قومی بحران اور دانشور

  قومی بحران اور دانشور
  قومی بحران اور دانشور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 وطن عزیز ایک ہمہ جہتی بحران کا شکار ہے اس پر ہر باشعور آدمی پریشان ہے۔ ہر آدمی اپنے طریقے سے اس صورت حال پر اپنا ردعمل ظاہر کر رہا ہے۔ سابق وفاقی سیکرٹری اور دانشور جناب اظہار الحق نے ایک کالم میں  موجودہ حالات پر اظہار خیال کیا اور کچھ تجاویز پیش کیں کہ کیسے اِس صورتحال کی بہتری کیلئے حصہ ڈالا جائے   انہوں نے اس سلسلے میں سابق آئی جی پولیس اور دانشور ذوالفقار چیمہ صاحب کی بھی اس سمت توجہ دلائی، اس کے جواب میں چیمہ صاحب نے علامہ اقبال کونسل کے پلیٹ فارم سے جس کے وہ صدر ہیں اتوار کے روز اسلام آباد کلب میں مختلف شعبوں کے ممتاز افراد کو مل بیٹھنے کی دعوت دی اِن میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم لودھی، ریٹائرڈ ریئرایڈمرل ارشد،ریٹائرڈ جسٹس مجاہد مقیم اور اکبر ایس بابر، الخدمت فاؤنڈیشن کے ہیڈ عبدالشکور، خورشید ندیم، پروفیسر مسعود زاہد، ایمبسیڈر عبدالباسط، ایمبسیڈر قاضی رضوان سمیت کوئی تیس لوگوں نے اِس نشست میں شرکت کی۔ چیمہ صاحب نے تعارفی کلمات میں موجودہ بحران کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کے سربراہوں کی تقرری کچھ نیک نام افراد کی سرچ کمیٹی کرے۔قابل کاشت رقبے پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے پر پابندی لگائی جائے۔ بازار غروب آفتاب کے بعد بند کئے جائیں۔ بیرون ملک سیاسی پارٹیاں اپنے دفاتر بند کر دیں اور پاکستان کی سیاست کی بجائے اُس ملک جس میں وہ رہ رہے ہیں کی سیاست میں بھرپور حصہ لیں اور اپنا مقام بنائیں اِس طرح وہ اپنے وطن کو بھی فائدہ پہنچا سکیں گے۔


انہوں نے جو نکات اُٹھائے تھے اور اُن کے جو حل تجویز کئے عمومی طور پر شرکاء میں اُن پر اتفاق رائے تھا۔ سیاسی اور معاشی بحران تو ہر شخص کو کسی نہ کسی سطح پر متاثر کر رہا ہے اور جہاں چار آدمی اکٹھے ہوتے ہیں موضوع بحث یہی صورتحال ہوتی ہے ہیں لیکن اِس صورتحال کو ایک عدالتی بحران نے مزید سنگین کر دیا ہے۔ چیمہ صاحب نے اِس سلسلے میں پُرزور انداز میں ایک تجویز پیش کی کہ اعلیٰ عدالتوں میں پیدا ہونے والی تازہ صورتحال میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ججوں کی تقرری کا طریق کار تبدیل کیا جائے۔
جنرل لودھی نے سول ملٹری تعلقات کا جائزہ پیش کیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ آرمی نے کئی دفعہ اپنے دائرہ کار سے تجاویز کیا ہے لیکن اب اِس ادراک کی روشنی میں ملٹری قیادت محتاط ہے انہوں نے ایک اچھی تجویز پیش کی کہ بہتر مینجمنٹ کیلئے ضروری ہے کہ صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ میرے خیال میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اِس معاملے میں سول ملٹری دونوں فریق وعدوں کے باوجود ناکام رہے ہیں۔ میں نے کچھ عرصہ پہلے اس ایشو پر ایک کالم لکھا تھا جس میں تجویز پیش کی تھی کہ پنجاب کو تین اور باقی صوبوں کو دو دو صوبوں میں تقسیم کیا جائے۔  جنرل صاحب نے لوکل باڈیز کے انتخابات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔جسٹس مجاہدنے ججوں کی تقرری کے طریق کارمیں تبدیلی سے اتفاق کیا۔ ڈالر کے موجودہ بحران کے لئے انہوں نے تجویز کیا کہ اگر ڈالر اکاؤنٹ کھولنے میں آسانی پیدا کی جائے اور غیرملکوں میں مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی جائے تو اِس سے مسئلے کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔


چیمہ صاحب نے مجھے دعوت دی تو وقت کی کمی کی وجہ سے میں نے جنرل لودھی کے ایک پوائنٹ پر اظہار خیال کیا۔ میں نے کہا کہ آرمی سے جنرل لودھی جیسے سینئر اور حقیقت پسند لوگوں کے علاوہ آرمی نے ایک ادارے کی حیثیت سے اپنی غلطیوں کا پبلک میں اعتراف کیا ہے اور قوم کو یقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سیاسی عمل میں مداخلت سے اجتناب کریں گے لہٰذا اب یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مسائل کا پشتارہ آرمی اور سپریم کورٹ کی گود میں نہ ڈالیں بلکہ اپنے مسئلے خود حل کریں۔ ظاہر ہے اِس کے لئے انہیں اختلافات کے باوجود مل کر بیٹھنا ہو گا۔یہ اُن کی قیادت کی صلاحیتوں اور قومی مسائل کے حل کیلئے سنجیدگی کا امتحان ہے۔
اجلاس میں طے کیا گیا کہ صاحب الرائے لوگوں کا ایک وفد بنایا جائے جو موجودہ بحران کے سٹیک ہولڈرز سے ملاقات کرے اور اُن پر زور دے کہ سب طبقے اپنا مخلصانہ کردار ادا کریں تاکہ موجودہ افسوسناک صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -