8مارچ۔۔۔ خواتین کا عالمی دن’’وجودزن سے ہے تصدیر کائنات میں رنگ ‘‘

8مارچ۔۔۔ خواتین کا عالمی دن’’وجودزن سے ہے تصدیر کائنات میں رنگ ‘‘

  

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 8مارچ کو خواتین کا عالمی کا دن منایا جاتا ہے۔ 8 مارچ کا دن دنیا بھر کی خواتین کیلئے اس لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ اس دن ساری دنیا میں خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر آواز اٹھائی جاتی ہے۔ آج سے تقریبا 106 سال قبل نیو یارک میں کپڑا بنانے والی ایک فیکٹر ی میں مسلسل دس گھنٹے کام کرنے والی خواتین نے اپنے کام کے اوقات کار میں کمی اور اجرت میں اضافے کیلئے آواز اٹھائی تو ان پر پولیس نے نہ صرف لاٹھی چارج اور وحشیانہ تشدد کیا بلکہ ان خواتین کو گھوڑوں سے بندھ کر سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ لیکن خواتین نے جبری مشقت کے خلاف تحریک جاری رکھی جس پر ریاست نے بے انتہا تشدد کیا خواتین کی مسلسل جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے نتیجے میں 1910ء میں کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 17 سے زائدممالک کی 100کے قریب خواتین نے شرکت کی جس میں عورتوں پر ہونے والے ظلم و استحصال کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ پہلی بار خواتین کا عالمی دن 19 مارچ 1911ء کو منایا گیا۔ اس روز آسٹریلیا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں انٹرنیشنل ویمن ڈے کے حوالے سے نکالی گئی ریلیو میں 10لاکھ سے زائد خواتین و حضرات شریک ہوئے، لیکن اس کے ایک ہفتہ بعد 25مارچ کو نیو یارک سٹی ورکنگ خواتین کے خون سے نہلا دیا گیافائرنگ کر کے140کارکن خواتین کی لاشیں گرا دی گئیں۔1913ء میں روس کی خواتین نے فروری کے آخری اتوار کو خواتین کا دن منایا اور فیصلہ کیا کہ آئندہ سے انٹرنیشنل ویمن ڈے ہر سال 8مارچ کو منایا جائے گا۔ اس وقت سے آج تک دنیا بھر میں 8مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ خواتین کو معاشرے میں درپیش مسائل کے حوالے سے مختلف تقریبات، سیمینار اور واکس کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔پاکستان کی 98فیصد آبادی مسلمان ہے۔لہٰذا اسلامی قوانین وراثت کے مطابق مرد اور عورت دونوں وراثت کے حقدار ہوتے ہیں، مگر آج بھی عورت کے اس حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔عورت جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ صنفِ نازک ہے ذراسی ٹھیس سے ٹوٹ جانے والی اور بزدل ہے،عورت جذباتی طور پر کمزور ہے اور اس کا واحد ہتھیار اس کے آنسو ہیں۔کیا عورت واقعی ایسی ہے؟ شاید عورت کو سمجھنے کا دعویٰ کرنے والے یہاں کچھ غلطیاں کر گئے ہیں،ان کا خیال ہے کہ عورت سہاراتلاش کرتی ہے،مرد کے بغیر ادھوری ہے ذرا سا اونچا بولو تو سہم جاتی ہے۔ دنیا ترقی یا فتہ ہوتی جا رہی ہے مگر لوگ آج تک عورت کے لیے ذہنی طور پر چادر اور چاردیواری کے تصورات میں ہی قید ہیں۔ عورت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے مرد کی زندگی کو سنوارتی ہے۔ ماں کی گود بچے کی سب سے پہلی درسگاہ ہوتی ہے بلکہ تیسری دنیا کے ممالک میں پچاس فیصد بچوں کی تعلیم وہی ہوتی ہے جو کچھ ان کی مائیں انہیں سکھاتی ہیں۔ عموماً کہاجاتا ہے کہ ہر بڑے آدمی کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ فرانس کے ایک کامیاب حکمران نپولین بونا پاٹ کے الفاظ ہیں کہ”مجھے اچھی مائیں دے دو، میں پوری دنیا فتح کرکے دکھا دوں گا“۔ جدید ترکی کے بانی مصطفےٰ کمال کبھی اتاترک نہ بن پاتے اگر ان کے پیچھے ان کی ماں زبیدہ خاتون کا کردار نمایاں نہ ہوتا۔ برصغیر کے دو اسلامی ہیرو محمد علی جوہراور شوکت علی جوہر کو تحریک آزادی ہند میں جوہر برادران کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ان دونوں بھائیوں کو جوہر بنانے کا سہرا ان کی ماں کے سر جاتا ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو بابائے قوم بنانے میں ان کی بہن مادرملت فاطمہ جناح کا بھی نہایت اہم کردارتھا۔ علامہ اقبال نے کائنات کے وجود میں عورت کو انتہائی ناگزیر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ 

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

عورت کائنات کی سب سے خوبصورت تخلیق ہے۔ اس کی شخصیت میں رنگوں اور خوشبوؤں کا حسن امتزاج ہے۔ اس کی آواز کی مدھرتا کسی خوبصورت جھرنے سے کم نہیں۔ اس کے لہجے میں چوڑیوں کی کھنکھناہٹ ہے اس کی چال غزلوں کو مات دیتی ہے۔ وہ بولتی ہے تو دور کہیں کوئلیں کوکتی ہیں۔ اس پر شاعروں اور ادیبوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ عورت حروف تہجی کے اعتبار سے ”ع۔ عزت مآب، و۔وفا کی پُتلی، ر۔راحت، ت۔تابع فرماں ہے۔ اسکی ساری زندگی رشتوں سے وفا نبھاتے، دوسروں کو راحت دیتے اور اپنے بیگانوں کی تابع فرمانی کرتے گزر جاتی ہے۔ گویا عورت نے اپنے دم قدم سے اس کائنات کو گھر کی طرح سلجھایا اور سنوارا ہے۔ ہر چیز میں اس کے سلیقے سے جان پڑ گئی ہے، قدرت نے عورت کو بہترین انتظامی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اسے وہ اوصاف عطاء کر دئیے ہیں جو کائنات میں کسی اور کے پاس نہیں۔ پروردگار عالم نے اسے تخلیق کار بنایا، ماں کے روپ میں یہ ایک پاکیزہ گہرا اور پیار بھرا رشتہ ہے۔ اس کے مقام و مرتبے کے متعلق بادی برحق نے یہ کہا ہے کہ ”جنت ماں کے قدموں تلے ہے“ گویا”ماں“ ہونا ایک ایسا اعزاز ہے جسے کسی اور کو تفویض نہیں کیا گیا۔ صرف عورت ہی اس کی حقدار ہے۔ وہ ”ماں“ کے روپ میں ”جنت“ ہے، بیٹی کے روپ میں ”رحمت“ ہے تو سراپا دعا، بیوی کی شکل میں ایثار وفا کا پیکر ہے۔ خالہ کے روپ میں ہے تو ماں کی طرح محبت نچھاور کرنے والی، پھوپھی ہے تو بھائی کے بچوں پر واری صدقے ہوجاتی ہے، بہو ہے تو گھر کی زینت اور بھابھی کے روپ میں گھر کا سنگھار۔ اے عورت تجھے سلام کہ تیرے بے شمار روپ ہیں تو اپنے ہر روپ کو بخوبی نبھانا چاہتی ہے، تو اس کائنات کی زینت ہے۔یہ گھر اور دھرتی تیرے ممنون احسان ہیں کہ تیرے بغیر ان کا نظام چل نہیں سکتا۔ یہ کائنات جب تک باقی ہے تب تک عورت اس میں قوس قزح کے رنگ بھرتی رہے گی کہ اس نے اپنے وجود سے دنیا میں اُجالا کرنے کو ستاروں کی اوڑھنی اوڑھ رکھی ہے۔ خدارا! آنکھیں کھولو اور عورت کی عزت و تکریم میں اضافہ کرو اور اسے اس کا ہر جائز حق دو۔ قرآن پاک میں عورت کے وجود اور اس کے حقوق و فرائض کا باربار ذکر آیا ہے۔عورت مختلف ممالک میں سربراہ مملکت بھی ہے اور سربراہ حکومت بھی۔ برطانیہ میں آج بھی ملکہ الزبتھ کی بادشاہت ہے، اس ملک کو سب سے زیادہ عروج ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ میں ملا۔ خود پاکستان میں مادر ملت فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ ملک کی وزیراعظم بنیں، بیگم رعنا لیاقت علی خان صوبہ سندھ کی گورنر رہیں، سفارت کے عہدہ پر کئی خواتین فائز ہوئیں۔ پاکستان میں ہر شعبے میں خواتین کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ انوشکا گو چیلو پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہوں نے نارتھ پول کے آخر تک پہنچ کر پاکستان کا پرچم فضاء میں بلند کیا اور اس کے علاوہ انٹارٹیکا کا سفر کیا جہاں عام حالات میں بھی درجہ حرارت منفی پچاس سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ ملکہ ترنم نورجہاں نے اپنے جوشیلے ملی نغموں کے ذریعے 1965ء کی جنگ میں فوجی نوجوانوں کے حوصلے بلند کئے اوران کے گائے ہوئے گیت اور غزلیں آج بھی مقبول ہیں۔ پاکستانی خواتین کسی میدان میں پیچھے نہیں ہیں خواتین کی اہمیت کے حوالے سے اسلام میں اس کی مثال ایسی ملتی ہے کہ رسول ﷺ نے پہلا مشورہ حضرت خدیجہؓ الکبریٰ سے کیا۔ رسول ﷺ کا یہ عمل خواتین کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خواتین کل بھی اول تھیں آج بھی اول ہیں اور اول ہی رہیں گی۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -