مارچ کا پہلا ہفتہ

مارچ کا پہلا ہفتہ
مارچ کا پہلا ہفتہ

  

گذشتہ نصف صدی میں پاکستان میں پیش آنے والے سیاسی مناظر اکثر میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے ہیں۔ مارچ کے پہلے ہفتہ میں نہ جانے کیا ایسا ہے کہ وہ پاکستان میں فیصلہ کن سیاسی تلاطم لے کر آتا ہے۔ جنرل یحییٰ خان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارحق بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات کرائے تو مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے کلین سویپ کر دیا، جبکہ مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔ جنرل یحییٰ خان نے نو منتخب شدہ دستور ساز اسمبلی کا اجلاس 3 مارچ1971ء کو ڈھاکہ میں طلب کیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے اس کا بائیکاٹ کر دیا۔ دباؤ میں آکر یحییٰ خان نے قومی اسمبلی کا اجلاس منسوخ کیا تو 4 مارچ کو شیخ مجیب الرحمان نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں بہت بڑا جلسہ کیا اور اس کے بعد سول وار اور پھر بھارت سے مکمل جنگ ہوئی،جو بالآخر مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر منتج ہوئی۔پاکستان کے دو لخت ہونے کی بنیاد 3 مارچ کے اجلاس کی منسوخی نے رکھی۔ نئے پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت آ گئی، جس میں ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کا گھوڑا طاقت کے نشہ میں سرپٹ دوڑتا رہا اور بالآخر انہوں نے مارچ 1977ء  میں الیکشن کرائے۔ قومی اسمبلی کا الیکشن 7مارچ کو ہوا، جس میں اپوزیشن کے قومی اتحاد نے دھاندلی کا الزام لگا کر 10 مارچ کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

اس کے بعد ملک گیر احتجاجی تحریک چلی اور سیاسی حالات بھٹو صاحب کے ہاتھ سے نکلتے گئے جو بالآخر مارشل لاء پر منتج ہوئے۔ 7 مارچ کے قومی اسمبلی کے الیکشن میں دھاندلی کا نتیجہ قوم آج تک بھگت رہی ہے کہ اس کے بعد سے پاکستان سیاسی طور پر لگا تار ایک قدم آگے اوردو قدم پیچھے ہٹ رہا ہے۔ 3مارچ 1971ء اور 7مارچ 1977ء کی طرح 2021ء میں مارچ کے پہلے ہفتہ میں پیش آنے والے واقعات، یعنی 3 مارچ کو سینیٹ الیکشن اور 6مارچ کو قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ اور اسمبلی کے باہر اپوزیشن سیاسی رہنماؤں پر حکمران پارٹی کے کارکنوں کے تشددکے اثرات کئی عشروں تک پاکستان کی سیاست میں محسوس کئے جاتے رہیں گے،جس وقت پی ٹی آئی کے کارکنان پارلیمنٹ کے سامنے مار پیٹ کر رہے تھے تو میری آنکھوں کے سامنے 4 مارچ 1971ء کے پلٹن میدان ڈھاکہ کے باہر کے مناظر گھوم رہے تھے جہاں عوامی لیگ کے کارکنوں نے جماعت اسلامی کی مقامی قیادت سے مار پیٹ کی تھی۔اسی طرح 1977ء کی قومی اتحاد کی تحریک کا وہ منظر بھی میری آنکھوں کے سامنے آیا جب پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے مولانا شاہ احمد نورانی کی پگڑی اچھالی تھی۔ مولانا  سید ابوالاعلی مودودی ؒ کہا کرتے تھے کہ کوئی غلطی بانجھ نہیں ہوتی۔

اگر اپوزیشن کا یہ الزام کہ وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ گن پوائنٹ پر لیا ہے یا پی ٹی ایم کے محسن داوڑ کا یہ نقطہ کہ ایوان میں 178 ممبران اسمبلی موجود نہیں تھے کو مسترد کر دیا جائے تو بھی 6 مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے کروفاق میں اپنا آخری سیاسی کارڈکھیل لیا ہے۔ اب ان کے پاس صرف انتظامی پتے باقی بچے ہیں، سیاسی طور پر کھیلنے کے لئے کوئی کارڈ نہیں ہے۔ ویسے بھی یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے والے 16 پی ٹی آئی کے ممبران کو ”بکاؤ مال“ کہنے کے بعد ان سے ہی اعتماد کا ووٹ لے کر وزیراعظم عمران خان نے انہیں این آر او دے دیا ہے۔ وزیراعظم کے برعکس، اپوزیشن کے سیاسی کارڈ ابھی تک ان کے پاس ہیں اور وہ جوں جوں ضرورت پڑے گی اپنے کارڈ کھیلتے جائیں گے۔ پنجا ب میں ترپ کا پتہ چودھری پرویز الٰہی کے پاس ہے جسے وہ ابھی تک سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔جب بھی انہوں نے اپنا کارڈ شو کیا پنجا ب میں گیم وزیر اعظم کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ پنجاب میں عمران خان کے پاس زیادہ سے زیادہ آپشن یہی بچا ہے  کہ وہ چودھری صاحبان کو راجا بشارت کوپی ٹی آئی کے چہرہ کے طور پر وزیراعلیٰ بنانے پر راضی کر لیں۔ وفاق میں اعتماد کا ووٹ دلوانے میں مقتدرہ حلقوں کی یہ دلچسپی تھی کہ وزیر خزانہ میں کوئی تبدیلی دو تین ماہ نہ ہو تاکہ بجٹ تک کوئی سیاسی انتشار نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ کا الیکشن ہارنے کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ کے طور پر کام جاری رکھنے کا کہا ہے۔

حکومتی حلقوں میں ایک صدارتی آرڈیننس کی بازگشت بھی سنائی دے رہی کہ اپنا حلف نہ اٹھانے والے ممبران پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کر دی جائے۔ ایسا ہونے سے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نشست خالی ہو جائے گی اور ڈاکٹر حفیظ شیخ کو ٹیکنو کریٹ سیٹ پر پنجاب سے سینیٹر بنوانے کی کوشش کی جائے گی۔یہ الگ بات ہے کہ صدر عارف علوی کی آرڈیننس فیکٹری کے اکثر آرڈیننس بیک فائر کر جاتے ہیں، جس کی وجہ سے صدرِ مملکت کی اپنی آئینی پوزیشن پر آئین کے آرٹیکل 247 کے حوالہ سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ 6 مارچ کو ہونے والا اجلاس بہت سے قانونی ماہرین کی رائے میں آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 7 کے تحت درست اِس لئے نہیں تھا کہ آئین کا تقاضا ہے کہ صدرِ مملکت اس وقت وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہتے ہیں جب ان کی دانست میں وزیر اعظم کے پاس ایوان زیریں کی اکثریت نہیں رہتی۔ اسی طرح وزیراعظم الیکشن کمیشن پر سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کے لئے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈال کر لگاتار آئین کے آرٹیکل 226 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ بہرحال یہ اجلاس ہو چکا اور اس کے بعد وزیراعظم کی تقریر سننے سے یہ پتہ چلا کہ  وہ سیاسی سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ان کی تقریر اگست 2018ء میں پہلی بار اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد والی تقریر کا چربہ تھی۔ ڈھائی سال میں سیاسی طور پر ان کا ذہنی سفر ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکا اور وہ بدستور انتقام کی سیاست کرتے رہیں گے۔ میرے منہ میں خاک،  اللہ نہ کرے کہ مارچ 2021ء کا پہلا ہفتہ ہمیں دوبارہ مارچ 1971ء اور مارچ 1977ء کے پہلے ہفتوں میں واپس لے جائے۔

مزید :

رائے -کالم -