رومانوی شاعر بیدل حیدری کا یوم وفات،  تعزیتی تقریبات، خدمات کو خراج تحسین

  رومانوی شاعر بیدل حیدری کا یوم وفات،  تعزیتی تقریبات، خدمات کو خراج تحسین

  

مظفرگڑھ (نامہ نگار)رومانی شاعری کے لیے مشہور، معاشرتی ناہمواری، غربت اور تنگدستی جیسے موضوعات کو موضوع سخن بنانے والے معروف شاعر علامہ بیدل  حیدری(بقیہ نمبر41صفحہ6پر)

 کا یومِ وفات 07 مارچ کو منایا گیا، بیدل حیدری، میرٹھ (اتر پردیش) انڈیا میں 20 اکتوبر 1924 کو پیدا ھوئے۔ آپ کا اصل نام عبدالرحمن تھا۔ ابتدا میں بیدل غازی آباد تخلص کرتے تھے۔ بعد ازاں جلال الدین حیدر دھلوی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ بیدل حیدری کہلوانے لگے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے پہلے لاہور اور بعد میں کبیروالا میں رہائش اختیار کر لی۔ تعلیم ایف ایس سی، ادیب فاضل تھے جبکہ ایل ایس، ایم ایف میڈیکل سے مکمل کی، کبیروالا میں آپ ایک کلینک بھی چلاتے تھے۔ آغازِ شاعری 1944 سے کیا ان کی شاعری زیادہ تر رومان، معاشرتی ناہمواری، غربت اور تنگدستی جیسے موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ 1994 میں ان کا پہلا شعری مجموعہ " میری نظمیں " شائع ہوا۔ دوسرا شعری مجموعہ " پشت پہ گھر " 1996 میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ تمام تر غزلوں پر مشتمل ہے۔ بیدل حیدری کا ایک مجموعہ " اوراقِ گل " کے نام سے بھی شائع ہوا۔ لیکن وقت کی چیرہ دستیوں میں اس کی کوئی بھی کاپی محفوظ نہ رہ سکی۔بیدل حیدری نے 07 مارچ 2004 کو کبیروالا میں وفات پاگئے اور کبیروالا کے مقامی قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ 2004 میں ان کا ایک شعری مجموعہ " ان کہی "ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ ان کے ایک شاگرد شکیل سروش نے ادب وثقافت (انٹرنیشنل) کے زیرِ اہتمام " کلیاتِ بیدل حیدری " شائع کی ہے جن میں ان کا مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کلام شامل کیا گیا ہے۔

خراج تحسین 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -