آقائے نامدار رحمۃ اللعالمینؐ اور سکالرشپ

آقائے نامدار رحمۃ اللعالمینؐ اور سکالرشپ
آقائے نامدار رحمۃ اللعالمینؐ اور سکالرشپ

  

قطع نظر اس کے کہ آپ نظریاتی یا فکری، سیاسی یا سماجی، انفرادی یا گروہی اعتبار سے کسی کے مخالف ہیں یا اس کے حمائتی، لیکن یہ ایک جوہری حقیقت اور ابدی صداقت ہے کہ جو لوگ جہالت اور تاریکی کے خلاف پرچم بلند کرتے ہیں وہی فرخندہ بخت اور خوش نصیب ہوا کرتے ہیں۔ خدائے لم یزل کا قرب بھی انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور بروز محشر آنحضورؐ کی شفاعت سے بہرہ مند بھی یہی لوگ ہوں گے اور حُسن ِ اتفاق یہ کہ اس پرچم کو بلند کرتے وقت کسی خاص تر دد اور تگ و تازکی بھی قطعی طور پر ضرورت نہیں ہوتی،بلکہ محض مصّمم ارادہ اور عزم صمیم شرطِ لازم ہے۔ اگر ہم ماضی بعید پر نظر ڈالیں تو ہمارے علم میں یہ بات آئے بغیر نہیں رہتی کہ خیر الخلائق کی قوتوں کے خلاف بھی تصادم کی خشتِ اول ہمیشہ باطل قوتوں نے رکھی، لیکن خُلقِ عظیم اور حق الیقین کی منزل پر فائز آنحضورؐ نے اپنے علم و فہم، فراست و تدبر اور حکمت و دانائی سے مخالفین کو اعلائے کلمتہ الحق کہنے پر آمادہ و مجبور کر دیا۔ اس دوران شر کی قوتیں وقتاً فوقتاً سر تو بہرحال اٹھاتی رہیں مگرعلم و حکمت کی شمشیر براّں ان کے سروں کو ہمیشہ کاٹتی رہی۔ یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہئے کہ تعلیماتِ اسلام میں ہمیشہ زور حصولِ علم ہی پر دیا گیا ہے، لیکن شومئی قسمت کہ آنحضورؐ کے نام لیوا اور ان کے نامِ نامی اسم گرامی پر مرمٹنے کے دعویدار اور مدعی حکمرانوں نے اپنی اپنی سلطنتوں میں عامتہ الناس کے بچوں کو زیورِ علم سے آرستہ و پیراستہ کرنے کی کوئی مخلصانہ کوشش اور سعی شاذو نادر ہی کی ہوگی۔

اپنے اللّے تللّے پورے کرنے اور اپنے شاہانہ کروفر کو قائم و برقرار رکھنے کے لئے ان کے پاس ہر طرح کے فنڈز اور صوابدیدی اختیار ات لامتناہی ہوتے ہیں، لیکن بات جب حصول علم اور تعلیم کی آئے گی تو ہر سال بجٹ میں تعلیم کی مد میں مختص ہونے والا حصہ نرم سے نرم الفاظ میں بھی کہا جائے تو لائق شرم ہی قرار دیا جائے گا۔ مذکورہ بالا تمہید کا مقصد اولیٰ کسی کی ذات کو محض خوش کرنا یا کسی کا قرب حاصل کرنا ہر گز نہیں،بلکہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ شاید وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی پیروی میں مستقبل کا کوئی اور وزیراعلیٰ اس طرح کا initiative لے سکے جو سردار بزدار نے لیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایسا اقدام اور دانشمندانہ فیصلہ ہے کہ اس پر اگر پورے شرح صدر سے عملدرآمد ہو سکا تو قوم کے بچوں کی تقدیر بدل جائے گی۔ یہ سلسلہ جڑ پکڑ گیا تو اسے منقطع کرنا یا اسے ارتقاء کے عمل سے روکنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ جسے خیر مستور کہے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔ ماضی میں حصول علم کے مقصد کے پیش نظر وضع کئے گئے منصوبے ہمیشہ سرخ فیتے کی رسم سے آگے نہ بڑھ سکے، لیکن اب امید واثق نہیں یقین محکم ہے کہ سردار عثمان بزدار کا شروع کردہ تعلیمی منصوبہ مکمل ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔

واضح رہے کہ صوبے کے عوام کی بہبود کے لئے ان کے گزشتہ دو اڑھائی سال کے دوران شروع کئے گئے منصوبوں کی اہمیت اور افادیت جو بھی ہو انہیں کچھ وقت کے لئے محل ِ نظر بھی سمجھا جائے تو بھی جو منصوبہ انہوں نے مستحق طلباء و طالبات کے لئے اب شروع کیا ہے وقت اس کی صداقت اور اہمیت پر مہرِ تصدیق ثبت کئے بغیر نہیں رہے گا جو کچھ یوں ہے کہ سردار عثمان بزدار نے گزشتہ دنوں آنحضورؐ کے بابرکت نام پر پنجاب کے مستحق، مگر ذہین طلباء کے لئے رحمت اللعالمین ؐ سکالرشپ پروگرام کا اجرا کر دیا ہے، جس کے ذریعے صوبے کے کالجز اور سرکاری یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء کی تعلیمی کفالت ہو سکے گی۔ فی الوقت تو زیر تعلیم پندرہ ہزار کے قریب طلباء کو لگ بھگ 42 کروڑ دیئے جا رہے ہیں، لیکن مستقبل میں یہ سلسلہئ سکالر شپ شاید ایک ارب روپے سے بھی اوپر چلا جائے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ پروفیشنل ڈگری ہولڈرز تک وسیع کر دیا جائے۔ یہ بھی واضح رہے کہ رحمت اللعالمین ؐ سکالرشپ پچاس فیصد میرٹ پر ذہین اور ہونہار طلبا کا، جبکہ 50 فیصد ضرورت مند اور نادار طلبا کا حق ہوگا۔ اس بابرکت سکالرشپ میں پنجاب کے درجہ ایک سے چہارم تک کے سرکاری ملازمین کے بچوں کے لئے بھی کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔

کس قدر خوشی اور مسرت کی بات ہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں میں بی ایس کرنے والے طلباء کی پوری ٹیوشن فیس بھی ادا کی جائے گی۔ نہ صرف یہ بلکہ حقداروں تک ان کا حق موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔ اسی طرح انٹرمیڈیٹ کے طلباء کو ٹیوشن فیس کے ساتھ ساتھ سکالرشپ بھی دیا جائے گا۔ سکالرشپ کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے آن لائن تصدیق ہو گی یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ آئی ٹی کی برق رفتار ترقی سے استفادہ بھی عثمان بزدار کا خواب بلکہ وژن ہے۔ اٹک سے راجن پور تک پناہ گاہیں اور لنگر خانے قائم کرکے بزدار پہلے ہی دیگر وزرائے اعلیٰ پر برتری حاصل کر چکے ہیں اب رحمت اللعالمین ؐ سکالرشپ کے اجرا پر ان کے نامہئ اعمال میں مزید بہت کچھ درج ہونے جارہا ہے۔ خدا کرے یہ خواب اور پروگرام کُلیتہً پایہئ تکمیل کو پہنچ سکے۔ ہم اس منصوبے کی کامیابی کے لئے دُعا کے ساتھ ساتھ یہ گزارش کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ خدارا! یہ سلسلہ رکنے نہ پائے جس بابرکت نام سے سکالرشپ کا اجرا ہوا ہے اس میں خیرو برکت بھی وہی آقائے نامدار ؐ ڈالیں گے، لیکن ہم نیتوں پر شبہ نہ کرتے ہوئے عرض کریں گے کہ اسے محض عثمان بزدار کا منصوبہ نہ سمجھا جائے، بلکہ سامنے وہی ہستی رہے جو نہ صرف مدینتہ العلم ہے، بلکہ خلق عظیم پر بھی فائز ہے۔ افلاسِ تصورات کی ماری ہوئی قوم کے بچوں کے لئے اگر عثمان بزدار نے پرچم ِ تعلیم بلند کیا ہے تو اس کی تحسین کی جانی چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -