مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل 

مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل 

  

”امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ فلسطین کی ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام اسرائیل کے اپنے مفاد میں ہے،کیونکہ اس طرح اسے پُرامن ماحول کی ضمانت مل جائے گی، دو ریاستی تصور دونوں فریقوں کے لئے سود مند ہے اور تنازع کا بہترین حل ہے“امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے معمول کی بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دو ریاستی حل کے ذریعے نہ صرف اسرائیل اپنے مستقبل کو یقینی بنا سکے گا، بلکہ فلسطینیوں کو بھی اُن کی اپنی ریاست مل جائے گی، جہاں وہ پُرامن زندگی گزار سکیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ فلسطینیوں کے ساتھ ازسر نو تعلقات کی بحالی چاہتی ہے،امریکہ ان تمام قوتوں کا ساتھ دے گا،جو خطے میں دیرپا اور پائیدار امن قائم کرنے کی حامی ہیں، فلسطینیوں کی مالی امداد کی بحالی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ فلسطینی باشندوں کو تعاون فراہم کرنے کے تمام طریقوں کا جائزہ لیں گے، انہوں نے اسرائیل اور فلسطین پر زور دیا کہ وہ باہمی مذاکرات کے ذریعے یہ دیرینہ تنازع حل کریں۔

امریکہ میں بہت سے سابق صدور جو اب بھی بقید حیات ہیں یہ سمجھتے ہیں اور کھل کر اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ فلسطین کی ایک آزاد و خود مختار ریاست کا قیام نہ صرف فلسطینیوں کا حق ہے،بلکہ اس کے بغیر کسی بھی دوسرے طریقے کے ذریعے خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں،لیکن اِن سب سابق صدور کی رائے کے برعکس صدر ٹرمپ نے اپنے دور میں دو ریاستی حل کو مسترد کر دیا،کیونکہ اسرائیل اس کے لئے تیار نہیں تھا اور اُن کے یہودی داماد جنہیں مشرقِ وسطیٰ میں امن کا مشن سونپا گیا تھا۔اسرائیل نوازی میں تمام حدود و قیود پار کر گئے تھے، چنانچہ ان کے دور میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کا جو منصوبہ پیش کیا گیا اور جسے ”صدی کا بہترین حل“ بھی کہا گیا اس میں اسرائیل کے لئے تو سب کچھ تھا،لیکن فلسطینیوں کی اشک شوئی کا بھی اہتمام نہ تھا، بس اُنہیں یہی مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اسرائیل کو امن کی ضمانت دیں، تشدد سے باز آ جائیں اور انہیں ”جو کچھ مل رہا ہے“ اسی پر صبر شکر کر کے مطمئن ہو کر بیٹھ رہیں۔ظاہر ہے فلسطینیوں کے پاس اس منصوبے کو مسترد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا،لیکن عملاً وہ اس کے خلاف کوئی موثر احتجاج بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے عرب بھائی تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے بے قرار تھے اِس وقت کئی عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں اور بہت سے تیار بیٹھے ہیں، ان عرب ممالک میں اسرائیلیوں کی آمدورفت شروع ہو چکی ہے،پروازیں آ جا رہی ہیں، اسرائیلیوں کی مہمان نوازی کے لئے کوشر کھانوں کے ریستوران بھی کھل رہے ہیں اور یوں ایک نیا مفاہمانہ کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔

اِن حالات میں جب اسرائیل کو صدر ٹرمپ کے منصوبے کے تحت بہت کچھ حاصل ہو گیا اور فلسطینی اپنوں اور پرائیوں کی دقیقہ سنجیوں کے کرشمے حیرت و استعجاب سے دیکھتے رہے، امریکہ کی نئی انتظامیہ کا یہ عزم غنیمت ہے کہ وہ دوبارہ دو ریاستی حل کی طرف پلٹ رہی ہے اور اسرائیل کو مشورہ دے رہی ہے کہ وہ فلسطین کی آزاد ریاست کو قبول کر لے۔ جوبائیڈن انتظامیہ کی یہ مراجعت اِس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ ٹرمپ تو معاملات کو جس نہج پر لے گئے تھے اور امریکی سفارت خانہ بھی بیت المقدس منتقل کر دیا گیا تھا، اُن کے ہوتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کا خواب شرمندہئ تعبیر نہیں ہو سکتا تھا اب بھی اسرائیل تو اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس پر تیار نہیں ہو گا اور امریکہ کا محض یہ مشورہ کہ اسرائیل اور فلسطین باہمی مذاکرات کے ذریعے یہ دیرینہ تنازع حل کر لیں عملاً صدا بصحرا ثابت ہو گا،کیونکہ اسرائیل تو فلسطینیوں کو اُن کا یہ حق دینے کے لئے تیار ہی نہیں،حالانکہ اگر وہ یہ مطالبہ مان لے تو اس میں خود یہودی ریاست کے تحفظ کی ضمانت پوشیدہ ہے اور امریکہ کا یہ خیال بھی بالکل درست ہے کہ اگر فلسطینی ریاست قائم ہو جائے تو یہ امن کی ضمانت ہو سکتی ہے۔

جو اسرائیل نواز ممالک اب بھی فلسطینی ریاست کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کو ممکن خیال کرتے ہیں اُن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اسرائیل نہ تو فلسطینیوں کو یہودی ریاست کا شہری بنانے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی فلسطین کی آزاد مملکت کے قیام پر آمادہ، تو پھر امن کا قیام کیونکر ممکن ہے؟ اور فلسطینی باشندے کہاں جائیں؟ ایک مختصر سے علاقے میں آزاد فلسطینی ریاست اسرائیل کے لئے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں بن سکتی، کیونکہ امریکہ سمیت اپنے مغربی سرپرستوں کے تعاون سے اسرائیل اِس وقت ایک غیر اعلانیہ ایٹمی قوت ہے،جو مشرقِ وسطیٰ کے بڑے بڑے ممالک کو بھی آنکھیں دکھاتی رہتی ہے اور اُن کے جنگوں میں چھینے ہوئے علاقے اسرائیل میں ضم کر لئے ہیں یہ عرب ممالک جو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اسرائیل کے مقابلے میں بہت بڑے ہیں، مل کر بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے، صرف مصر ایک ایسا ملک ہے جس نے کیمپ ڈیوڈ سمجھوتوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر کے اپنے علاقے واپس لینے میں کامیابی حاصل کی، باقی عرب دُنیا جو اب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رہی ہے انہیں بدلے میں چنددلفریب مسکراہٹوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو رہا شاید وہ اِس بات پر ہی خوش ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ اُن کی تجارت میں وسعت آ جائے گی اور وہ زراعت میں اسرائیلی ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکیں گے،ایسے میں اسرائیل کے لئے یہ بہترین وقت ہے کہ وہ امریکہ کا مشورہ مان کر دو ریاستی حل پر آمادہ ہو جائے،امن کی خاطر اس سے زیادہ سستا سودا کوئی نہیں، اسرائیل کا جنم تو فلسطینی سرزمین پر ہی ہوا تھا، بعد میں اس کی سرحدیں جارحیت کے ذریعے وسیع کی جاتی رہیں اور اب فلسطینی غزہ میں سمٹ چکے ہیں کیا یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں کہ فلسطینی اب اپنا پورا علاقہ مانگنے کی بجائے ایک محدود علاقے ہی میں آزادی کو غنیمت سمجھیں گے۔امریکہ بھی سالہا سال کی عرق ریزی کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ دو ریاستی حل ہی بہترین ہے، کسی دوسرے ذریعے سے مشرقِ وسطیٰ میں امن ممکن نہیں۔ درمیان میں صدر ٹرمپ حائل نہ ہو جاتے تو صدراوباما کے دور میں اس جانب کافی پیش رفت ہو رہی تھی،اب بائیڈن حکومت کو یہ معاملہ باہمی مذاکرات پر نہیں چھوڑ دینا چاہئے،بلکہ اسرائیل کو معقولیت کا راستہ اختیارکرنے پر مجبور کرنا چاہئے، محض زبانی مشوروں سے اسرائیل اپنی دیرینہ پالیسی ترک نہیں کرے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -