مغرب کے یہ اسلحہ فروش!

      مغرب کے یہ اسلحہ فروش!
      مغرب کے یہ اسلحہ فروش!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  میں اگلے روز ایک غیر ملکی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر دیکھ رہا تھا جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ یوکرین اور غزہ کی جنگوں نے امریکی اسلحہ خانے کو کنگال کرکے رکھ دیا ہے۔ امریکی صدر بائیڈن نے دو سال قبل یوکرین کو روس سے الجھا دیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ روس جلدی ہی گھٹنے ٹیک دے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ اس کی بجائے ان مغربی ممالک نے گھٹنے ٹیک دیئے جن کو امریکہ نے بارہا ’ہدایت‘ کی تھی کہ یوکرین کی اسلحی مدد کی جائے۔ برطانیہ، جرمنی، فرانس اور پولینڈ اس ہدائت پر عمل پیرا ہوئے تو ان کو معلوم ہوا کہ ان کے اپنے ”ویپن اینڈ ایمونیشن ریزروز“ خطرناک حد تک خالی ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف یوکرین کی ڈیمانڈ بڑھ رہی تھی کیونکہ روس کی طرف سے آرٹلری اور میزائل فائر میں بے تحاشا اضافہ ہونے لگا تھا۔ ایک گزشتہ کالم میں، میں نے انہی امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔

اب امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر ناٹو کے یورپی اتحادی، یوکرین کی ایمونیشن ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکتے تو اس کے لئے کوئی اور آپشن تلاش کی جائے۔

امریکہ کی دوسری آپشن آسٹریلیا کے وہ لق و دق صحرائی علاقے ہیں جو اس براعظم کے کل رقبے کے 90فیصد حصے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ آسٹریلیا ایک بڑا جزیرہ  ہے اور اس کے مشرقی، مغربی،شمالی اور جنوبی سواحل پر اس کے بڑے بڑے شہر اور بندرگاہیں واقع ہیں۔ اس براعظم کے مقامی باشندے اب بہت کم تعداد میں رہ گئے ہیں۔امریکہ کے ریڈ انڈین کی طرح وہ بھی مستقبلِ قریب میں صفحہ ہستی سے مٹا دیئے جائیں گے۔ امریکہ اب چاہتا ہے کہ آسٹریلیا کے بطن میں واقع اُن وسیع و عریض ریگستانوں میں ایسے کارخانے قائم کر دیئے جائیں جن میں اسلحہ و بارود کی کھیپیں تیار ہو سکیں۔ امریکی اندازوں کے مطابق یوکرین اور اسرائیل کو اگر آرٹلری کے مزید گولے (Shell) فراہم کرنے پڑے تو ان کا کوئی نہ کوئی کافی و شافی حل تو نکالنا پڑے گا۔

کوئی بڑی جنگ ہو رہی ہو تو اس میں بڑے بڑے ہتھیاروں (ٹینکوں، توپوں، میزائلوں اور ڈرونوں وغیرہ) کا گولہ بارود (Ammunition) بہت کم وقت میں بڑی مقدار اور تعدادمیں صرف ہو جاتا ہے۔ یہی حال فضائی بمباری میں استعمال ہونے والے بمبار طیاروں کا بھی ہے۔ان کا ایمونیشن جس رفتار سے خرچ ہوتا ہے، اسی رفتار سے اس کی باز آفرینی (Replenishment) کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے لئے اسلحہ اور گولہ بارود فیکٹریوں کا ایک وسیع سلسلہ درکار ہوتا ہے۔ یوکرین ماضی میں (سقوطِ سوویت یونین سے پہلے) سویت اسلحہ و بارود کا ایک بہت بڑا پروڈیوسر اور برآمد کنندہ رہا ہے اور اسی تناسب سے اس نے اپنے ہاں بارود ساز کارخانے بھی قائم کررکھے تھے۔ ہماری طرح کے تیسری دنیا کے جو ممالک یوکرین سے اسلحہ خریدتے تھے توان کا ایمونیشن بھی یوکرین ہی سے حاصل کیا کرتے تھے۔1991ء کے بعد جب یوکرین ایک آزاد اور خود مختار ریاست بن گیا تو اس کی اسلحہ و بارود کی برآمدات اس کی اقتصادی خوش حالی کی ضمانت بن گئیں۔

چنانچہ روس نے سب سے پہلے ان اسلحہ ساز فیکٹریوں کو نشانہ بنانے پر زور دیا۔ ابھی اس جنگ کو 6ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ اکتوبر 2022ء میں یوکرین کے اسلحہ و بارود کے ذخائر ختم ہو گئے اور صدر زیلنسکی کو امریکہ بھاگ کر اس ایمونیشن کی سپلائی کی درخواست کرنا پڑی۔ ناٹو کے ممالک نے ایک ڈیڑھ برس تک تو یہ ڈیمانڈ پوری کی لیکن جب یہ جنگ ختم ہوتی نظر نہ آئی تو نہ صرف یوکرین بلکہ امریکہ کو یہ ’فکر‘ لاحق ہوئی کہ یہ جنگ دراصل روس اور یوکرین کے درمیان نہیں بلکہ روس اور امریکہ کے درمیان بن رہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ جہاں روس کے فوجی اور سلاحِ جنگ اس جنگ میں خرچ ہو رہے ہیں وہاں ناٹو کے اگرچہ فوجی تو یوکرین نہیں جا سکتے تھے لیکن اسلحہ اور بارود تو یوکرینی فوجیوں کو درکار ہے۔کوئی بھی فوج گولہ بارود کے بغیر زیادہ دیر تک جنگ جاری نہیں رکھ سکتی۔ پاک بھارت جنگوں میں ہمارا ”وار سٹیمنا“ صرف چند دنوں تک محدود رہا اور بھارت کا حال بھی ہم سے زیادہ مختلف نہ تھا۔ اگر فرق تھا تو یہ تھا کہ بھارت کو ان جنگوں میں روس اور امریکہ کی مسلسل اسلحی اور بارودی کمک حاصل تھی اور پاکستان اس سلسلے میں تنہا رہ گیا تھا۔ ایران اور ترکی سے کچھ امداد ضرور ملی۔ لیکن ایک بھکاری دوسرے بھکاری کو کیا اور کتنی دیر تک کچھ دے سکتا ہے!

ہم آسٹریلیا میں امریکہ کے مجوزہ اسلحہ ساز کارخانوں کا ذکر کررہے تھے…… امریکہ ان اسلحہ خانوں میں اسلحہ نہیں بلکہ اسلحہ جات کا صرف ایمونیشن تیار کرے گا۔ اس سکیم پر عمل شروع ہو چکا ہے۔ آسٹریلیا میں مل والا (Mulwala)نام کے ایک دور افتادہ قصبے میں اس کا آغاز ہو چکا ہے۔

دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے اسی قصبے (مل والا) میں بارود ساز فیکٹریوں کے قیام کا آغاز کیا تھا۔اب وہ فیکٹریاں جو زمانے کی دستبرد سے بچ نہ سکیں ان کو از سرِ نو تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اغلب خیال یہ ہے کہ بہت جلد آسٹریلیا کی یہ فیکٹری (اور اسی طرح کی دوسری فیکٹریاں) یوکرین کی توپوں، ٹینکوں اور میزائلوں کے لئے شیل بنانے اور انہیں یوکرین بھجوانے کا بندوبست کر دیں گی!

مجھے خیال آ رہا تھا کہ کیا اس عمل کا اعادہ ہمارے اپنے صحرائی علاقوں میں کیا جا سکتا ہے؟…… یہ درست ہے کہ آسٹریلیا ایک براعظم ہے اور اس کا کل رقبہ تقریباً 77لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا بلوچستان اس سے بہت چھوٹا ہے اور اس کا رقبہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ مربع کلومیٹر ہے لیکن اگر پاکستان چاہے تو ایک کم سکیل پر بلوچستان کے صحراؤں  میں اس طرح کی اسلحہ و بارود ساز فیکٹری قائم کر سکتا ہے۔ آسٹریلیا کا قصبہ مل والا جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے، اس کا رقبہ اور آبادی بھی بہت کم ہے۔ اسی طرح اگر بلوچستان کے کسی علاقے / شہر/ قصبے میں بھی اسی تجربے کا اعادہ مقصود ہو تو ہم اس میں پروڈیوس کیا ہوا ایمونیشن یوکرین جیسے ممالک کو برآمد کر سکتے ہیں اور اگر پانی کی کمی کا مسئلہ ہو تو کراچی سے گوادر تک کا ساحلی علاقہ جو آج مچھیروں کا مسکن ہے، وہ آنے والے کل میں عسکری ہنر مندوں کا مسکن بن سکتا ہے۔ ساحلوں پر قائم کی گئی اسلحہ اور بارود ساز فیکٹریاں دنیا بھر میں قائم ہیں۔ ہمارے ہاں صرف واہ، حویلیاں،کامرہ اور ٹیکسلا میں یہی کام ہو رہا ہے۔ اگر اس کو وسعت دینی مقصود ہو تو بلوچستان کا ساحلی علاقہ ایک بہت پرکشش خطہ بن سکتا ہے۔

امریکہ ایک بڑا براعظم ہے لیکن اس میں جو اسلحہ بنانے والے کارخانے قائم ہیں ان کا تیار کردہ ’مال‘ ساری دنیا میں بیچا جاتا ہے اور اس کی مانگ اتنی زیادہ ہے کہ خریداروں کو سالہا سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جس خبر کا میں نے کالم کے آغاز میں ذکر کیا تھا اس خبرمیں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ امریکہ کے بڑے بڑے اسلحہ ساز کارخانے اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ اگر ہمارے ہنرمند کاریگر آسٹریلیا بھیجے گئے اور وہاں ان کے رہنے سہنے کا بندوبست کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجیکل برتری جو ہم نے برسوں کی ریاضت کے بعد حاصل کی ہے، اس پر زد پڑے۔ یہ کام بہت مشکل ہوگا کہ آسٹریلوی کارخانوں میں سارا عملہ امریکی ہو۔ لیکن مقامی ہنرمندوں کو جب انڈکٹ کیا جائے گا تو ہماری ’اجارہ داری‘ خطرے میں پڑ جائے گی۔

دیکھا آپ نے اہلِ مغرب، اپنی ٹیکنیکل برتری کو سینے سے لگانے میں کس دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہیں! ابھی ’مل والا‘ میں وہ فیکٹری آغاز کے مراحل ہی میں ہے اور امریکی اسلحہ سازوں کو فکر لگ گئی ہے کہ ہمارے ہاتھ سے یہ ہنر نکل گیا تو اس کے اثرات کس پیمانے کے ہوں گے۔

امریکہ کے علاوہ یہی حال تمام یورپی ممالک کا ہے۔ روس اور چین بھی اپنی ٹیکنیکل مصنوعات کو محفوظ رکھنے میں حد درجہ بخل سے کام لیتے ہیں۔ میرے (اور آپ کے بھی) دوست احباب اور رشتہ دار ان ملکوں میں گئے ہوں گے، ان سے پوچھ کر دیکھیں کہ ہم تیسری دنیا کے مسکینوں کووہ لوگ اپنی عسکری تنصیبات اور وار پروڈکشن اداروں / فیکٹریوں میں کسی درجے کی شرکت کی اجازت دیتے بھی ہیں یا نہیں۔میں نے بہت سے پاکستانی امریکی اور پاکستانی یورپی احباب سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگ اپنے اسلحہ ساز اداروں / کارخانوں کی ہوا تک بھی ہم پاکستان جیسے ملکوں کے باسیوں کو لگنے نہیں دیتے۔ زیادہ سے زیادہ میڈیکل شعبوں میں ہماری رسائی ہو جاتی ہے اور بس…… اس سے زیادہ اور کسی دوسرے طرف دیکھنے کی بھی ہم جیسے لوگوں کو اجازت نہیں۔ ہمارے لئے وہاں یا تو زیادہ سے زیادہ سیلزمینی یا ڈرائیوری کے شعبے ہیں یا پھر ڈاکٹری اور مدرسی کا پیشہ ہے اور ادویہ ساز فیکٹریوں میں بھی ہمیں کوئی بار نہیں۔ ہماری رسائی ایسے ہسپتالوں اور تدریسی اداروں تک محدود ہے جن کے مالکان  امریکی ہیں …… اللہ اللہ خیر سلا!

مزید :

رائے -کالم -