معاشرتی اصلاح اور فلاح کا ضامن۔۔۔۔ مضبوط ومستحکم خاندان

 معاشرتی اصلاح اور فلاح کا ضامن۔۔۔۔ مضبوط ومستحکم خاندان
 معاشرتی اصلاح اور فلاح کا ضامن۔۔۔۔ مضبوط ومستحکم خاندان

  

مغرب اور یورپ کی تقلید میں ہمارے ملک میں بھی خاندانی نظام اس وقت شدید خطرات سے دوچار ہے۔ا یک سروے کے مطابق طلاق اور خلع کے مقدمات میں سات سوگنا اضافہ ہوا ہے۔فیکٹریوں،دفاتر اور دیگر اداروں میں کام کرنے والی عورتیں ڈری، سہمی اور خوفزدہ رہتی ہیں اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں،بلکہ شرم کی بات یہ ہے کہ اب تو مخلوط تعلیم والی یونیورسٹیوں اور کالجز میں بھی ہماری بچیاں محفوظ نہیں ہیں۔ایک سال میں خواتین اور بچیوں پر مجرمانہ حملوں کے تین ہزارواقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر جماعت اسلامی نے خواتین کے عزت و وقار اور تحفظ اور انہیں تعلیم،صحت،وراثت کے حقوق دلانے کیلئے جامع پروگرام ترتیب دیا ہے جس پر عمل درآمد کیلئے قومی سطح پر ایک بڑی تحریک کا آغاز کردیاگیا ہے۔

یہ تحریک 11فروری سے ملک بھر میں جاری ہے۔جماعت اسلامی قومی ترقی میں عورت کے فعال کردار کی حامی ہے۔ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ جب تک عورت زندگی کے ہر شعبہ میں فعال کردار ادا نہیں کرے گی، معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ہم جانتے ہیں کہ یو این او کے تحت بہت سارے ادارے قائم ہیں۔گزشتہ عرصے میں عورت کے حقوق کے نام سے ان کے کئی کنونشنز بھی ہوئے ہیں۔ان کنونشنز میں بھی جماعت اسلامی کے حلقہ خواتین کی ذمہ دار بہنوں نے شرکت کی ہے۔بین الاقوامی سطح پر ہونے والی کانفرنسز میں ہمارے خواتین ونگ نے اپنی تجاویز بھی دی ہیں۔ عورت کو بہتر معیشت اور روز گار کا حق ملنا چاہئے۔عورت پر تشدد کا ہر راستہ بند کیا جائے۔عورت کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے اور عورت ہونے کے ناطے اس کے انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔لیکن یہ تمام تجاویز لکیر برآب ثابت ہوئیں اس لئے کہ دنیا بھر میں عورتوں کو حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔

8مارچ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر جماعت اسلامی ملک بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹر ز میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بڑے بڑے جلسے،جلوس،ریلیاں،سیمنارز اور کانفرنسیں منعقد کرے گی۔ان اجتماعات میں ہزاروں خواتین شریک ہونگی اور ملک بھر خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے آواز بلند کی جائے گی۔اس مہم میں نہ صرف جماعت اسلامی کی خواتین بلکہ تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شریک ہونگی۔سیاست،تعصبات،نسلی،لسانی،علاقائی امتیازات سے بالا تر ہوکرحقوق نسواں کیلئے ملک کی تمام خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا۔ 14فروری کو ملک گیر یوم حیا منایا گیا تاکہ معاشرے میں حیا کے کلچر کو عام کیا جائے اور فحاشی و عریانی او ربے حیائی کے سیلاب پر بند باندھا جاسکے۔

آپ جہاں اور جس مقام پر بھی ہیں معاشرے کو استحکام بخشنے کی خاطر اور اپنی نسل نو کو اخلاقی طور پر کامیاب وکامران بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔آپ کالم نگار ہیں تو ایک کالم لکھ کر اپنا فرض پورا کریں۔اگر ٹی وی ؎ چینل سے وابستہ ہیں تو ایک پروگرام نشرکر کے اپنا حصہ اداکریں۔اگر آپ پروڈیوسر ہیں ایک دستاویزی فلم،کوئی ترانہ بنا کر اس مہم کا حصہ بنیں۔اگر آپ استاد ہیں تو اپنی زبان اور بیان سے اس دن کی اہمیت اجاگر کریں اور ہر سطح پر معاشرے کے استحکام اور عورت کو اسکی نسوانیت پر فخر کرنے اور اسے تحفظ کااحساس دلائیں۔

