کراچی، وزیر بلدیات و جنگلات کاکراچی زولو جیکل گارڈن کا دورہ 

    کراچی، وزیر بلدیات و جنگلات کاکراچی زولو جیکل گارڈن کا دورہ 

  

 کراچی (سٹاف رپورٹر) سید ناصر حسین شاہ وزیر بلدیات و جنگلات سندھ اور وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے جنگلی حیات بنگل خان مہر نے کراچی زولوجیکل گارڈن کراچی کا دورہ کیا۔ انہیں ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کراچی اور ڈائریکٹر کراچی زولوجیکل گارڈن نے بریفنگ دی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی زولوجیکل گارڈن ایک تاریخی مقام ہے جو سن 1870 کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا اور یہ جنگلی حیات، تحقیق، تعلیم اور تفریحی مقام کے سابقہ ماحولیاتی تحفظ کے لحاظ سے ایک اہم اہمیت کا حامل ہے۔ہر سال میٹروپولیٹن شہر اور پورے ملک سے مختلف عمر گروپوں کے لاکھوں وزیٹرس زولوجیکل گارڈن کا دورہ کرتے ہیں اس طرح یہ ہمارے جیسے ملک میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جہاں عام عوام کی ایک بڑی اکثریت کو جنگلی علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔تحقیق اور تعلیم میں کراچی چڑیا گھر کا کردار اہم اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں سے قدرتی علوم کے نوجوان طلباء کی بہت ساری تحقیقی اشاعتیں ہیں۔کراچی کے اس چڑیا گھر سمیت چڑیا گھروں کو عالمی سطح پر جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کا تعلق جگہ کی کمی، رہائش اور سیاحوں کی موجودگی سے ہوتا ہے جس کے نتیجے میں جانوروں پر معاشرتی دباو  ہوتا ہے۔ ان امور پر مستند تنازعات موجود ہیں۔ جبکہ حکومت سندھ ہر سطح پر بہتری لانے کے عزم کا اظہار کرتی ہے اور اسی مقصد کے لئے میں یہاں آج خود اور سندہ وائلڈ لائف کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے وزیر اعلی سندھ کے ساتھ موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آج وزیٹرس کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور سیکھ رہی ہے۔چڑیا گھر کی انتظامیہ سے خطاب کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے ہدایت کی کہ جانوروں کی فلاح و بہبود کے لئے ہر اقدام اٹھایا جائے، ان کی صحت، رہائش اور ہائیجن کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے میڈیا کو آگاہ کیا کہ بڑھتی آبادی اور اس اہم شعبے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے حکومت سندھ چڑیا گھر کے جانوروں کے لئے موزوں اور بڑے علاقوں والے جدید سائنسی بنیادوں پر ہزاروں ایکڑ پر پھیلے ہوئے ایک بڑے سفاری پارک کو بنانے میں معاونت کرے گی۔بھوری ریچھ کے انکلوزر کے دورے کے دوران انہیں بتایا گیا کہ بھورے ریچھ کے لئے ایک نیا بڑا گھر تعمیر ہورہا ہے۔ انہوں نے محکمہ سندھ وائلڈ لائف کو ہدایت کی کہ وہ بھورے ریچھ کے خون کے نمونے لیں اور جلد سے جلد ڈی این اے رپورٹ پیش کریں۔

مزید :

صفحہ اول -