ایزرا پاؤنڈ۔ ایک عظیم دانشور شاعر اور انسان 

 ایزرا پاؤنڈ۔ ایک عظیم دانشور شاعر اور انسان 
 ایزرا پاؤنڈ۔ ایک عظیم دانشور شاعر اور انسان 

  

دنیا میں بڑے بڑے عجیب اور نایاب لوگ ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جن کی زندگی کو حالات جبر مسلسل کا روپ دے دیتے ہیں مگر بعض ایسے عظیم لوگ بھی ہیں جو حق و صداقت کے لئے ایسی ز ندگی کو ترجیح دیتے ہیں جو جبر مسلسل سے بھی کچھ بڑھ کر ہوتی ہے۔ وہ قید و بند کی پرواہ بھی نہیں کرتے مگر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔1885 میں پیدا ہونے والا امریکہ کا شہری، ایک خوبصورت جوان، اچھی شکل و صورت، سبز آنکھیں، تھوڑا خود پسند، جھگڑالو،مگر دوستوں کا دوست اور ان کی ہر مشکل میں ان کے کام آنے والا، ایک عظیم شاعر اورنئے ذہنوں کا رہنماایزرا پاؤنڈایک ایسا ہی شخص ہے۔وہ جنگ سے نفرت کرتا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ اس کا ملک امریکہ دوسری جنگ عظیم میں فریق بنے۔ جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی اس وقت وہ اٹلی میں تھا۔ وہ امریکہ کو جنگ سے باز رکھنے کے لئے اٹلی سے واشنگٹن گیا مگر کسی نے بھی اس کی بات پر توجہ نہیں دی اور وہ امریکہ کو روکنے میں ناکام رہا۔وہ واپس اٹلی لوٹ آیا اورجنگ کے دوران امریکہ کے خلاف ریڈیو  روم سے باقاعدہ پروگرام کرتا رہا۔ جنگ ختم ہوئی تو وہ اپنی بیٹی کے پاس  میرانوچلا گیا جہاں سے 1945 میں امریکی فوجیوں نے امریکی حکمرانوں کے خلاف بولنے کے جرم میں اسے گرفتار کر لیا اور اسے لوہے کے ایک پنجرے میں، جس میں گوریلے کو قید کر کے رکھا جاتا تھا، پیسا کے قریب قید کر دیا۔اس  وقت اس کی عمر ساٹھ سال تھی۔اس سے جوتے کے فیتے، کمر کی پیٹی اور دیگر چیزیں اس خیال سے لے لی گئیں کہ وہ کہیں خود کشی نہ کر لے۔پنجرے کے چاروں طرف خار دار تاریں لگا دی گئیں۔ پنجرے کے اندر، رفع حاجت کے لئے ایک ڈبہ، ایک موٹا کاغذ کہ وہ خود کو دھوپ سے بچا جا سکے، مہیا کئے گئے۔مگر رات کو پنجرے کے چاروں طرف اتنی زیادہ روشنیاں جلا دی جاتیں کہ وہ سکون سے سو نہ سکے۔ ساٹھ سال کی عمر میں اس نے ساری گرمیاں اسی چھوٹے سے پنجرے میں گزاریں۔

نومبر 1945 کو اسے واشنگٹن لایا گیااور اسے ننگ وطن قرار دے کر سولی چڑھانے کا فیصلہ کیا گیامگر ڈاکٹروں نے اسے پاگل قرار دے کر اس کی جان بچا لی اور اسے پاگل خانے بھیج دیا گیا۔تہتر (73) سال کی عمر تک وہ تیرہ سال پاگل خانے میں رہا۔ 1949 میں پاگل خانے میں اس کی موجودگی کے دوران اسے جب امریکہ کا شاعری کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا تو پورے امریکہ میں شور مچ گیا کہ کیا کسی تصنیف کو لکھنے والے کی زندگی کے حوالے سے دیکھا جائے یا اس کی ذات کو تصنیف سے الگ قرار دے دیا جائے۔سالوں تک یہ بحث چلتی رہی اور مصنف ایک پاگل خانے میں قید کی آگ میں جلتا رہا، مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اس کے دوستوں نے کوشش کی اوراس کے حق میں بہت سے مضامین لکھے کہ پاؤنڈ ایک محب وطن امریکی شہری ہے مگر وہ سب اسے پاگل خانے سے رہا کرانے میں ناکام رہے۔بالاخر اس کے ایک دوست کی درخواست پر ڈاکٹروں نے رائے دی کہ وہ کچھ پاگل ضرور ہے مگر خطرناک نہیں تو  1958 میں اسے پاگل خانے سے رہا کر دیا گیا۔

 وہ 1908  میں امریکہ سے یورپ آیا، وہ تین دفعہ امریکہ واپس گیا۔پہلی دفعہ ایک نوجوان اور خوبصورت شاعر کی حیثیت سے، دوسری دفعہ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کو شرکت سے روکنے کے لئے اور تیسری دفعہ ایک غدار اور پاگل شخص کی حیثیت سے۔ رہائی کے کچھ عرصے بعد وہ 9 جولائی 1958 کو اٹلی واپس چلا گیا۔ اٹلی میں اخبار نویسوں نے اس سے پوچھا کہ آپ اتنا عرصہ ایک پاگل خانے میں رہے تو اس نے ہنس کر کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ویسے میں آج ہی امریکہ سے آیا ہوں اورپورا امریکہ ہی پاگلوں کی پناہ میں ہے۔ اس نے بقیہ عمر اٹلی میں گزاری۔ اٹلی میں اس نے زیادہ دن ذہنی دباؤ میں گزارے۔ اس عرصے میں اس کی یاد داشت کمزور ہو گئی اور اسے بھولنے کی عادت بھی ہو گئی۔ یکم نومبر 1972 کو وہ فلورنس کے ایک ہسپتال میں 87 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔

بلا شبہ ایزرا پاؤنڈ بیسیویں صدی کا عظیم شاعر اور دانشور تھا۔اس کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ بیسیویں صدی کا ادب اس کے ذکر کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو سکتا۔ اس نے محسوس کیا کہ امریکہ والوں کے پاس اپنا کوئی کلچر نہیں۔ وہ یورپ  اور وکٹورین کلچر ہی کو اپنائے ہیں۔ مگر ہر امریکی چاہتا ہے کہ ایک ایسا بھی کلچر اور ادب ہو جسے وہ امریکی کلچر اور ادب کہہ سکیں۔ اس لئے ایزرا پاؤنڈ نے  یورپ کی پوری تہذیب کا مطالعہ کیا اور  یورپ کے کئی ممالک کا چکر لگایا۔اس کی کوشش تھی کہ یورپی تہذیب کے مخرج سے امریکی فکر کو کچھ اس طرح ملائے کہ ایک نیا امریکی کلچر وجود میں آ جائے۔وہ ایک سچا امریکی تھا اور یہی سوچ کر اس نے اس قدر محنت سے یہ کام کیا۔اسی جستجو نے اسے شاعری میں جدیدیت کی تحریک کا بانی بنا دیا۔ٹی۔ایس۔ایلیٹ ایک بڑا شاعر ہے جس کی  شہرت کی بڑی وجہ اس کی طویل نظم ”دی ویسٹ لینڈ“ ہے۔ ایلیٹ کے بقول اس نے جب یہ نظم لکھی اور اس لمبی نظم کا مسودہ اصلاح کے لئے پیرس میں موجود ایزرا پاؤنڈ کے سپرد کر دیا۔پاؤنڈ نے کانٹ چھانٹ کر اس نظم کو آدھا کر دیااور بقیہ حصے کو بھی کچھ رد و بدل کے ساتھ ایلیٹ کو واپس کر دیا جو اسی شکل میں شائع ہوئی اور ایلیٹ کو شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔ پاؤنڈ کو اس وقت امریکی ادب میں جو مقام حاصل ہے اور جس طرح آج کا امریکی ادب ایک تناور درخت نظر آتا ہے اس کا بیج پاؤنڈ ہی کا بویا ہوا ہے۔وہ کہتا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز نئی نہیں بلکہ کوئی بھی شخص کسی بھی چیز کو اپنے ذہن کے مطابق اس کی نوعیت بدل کر اسے نیا بنا سکتا ہے، اس طرح کہ اس میں زندگی باقی رہے۔ وہ ایک زندہ چیز ہو۔ایزرا پاؤنڈکہتا ہے ”اچھا فن ایک رحمت ہے اور برا فن ایک جرم“۔

مزید :

رائے -کالم -