امیر عبدالقادر الجزائری کی داستان حیات: چند توضیحات(1)

امیر عبدالقادر الجزائری کی داستان حیات: چند توضیحات(1)

  

کوئی دو سال قبل مجھے امریکی مصنف جان کائزر کی ایک کتاب کے توسط سے انیسویں صدی میں فرانس کی استعماری طاقت کے خلاف الجزائر میں جذبہ¿ حریت بیدا ر کرنے اور کم وبیش دو دہائیوں تک میدان کارزار میں عملاً داد شجاعت دینے والی عظیم شخصیت، امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت سے تفصیلی تعارف کا موقع ملا تو فطری طور پر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ان کی داستان حیات اور خاص طو رپر ان کے تصور جہاد سے پاکستان کی نئی نسل کو بھی آگاہی پہنچانی چاہیے تاکہ ہمارے ہاں شرعی جہاد کا جو مسخ شدہ اور شرعی اصولوں کے بجائے ہمارے اخلاقی، تہذیبی اور نفسیاتی زوال کی عکاسی کرنے والا جو تصور پروان چڑھ رہا ہے، اس کا کسی حد تک مداوا ہو سکے اور ماضی قریب کی تاریخ سے ایک ایسا نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جس سے ہم عزم وہمت اور جرات وحوصلہ کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی، معروضیت اور بلند اخلاقی کا سبق بھی سیکھ سکیں۔ اس ضمن میں، مجھے ابتدا ہی سے اس بات کا پورا اندازہ تھا کہ امیر الجزائری کی شخصیت اور طرز جدوجہد سے حکمت وفراست اور اخلاقی اصولوں کی پاسداری کا جو نقشہ سامنے آتا ہے، ہمارے ہاں کا جہادی ذہن یقینا اس سے بدکے گا اور رد عمل میں لازماً اس انداز کی کوششیں ہوں گی کہ اپنے پسندیدہ جہادی ہیرو¶ں کے مقابلے میں امیر کی شخصیت کی قدر وقیمت کو گھٹایا اور ان کی ذات کو دینی واخلاقی لحاظ سے مجروح کیا جا سکے۔ میرا یہ اندازہ درست ثابت ہوا ہے۔ کراچی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ اخبار ”ضرب مومن“ کے ایک حالیہ شمارے میں مفتی ابو لبابہ شاہ منصورنے امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت اور ان کی داستان حیات سے متعلق امریکی مصنف جان کائزر کی کتاب کے اردو ترجمے کی پاکستان میں اشاعت کے حوالے سے، جس میں راقم الحروف کی سعی وکاوش بھی شامل رہی ہے، اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔ مفتی صاحب نے اس حوالے سے بعض ”خفیہ حقائق“ سے قارئین کو آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے جو وضاحت کا تقاضا کرتے ہیں، اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان سے متعلق اپنی مختصر معروضات قارئین کے سامنے پیش کر دوں۔

پہلی بات کتاب کے اردو ترجمے کی اشاعت کے لئے لاہور کے معروف اشاعتی ادارے ”دار الکتاب“ کا نام استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا ہے کہ راقم الحروف نے جان کائزر کی کتاب ” امیر عبد القادر الجزائری“ اور اس کے علاوہ اپنے مقالات کا مجموعہ ”براہین“ دار الکتاب کے مالکان سے اجازت لئے بلکہ انہیں پیشگی اطلاع دیے بغیر ”جبراً“ ان کے نام سے شائع کی ہیں۔ یہ بات خلاف واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بدیہی طور پر مضحکہ خیز بھی ہے، کیونکہ اول تو ایک جانے پہچانے اور معروف ادارے کے ساتھ اس طرح کا کوئی ”ہاتھ“ کرنا ممکن ہی نہیں اور فرض کریں کہ ایسا کیا جائے تو بھی کتاب کی اشاعت کے بعد وہ ادارہ حقیقت حال کی وضاحت کرنے اور قانونی چارہ جوئی کا پورا اختیار رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دار الکتاب کے مالک حافظ محمد ندیم صاحب کے ساتھ کافی عرصے سے راقم کے ذاتی مراسم کے علاوہ اشاعتی کاموں میں باہمی تعاون کا تعلق بھی ہے اور اس سے قبل بھی ہم 2007ءمیں دینی مدارس کے نظام تعلیم سے متعلق دو کتابیں الشریعہ اکادمی اور دار الکتاب کے مشترکہ اہتمام میں شائع کر چکے ہیں، جبکہ اسی نوعیت کے دوسرے منصوبوں پر بھی مشورہ اور گفت وشنید کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ” الجزائری“ اور ”براہین“، دونوں کی اشاعت کے ضمن میں حافظ محمد ندیم کو پوری طرح اعتماد میں لیا گیا تھا اور ان کی پیشگی اجازت کے بعد ہی یہ کتابیں دار الکتاب کے نام سے شائع کی گئی تھیں اور اشاعت کے بعد سے اب تک دار الکتاب کے واسطے سے مسلسل قارئین تک پہنچ رہی ہیں، البتہ یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ چونکہ مذکورہ کتب، خاص طور پر ”براہین“ کی اشاعت اصلاً دار الکتاب کی تجویز نہیں تھی، اس لئے ان کے مندرجات سے ان کا متفق ہونا بھی ضروری نہیں۔ دار الکتاب نے ان کتب کو شائع کرنے کی اجازت اتفاق رائے کے اصول پر نہیں، بلکہ دوستانہ مراسم کے تناظر میں رواداری کے اصول پر دی تھی جس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ جو حضرات ان معروضات کی تصدیق کرنا چاہیں، وہ حافظ ندیم سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

مفتی صاحب نے اس کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں میری دلچسپی اور سعی وکاوش کو اس انداز سے آشکارا کرنے کی کوشش کی ہے جیسے انھوں نے کوئی انتہائی خفیہ ”سازش“ گہری صحافیانہ تحقیق کے بعد دریافت کی ہو، حالانکہ میں اس کتاب کے مصنف جان کائزر کے ساتھ رابطے، کتاب کے انگریزی متن پر نظر ثانی، اردو ترجمے کی ترتیب وتدوین ، پھر اس کی اشاعت کے سلسلے میں اپنی دلچسپی اور کوششوں کی پوری تفصیل خود اپنے قلم سے ماہنامہ الشریعہ کے مارچ 2012ءکے شمارے میں لکھ چکا ہوں۔ مجھے جان کائزر کی کتاب سے امیر عبد القادر کی شخصیت کے متعلق پہلی مرتبہ علم ہوا اور مَیں نے ان کی داستان حیات سے اردو قارئین کو واقفیت بہم پہنچانے میں دلچسپی محسوس کی پھر اس کے لئے بساط بھر جو کچھ کر سکا، کیا۔ یہ ایک بالکل کھلی ہوئی اور علانیہ بات ہے، جس میں نہ سازش کا کوئی پہلو ہے اور نہ خفیہ منصوبہ بندی کا۔

مفتی صاحب نے لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والی تقریب کا ذکر بھی کیا ہے جس میں امریکی سفارت خانے کے ایک عہدیدار شریک ہوئے تھے۔ اس ضمن میں بھی بعض معلومات کی تصحیح ضروری ہے۔ یہ تقریب جان کائزر کی کتاب کے تعارف کے حوالے سے نہیں، بلکہ اس کی اشاعت سے بہت پہلے امیر عبد القادر کی شخصیت کے تعارف کے حوالے سے میزونٹ ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کا اہتمام جناب عبد القدیر خاموش نے کیا تھا جو ”مسلم کرسچین انٹرفیتھ ڈائیلاگ“ کے زیر عنوان بین المذاہب افہام وتفہیم کے حوالے سے اس طرح کی تقاریب منعقد کرتے رہتے ہیں۔ میں نے اس تقریب میں نظامت کی ذمہ داری انجام نہیں دی تھی، بلکہ محض امیر کی شخصیت کے حوالے سے ایک لیکچر دیا تھا۔ امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار (جن کا نام اور منصب مجھے بالکل یاد نہیں) اس میں مہمان خصوصی نہیں تھے، بلکہ مختصر دورانیے کے لئے شریک ہوئے تھے۔ جہاں تک اس طرح کی تقاریب میں شرکت کا تعلق ہے تو تحفظاتی ذہن رکھنے والے حضرات یقینا اس پر معترض ہو سکتے ہیں اور اس کے ڈانڈے یہود وہنود کی خفیہ سازشوں سے بھی جوڑ سکتے ہیں، لیکن ایسی تقاریب جن کا موضوع سخن مختلف مذاہب کی باہمی دلچسپی سے تعلق رکھتا ہو اور خاص طور پر ان کا مقصد اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ ہو، ان میں غیر ملکی حکومتوں کے نمائندوں کی شرکت کسی بھی طرح کوئی ناقابل فہم بات نہیں، بلکہ اس نوعیت کی تقریبات ہمارے ہاں کا عام معمول ہے۔ اس زاویہ نظر سے کم از کم میں ایسی تقریبات میں شریک ہونے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا اور نہ اس پر کسی قسم کی معذرت خواہی یا صفائی پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔

مفتی صاحب نے امیر عبد القادر کی شخصیت کے بارے میں بھی اپنے منفی تاثرات کو بڑی وضاحت سے پیش کیا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ان کے اس منفی تاثر کی بنیاد امیر عبد القادرکا ”شکست خوردہ“ جہاد ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ امیر عبد القادر نے کم وبیش سولہ سال تک فرانسیسی استعمار کے خلاف میدان کارزار میں سرگرم رہنے کے بعد جب یہ دیکھا کہ پوری الجزائری قوم رفتہ رفتہ فرانسیسی کیمپ کا حصہ بن چکی ہے اور ان کے ساتھ بس چند سو کی تعداد پر مشتمل جاں نثار ساتھیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت رہ گئی ہے تو انھوں نے اپنی جماعت کو اس بے حاصل کشمکش کی نذر کرنے کے بجائے فرانس کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا اور اپنی جماعت کو بحفاظت جلا وطن کر دیے جانے کی شرط پر فرانس کے ساتھ مصالحت کر لی۔(جاری ہے)   ٭

مزید :

کالم -