بھارت کا اندوہناک چہرہ، لاچار باپ اپنے بیٹے کی لاش شاپر میں ڈالے کئی کلومیٹر پیدل چلتارہا، ویڈیو وائرل

بھارت کا اندوہناک چہرہ، لاچار باپ اپنے بیٹے کی لاش شاپر میں ڈالے کئی کلومیٹر ...
بھارت کا اندوہناک چہرہ، لاچار باپ اپنے بیٹے کی لاش شاپر میں ڈالے کئی کلومیٹر پیدل چلتارہا، ویڈیو وائرل

  

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت  کی ریاست بہار میں پانی میں ڈوب پر انتقال کرجانیوالے بیٹے کا باپ اپنے بچے کی لاش پلاسٹک کے تھیلے میں ڈال کر گھنٹوں پیدل چلنے پر مجبور ہوگیا، ہسپتال نے ایمبولینس دی اور نہ ہی پولیس نے مدد دینے کی حامی بھری جس کے بعد لاچار باپ کئی  کلومیٹر تک پلاسٹک بیگ میں لاش ڈالے پیدل چلتا رہا۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق  غریب شخص لیرو یادوو کا معصوم بیٹا قریبی ندی میں ڈوب گیا جسے باپ نے اپنی مدد آپ کے تحت پانی سے نکال کر ہسپتال پہنچایا  جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق یہ کہہ کر کردی کہ لانے میں کافی تاخیر ہو گئی ۔ کمسن بچے کی نعش لے کر جب باپ باہر نکلا  اور  ہسپتال کے عملے سے ایمبولینس مانگی  لیکن سہولت فراہم کرنے سے انکار کردیا گیا جس کے بعد اس نے وہاں موجود پولیس اہلکاروں سے مدد مانگی تو انہوں نے بھی موبائل دینے سے انکار کردیا  ،  کسی بھی طرف سے مدد نہ ملنے کے بعد مجبور باپ   اپنے کمسن بچے کی نعش ایک پلاسٹک کے تھیلے میں ڈال کر پیدل ہی گھر کی جانب چل دیا اور تین کلومیٹر تک چلتا رہا ۔

لیرو یادوو جب اپنے گھر بچے کی نعش پلاسٹک کے تھیلے میں رکھ کر پیدل چلتا ہوا پہنچا تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی اور لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔

یہ افسوسناک انسانیت سوز واقعہ جب مقامی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا تو بھارت کے میڈیا نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حکام نے نوٹس لے لیااور لاش کی منتقلی کے لیے پولیس نے بھی ایک موبائل لے جانے سے انکار کیا لیکن بعدا زاں اعلیٰ حکام کی گاڑیوں کی گائوں میں قطاریں لگ گئیں۔ 

 ریاست بہار کے علاقے کٹیہار کے ایس ڈی پی کا اس حوالے سے کہناتھا کہ تحقیقات کررہے ہیں کہ ایک مجبور باپ کو بیٹے کی میت لے جانے کے لیے ایمبولینس اور موبائل کیوں فراہم نہیں کی گئی؟یہ بھی  دیکھ رہے ہیں کہ پولیس سے گاڑی طلب کی گئی تھی یا نہیں؟ اوراگر انکار کیاگیا ہے تو کیوں۔

مزید :

بین الاقوامی -