اور وجود کو منوانے کے لئے بیسویں صدی کے آغاز میں جدوجہد شروع کی۔3مئی1908ء کو پہلا اجلاس واشنگٹن میں ہوا،جس میں شریک مختصر تعداد کے مندوبین نے آئندہ لائحہ عمل طے کیا اور باقاعدہ اجلاس 8مارچ1910ء میں کوپن ہیگن میں منعقد ہوا۔ یہ پہلی خواتین انٹرنیشنل کانفرنس تھی جس میں 17 ممالک کی مندوبین نے شرکت کی، اس میں ورکنگ کلاس ویمن کے حالات کار کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر جرمن سوشلسٹ پارٹی نے بھرپور شرکت کی یہ تحریک امریکہ، یورپ سے نکل کر کمیونسٹ ممالک میں بھی پھیل گئی وہاں پابندیوں کے باوجود اس تحریک کو پذیرائی حاصل ہوئی، کانفرنس کے اگلے سال 1911ء میں عورتوں کے حقوق کے لئے پہلی مرتبہ مظاہرے کئے گئے،جو 300مقامات پر ہوئے جس کے بعد دُنیا میں خواتین کے لئے آواز بلند ہونا شروع ہوئی، اس جدوجہد کے نتیجہ میں خواتین کے احترام اور حقوق کے لئے قوانین وضع کئے گئے، خصوصی عدالتیں بھی بنائی گئیں۔

برصغیر پاک و ہند میں جو خواتین کے سلسلے میں پسماندہ ممالک ہیں، عورتوں نے انتہائی دلیری اور دانشوری کا مظاہرہ کیا۔جھانسی کی رانی نے ثابت کیا کہ عورت تلوار کی لڑائی بھی لڑ سکتی ہے وہاں کشمیر کی آواز آسیہ اندرابی نے باور کرا دیا کہ مظلوم کشمیریوں کی لڑائی صرف مردوں کے ذمہ نہیں ہے۔وہ بھارتی ظلم و جبر کے سامنے ڈٹ گئیں اور آج بھی اپنے موقف پر قائم اور جیل کاٹ رہی ہیں۔اس سلسلے میں بھارتی دانشور اور لکھاری ارون دھتی رائے کا کردار بھی قابل ِ ستائش ہے۔ کیرالہ میں پیدا ہونے والی اِس خاتون کی حیثیت پسے ہوئے طبقات کے لئے آواز بلند کرنے والی ایکٹوسٹ کے طور پر سامنے آئی ہے جس نے انسانی حقوق کے لئے بڑا کام کیا اور کشمیر کے مظلوم و بے بس لوگوں پر اس کے لکھے مضامین نے دُنیا کی توجہ حاصل کی ہے۔کشمیر کے حوالے سے یہ سال آسیہ اندرابی اور ارون دھتی رائے کا ہے۔

امریکہ کی حال میں منتخب ہونے والی نائب صدر کملا ہیرسن اور اُن کی بھتیجی نے بھی دُنیا کے سامنے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور خاص طور پر کشمیر کے حالات رکھے ہیں اور اپنی تحریر اور اظہارِ خیال میں اس پر احتجاج بھی کیا ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کا نام بھی اُن خواتین میں شامل ہے، جو عورت اور مرد کے درمیان مساویانہ حقوق کی سوچ رکھتی ہیں۔ پاکستان میں اِس سال سیاست کے میدان میں دو خواتین کا نام گونجا ہے ان میں مریم نواز نے خود کو خود مختار لیڈر ثابت کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ آصفہ بھٹو نے بھی سیاست میں انٹری دے کر اپنی والدہ بے نظیر بھٹو شہید کے نقش ِ قدم پر اپنا پاؤں رکھ دیا ہے۔ فاطمہ بھٹو بھی سرگرم ہوئی ہیں لیکن اُن کی کوششیں ابھی اِن ڈور ہی ہیں۔انہوں نے اپنی پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی تنظیم سازی پر کسی حد تک توجہ دی ہے، چار دیواری کے اندر خصوصی حلقے کے افراد سے ملاقاتیں شروع کی ہیں،لیکن ابھی وہ عوام میں نہیں آئیں۔

آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کی عالمی تنظیم انرویل ڈسٹرکٹ344 کی چیئرمین صفیہ اسلم کی خدمات پر اُنہیں خراجِ عقیدت پیش نہ کیا جائے تو یقینا یہ ناانصافی ہو گی، صفیہ اسلم ایک درویش صفت خاتون تھیں،انہیں غریب خواتین کی خدمت کر کے سکون ملتا تھا،آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں،لیکن اُن کی یادیں، اُن کی باتیں ہم کبھی بھلا نہیں پائیں گی۔ صفیہ اسلم انرویل ڈسٹرکٹ 344 پاکستان کے پلیٹ فارم سے خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات سرگرم رہیں، اللہ تعالیٰ اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام سے نوازے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ صفیہ اسلم جیسی خواتین اپنی خدمات، کاموں اور صلاحیتوں کی بدولت تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

سو سال کی طویل اور مسلسل جدوجہد کے بعد بھی خواتین ترقی پذیر تو کجا ترقی یافتہ ممالک میں بھی مسائل کا شکار ہیں،خواتین کی جدوجہد کے مکمل طور پر مقاصد حاصل نہ ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا زیادہ تر سیاست میں موجود خواتین کو کوریج دیتا ہے اُن کا لائحہ عمل خواتین کی بہبود کے بجائے حصولِ اقتدار ہوتا ہے۔ خواتین کی عالمی جدوجہد کا سب سے بڑا نتیجہ سعودی عرب میں نظر آ رہا ہے جہاں عورتوں کو اب آزادی مل رہی ہے، انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں نمائندگی دی جا رہی ہے اور اب تو خبر گرم ہے کہ عبایا پہننے کی پابندی بھی نرم کرنے پر غور ہو رہا ہے۔

٭٭٭

مقبوضہ کشمیر کی آسیہ اندرابی نے بہادری کی نئی تاریخ رقم کی 

امریکی نائب صدر کملا ہیرسن اُن کی بھتیجی بھی کشمیریوں کی آواز بنی ہیں 

جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کامیاب حکومت کے ذریعے خواتین کی اہلیت کو منوایا 

 صفیہ اسلم جیسی خواتین اپنی خدمات، کاموں اور 

صلاحیتوں کی بدولت تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی

بھارتی خاتون دانشور ارون دھتی رائے نے بھی بھارت اور کشمیر میں 

 انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کی توجہ دلائی 

مزید :

ایڈیشن 1 -