عورت کی اصل آزادی اللہ کے عطاکردہ نظام میں ہے۔ اسلامی نظام کے بغیر مر د اور عورت کو ان کے جائز حقوق نہیں مل سکتے۔ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے آئین میں موجود خواتین کے حقوق کے تحفظ کے آرٹیکلز پر کسی بھی حکومت نے عمل درآمد نہیں کیا۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 35اور آرٹیکل 37جی پر عمل درآمد کیا جائے۔ان آرٹیکلز میں شادی،خاندان،ماں اور بچے کی حفاظت کیلئے ہیں ان پر کماحقہ عمل نہیں ہورہا۔ فحش لٹریچر کو پھیلانے کے راستوں کو بند کرنا ہوگا۔ ہماری تحریک کا مقصد ہے کہ اسلام اورہمارے آئین نے عورت کے حقوق کی جو ضمانت دی ہے۔ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔اسی طرح وہ پاکستانی ڈرامے جو خاندانی نظام کی تباہی پر لگے ہوئے ہیں ان کو بند کیا جائے۔ کچھ پاکستانی ٹی وی چینلز نے تو پاکستانی ثقافت کو برباد کرنے اور مغربی لچرپن کو پھیلانے کاباقاعدہ ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ان چینلز نے طے کررکھا ہے کہ عزت و احترام اور حیا کی اسلامی تہذیب اور مشرقی تمدن کو ختم کرنا ہے۔

عوام چاہتے ہیں کہ پاکستانی چینلز ہماری تہذیب اور ہماری خواتین کی نمائندگی کریں اوریہاں پاکستانی تہذیب کو عام کرنے کی کوشش کریں۔ پیمرا ٹیلی ویژن پر عورت کی تضحیک اور اسے ذریعہ نمائش بنانے والے پرگراموں کا نوٹس لے،پاکستان میں ونی، جہیز، خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قوانین تو موجود ہیں مگر ان کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وڈیرہ شاہی کلچر میں خواتین کو غلام بنا کر رکھنا، ان پر تشدد اور قرآن سے شادی کی رسمیں بھی پروان چڑھتی ہیں۔ خواتین کو جائیداد کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے انھیں حقِ نکاح نہیں دیا جاتا۔ شادی کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ غریب کی بچی گھر بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہے۔وٹہ سٹہ کی شادیوں کے خلاف بھی قانون سازی ضروری ہے،وٹہ سٹہ کی شادیوں میں ایک گھر میں کوئی مسئلہ یا تنازع ہوتا ہے تو دوسرا گھر بلاوجہ ہی برباد ہوجاتا ہے۔ملک میں گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوچکاہے۔وہ مرد انتہائی بزدل اور بے وقوف ہے جو اپنی شریک حیات کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔جو اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر تشدد کرتاہے اس کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں آنی چاہئے۔یہ مردانگی نہیں بے غیرتی ہے۔

 آبادی ہمیشہ سے دنیا میں قوت و طاقت اور معاشی و سیاسی استحکام کا ذریعہ سمجھی گئی ہے لیکن آج ایک عالمی ایجنڈے نے بڑھتی ہوئی آبادی کو خوف کی علامت بنادیاہے جس کے برے اثرات سب سے زیادہ عورت پرپڑے ہیں،جس طرح جہالت کی تاریکیوں میں بچیوں کو زندہ درگورکردیا جاتا تھا اور اسی طرح آج کے روشن اور ترقی یافتہ دور میں خود کو تہذیب و تمدن کے اعلی ترین معیار پر سمجھنے والے معاشروں میں بچیوں کو پیدائش سے پہلے ہی قتل کردیا جاتا ہے۔پسماندہ معاشروں میں بھی عورت کو ترقی کی راہ میں سب بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔تعلیم کے بغیر عورت ترقی نہیں کرسکتی جبکہ مخلوط نظام تعلیم بچیوں کی اعلی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ہماری لاکھوں بچیاں کالجز اور یونیورسٹیوں میں نہیں جاسکتیں۔اس لئے ضروری ہے کہ پرائمری سے لیکر کالجز کی سطح تک بچیوں کیلئے علیحدہ تعلیمی ادارے ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -