حقوق نسواں تحریک کی آڑ میں شرارت کرائی جا رہی ہے ، مٹھی بھر مغرب زدہ عورتوں کی فنڈنگ کون کرتا ہے؟سینیٹرساجد میر نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا 

حقوق نسواں تحریک کی آڑ میں شرارت کرائی جا رہی ہے ، مٹھی بھر مغرب زدہ عورتوں کی ...
حقوق نسواں تحریک کی آڑ میں شرارت کرائی جا رہی ہے ، مٹھی بھر مغرب زدہ عورتوں کی فنڈنگ کون کرتا ہے؟سینیٹرساجد میر نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ  سینیٹرعلامہ ساجد میر نے کہا ہے کہ  پاکستانی معاشرہ مادر پدر آزاد نہیں، یہاں اسلامی اقدار کی پابندی کرنا ہو گی، آزادی نسواں کی آڑ میں عورت ہی عورت کا استحصال کر رہی ہے،مٹھی بھر مغرب زدہ عورتوں کی فنڈنگ کون کرتا ہے؟ ان کی تحقیقات ہونی چاہیے، مُلک میں ایسے کسی بھی فحاشی پھیلانے والے پروگرام کے انعقاد کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے جس سے عورتوں کے ہاتھوں عورتوں کا استحصال کیا جائے۔

مرکزی جمعیت خواتین ونگ کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے  سینیٹرساجد میر ن نے کہا کہ اغیار کی فنڈنگ سے معصوم عورتوں سے حقوق نسواں کی تحریک کی آڑ میں شرارت کرائی جا رہی ہے، مدینہ کی اسلامی ریاست میں عورتیں بازار کی زینت نہیں بنتی تھیں، یہاں عورت کو اشتہار بنا دیا گیا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ عرصہ دراز سے عورت مظلوم چلی آ رہی تھی،ہر قوم اور ہر خطے میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں عورتوں پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں ، لوگ  اپنے عیش و عشرت کی غرض سے عورتوں کی خرید و فروخت کرتےاور ان کے ساتھ حیوانوں سے بھی بُرا سلوک کیا جاتا تھا، حتیٰ کہ اہلِ عرب عورت کے وجود کو موجبِ عار سمجھتے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے، ہندوستان میں شوہر کی لاش پر اس کی بیوہ کو جلایا جاتا تھا، واہیانہ مذاہب عورت کو گناہ کا سر چشمہ، مصیبت کا دروازہ اور گناہ کا مجسم سمجھتے تھے، اس سے تعلق رکھنا روحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے، دنیا کی زیادہ تر تہذیبوں میں عورت کی سماجی حیثیت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ عورت کو  حقیر و ذلیل نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا، اس کے معاشی و سیاسی حقوق نہیں تھے، وہ آزادانہ طریقے سے کوئی لین دین نہیں کر سکتی تھی، وہ باپ کی، پھر شوہر اور اس کے بعد اولادِ نرینہ کی تابع اور محکوم تھی، اس کی کوئی اپنی مرضی نہیں تھی اور نہ ہی اسے کسی پر کوئی اقتدار حاصل تھا، یہاں تک کہ اسے فریاد کرنے کا بھی حق حاصل نہیں تھا، اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت و پستی کے گڑھوں سے نکالا جبکہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، اس کے وجود کو گوارا کرنے سے بھی انکار کیا جا رہا تھا تو نبیِ کریمﷺ رحمۃ للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپﷺ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا اور اس زندہ دفن کرنیوالی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -