سربراہ براڈ شیٹ کمیشن جسٹس(ر)عظمت سعید کا تنخواہ اورمراعات لینے سے انکار

سربراہ براڈ شیٹ کمیشن جسٹس(ر)عظمت سعید کا تنخواہ اورمراعات لینے سے انکار
سربراہ براڈ شیٹ کمیشن جسٹس(ر)عظمت سعید کا تنخواہ اورمراعات لینے سے انکار

  

اسلام آباد(این این آئی)جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید نے بطور سربراہ براڈ شیٹ کمیشن تنخواہ اور مراعات لینے سے انکار کردیا۔

میڈیا رپورٹ کےمطابق برڈ شیٹ کمیشن کےسربراہ نےحکومت کو ارسال کردہ خط میں لکھا ہے کہ انہیں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تنخواہ اور مراعات نہیں چاہئیں۔ سیکرٹری کابینہ اور قانون کو خط کمیشن رجسٹرار نے تحریر کیا ہے۔ جسٹس (ر) عظمت سعید کی طرف سے جاری ہونے والے خط کی کاپی وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو بھی بھیجی گئی ہے۔قبل ازیں وفاقی حکومت نے براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ اور مراعات دینے کا فیصلہ کیا تھااس سلسلے میں کابینہ ڈویڑن نے سمری بھی وفاقی کابینہ کو بھجوا دی تھی۔

سمری میں وفاقی کابینہ سے جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو سپریم کورٹ کے جج کے برابر تنخواہ اور مراعات دینے کی اجازت طلب کی گئی ہے، سمری میں کہا گیا ہے کہ پہلے بناے گئے کمیشنز کی سربراہی حاضر سروس افسران کرتے تھے اس لیے تنخواہوں اور الاؤنس کا مسئلہ نہیں ہوا، قواعد کے مطابق ریٹائرڈ جج یا افسر کی تعیناتی پر ان کی سابقہ تنخواہ دی جاتی ہے، کمیشن کی جانب سے کوئی اور رکن تعینات کیا گیا تو اس پر بھی یہی رولز لاگو ہوں گے۔ذرائع کے مطابق  نو  مارچ کو ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ کی جانب سے  جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کی تنخواہ اور مراعات سے متعلق ملنے والی سمری کی باضابطہ منظوری متوقع تھی۔

یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں نیب نے 2000 ءمیں برطانوی کمپنی براڈشیٹ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کمپنی کو 200 سیاسی رہنماؤں، سرکاری افسران، فوجی حکام اور دیگر کے نام دیے گئے تھے، جن کی بیرون ملک جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیل معلوم کرنے کے لیے براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔ 28 اکتوبر 2003 میں نیب نے براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دیا۔براڈ شیٹ نے پاکستانی حکومت کے خلاف برطانیہ میں ثالثی کا مقدمہ جیتا۔ عدالتی حکم پر کمپنی کے مالک کاوے موسوی کو برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کے بینک اکاؤنٹ سے لگ بھگ 29 ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی۔

اپوزیشن اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ پر مشتمل ایک رکنی انکوائری کمیشن قائم کیا گیا۔کمیشن کا دائرہ اختیار ناصرف براڈ شیٹ تنازع کے معاملات کی تحقیقات کرنا ہے بلکہ اس بات پر بھی غور کرنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں چھپائے گئے اثاثے برآمد کرنے کی بے دل اور غلط سمت کوششوں کی وجہ سے ریاست کو اتنا بڑا نقصان کیوں ہوا۔

مزید :

قومی -