مفتی تقی عثمانی کی حافظ سید معاویہ سے  ملاقات، قائد احرار سید عطاء المہیمن بخاری  کے انتقال پر اظہار تعزیت، شاندار دینی  خدمات کے حوالے سے خراج تحسین پیش

مفتی تقی عثمانی کی حافظ سید معاویہ سے  ملاقات، قائد احرار سید عطاء المہیمن ...

  

 ملتان (سٹی رپورٹر )  وراثت در اصل علم دین کی وراثت ہے، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے حضرت امیر شریعت اور فرزندان امیر شریعت رحمہ اللہ تعالی علیہ کی بے مثال (بقیہ نمبر24صفحہ6پر)

و شاندار خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائنگی۔ ان خیالات کا اظہار شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے گذشتہ روز مرکز احرار، دار بنی ہاشم میں نبیرہ امیر شریعت، ابن ابوذر حافظ سید محمد معاویہ بخاری سے قائد احرار حضرت پیر جی مولانا سید عطائالمہیمن بخاری  کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کیا۔ حضرت مفتی صاحب نے کہا کہ میں دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تبارک وتعالی اپنے فضل و کرم سے فرزندان امیر شریعت کے درجات بلند فرمائے، ان کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطاء فرمائے، کارکنان احرار اور گھر والوں کو صبر جمیل عطاء فرمائے اور اجر جزیل عطاء فرمائے۔انہوں نے کہا کہ فرزندان امیر شریعت کا امت پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اعلاء کلمتہ الحق کیلئے مصائب و تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا مگر حق بات کہنے سے ہر گز گریز  نہ کیا۔ اللہ تعالی خانوادہ امیر شریعت میں دین کی وراثت کو قائم رکھیں، یہ تو اللہ تعالی کی سنت ہے کہ سورج جاتا ہے تو ستارے آجاتے ہیں۔ ان کا طریقہ، ان کا مزاج، ان کا دین، اس کا تحفظ رہے۔ ان شآئاللہ یہ چھوٹے بڑے ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امیر شریعت اور فرزندان امیر شریعت کی اور خدمات تو اپنی جگہ ہیں مگر جو درویشی کی صفت ہے وہ کمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرزندان امیر شریعت نے مجلس احرار اسلام کے اسٹیج سے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، قادیانیت کے محاسبہ اور دفاع صحابہ رضی اللہ عنہم کے محاذ پر عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے قادیان سے لے کر چناب نگر تک تحریک ختم نبوت کے علم کو بڑی جرائت و بہادری سے بلند رکھا۔ قائد احرار سید عطائالمہیمن بخاری رحمہ اللہ کی دینی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہیں تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلی و شیخ الحدیث جامعہ خیرالمدارس ملتان مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، استاذ الحدیث مولانا محمد ازہر، مولانا احمد حنیف جالندھری سمیت خاندان امیر شریعت، کارکنان احرار، اساتذہ اور دیگر حضرات بھی موجود تھے۔

مفتی تقی عثمانی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -