خون کے کینسر میں مبتلا نادار مریضوں کا مسئلہ!

خون کے کینسر میں مبتلا نادار مریضوں کا مسئلہ!

  

سوئٹزر لینڈ کی ادویات ساز کمپنی نے حکومت ِ پنجاب کی طرف سے معاہدوں کی تجدید نہ کرنے اور مسلسل یاد دہانیوں کے باوجود کوئی جواب نہ دینے کی وجہ سے خون کے کینسر میں مبتلا رجسٹرڈ مریضوں کے لئے ادویات کی فراہمی بند کر دی ہے۔ ان پانچ ہزار پانچ سو غریب اور مستحق مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں کہ مارکیٹ میں یہ ادویات بہت مہنگی ہیں۔ غریب اور نادار مریضوں کو کینسر کے علاج کے لئے مفت ادویات کی فراہمی کے لئے سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کے دور(2014ء) میں یہ سکیم شروع کی گئی اور سوئٹزر لینڈ کی ایک ادویات ساز کمپنی سے معاہدہ پر دستخط کئے گئے۔اس تجویز کے تحت پنجاب بھر سے اعداد و شمار جمع کر کے 5500 افراد کو رجسٹر کیا گیا، جو غریب اور مستحق تھے۔ اسی حکومت نے2017ء میں تیرہ ارب کے فنڈز مختص کئے اور ان مستحق مریضوں کو ادویات کی فراہمی شروع ہو گئی۔ ادویات ساز کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ جون2020ء میں ختم ہو گیا، جس کے بعد کمپنی نے رابطہ کے لئے خطوط لکھے کہ معاہدہ کی تجدید کی جائے،لیکن پنجاب حکومت کی طرف سے کسی بھی خط کا جواب نہ دیا گیا۔اس پرکمپنی نے اب ادویات کی فراہمی بند کر دی ہے۔ معاصر کے مطابق اس صورتِ حال نے ان 5500مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں کہ کینسر کی ادویات بہت مہنگی ہیں اور ایک مریض کے لئے کم از کم4500 ڈالر ماہانہ کی خرچ ہوتی ہیں اور مرض کی نوعیت کے حساب سے یہ خرچ دس ہزار ڈالر ماہانہ بھی ہو سکتا ہے۔یہ صورتِ حال یقینا تشویش ناک ہے کہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا نادار مریضوں کے لئے شروع کیا گیا پروگرام ٹھپ ہو گیا اور مریض اب زندگی کے خطرے سے دوچار ہیں۔یہ ایک رفاہی منصوبہ ہے، اس کو سابقہ اور موجودہ دور کی تقسیم کے حوالے سے نہیں دیکھنا چاہئے۔صوبائی وزیر صحت اور وزیراعلیٰ کو معاصر کی اس اطلاع پر فوری توجہ دے کر اہتمام کرنا چاہئے کہ مریضوں کو ادویات مہیا ہوں اور کسی کی جان محض دوا نہ ملنے کے باعث نہ چلی چائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -