گورنمنٹ کالج کی عظمت کا راز

گورنمنٹ کالج کی عظمت کا راز
 گورنمنٹ کالج کی عظمت کا راز
کیپشن: ehsaan ilahi

  

راقم اپنے رب عظیم کی کس کس نعمت کا شمار کرے اور اتنی عاجزی و شکر گزاری کہاں سے لائے جو خالق کی مہربانیوں کے سامنے ٹھہر سکے۔ایک نعمت عظمیٰ کہ یہ ناچیز گورنمنٹ کالج لاہور جیسے عظیم الشان ادارے میں فرسٹ ایئر سے ایم اے تک تقریباً چھ سال زیر تعلیم رہا ہے۔سال 2014 گورنمنٹ کالج کے ڈیڑھ سو سالہ جشن کا سال ہے۔پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ابھی کل کی بات لگتی ہے، 1987ءمیں جب لالہ موسیٰ سے 5لڑکے میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ فارم لینے ایک ساتھ آئے تھے اور پھر 125سالہ تقریبات کے ہر ہر ایونٹ میں تو راقم بذات خود شریک رہا ہے۔یہ پچیس سال تو ایسے گزر گئے جیسے پچیس دن!پہلے دن پہلا قدم کالج کے گیٹ سے اندر رکھنے سے کہیں پہلے گورنمنٹ کالج کی عظمت کی دھاک دل پراس وقت سے بیٹھ گئی تھی جب سکول کی اردو کی کتاب میں علامہ اقبال پر مضمون پڑھا تھا۔اپنے زمانہ طالب علمی کے دوران اتنے سالوں میں بیسیوں ایسے مواقع آئے، ایسی ایسی شخصیات سے بالمشافہ ملاقات اور تبادلہ خیال کا موقع میسر آتا رہا، جنہیں اپنے سامنے دیکھنا ہزاروں لوگوںکا خواب ہوتا ہے۔اگر یہاں نام لینے شروع کردیئے تو سارا کالم ختم ہو جائے پر نام نہیں....!

جب ہم گورنمنٹ کالج کا حصہ ہوتے ہیں تو یہ اور طرح نظر آتا ہے اور جب فارغ التحصیل ہو کر اس سے دور ہوتے ہیں تو اس کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔راقم سال 1994-1995ءمیں یہاں سے ایم اے فلسفہ کا سیکشن ختم کرکے نکلا تھا اور پھر شاید گزشتہ برس اتنے سالوں بعد دوبارہ اندر داخل ہوا۔سب کچھ بدلا ہوا تھا۔زندگی میں احساسات کا ایک نیا تجربہ ہونے جا رہا تھا۔عمارت کے کچھ حصوں سے مانوس اجنبیت چھلک رہی تھی۔ہمارے زمانے کا گیٹ اور اب کے بار اندر جانے کا راستہ حالات کی نسبت سے سول سیکرٹریٹ کا روپ دھار چکا تھا۔راقم اپنے پرانے حافظے کی بنیاد پر جس رستے سے مین بلڈنگ کی طرف چل نکلا، وہ شائد اب شارع عام نہیں تھا۔اپنے زمانے کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے برآمدے میں داخل ہوتے ہی نظر ایک نیم پلیٹ پر پڑی اور قدم وہیں ساکت ہو گئے۔کیا دیکھتا ہے کہ پلیٹ پر لکھا ہے پروفیسر انجم نثار، رجسٹرار، راقم سب کچھ بھول کر سیدھا اس دفتر کے اندر چلا جاتا ہے۔پی اے سے استفسار پر پتہ چلتا ہے کہ سر پیچھے ریٹائرننگ روم میں ہیں اگر اپنے نام کی چٹ بھیج دی جائے تو ٹھیک ہوگا۔راقم سوچ میں پڑ گیا کہ اس چٹ پر اپنے نام کے علاوہ کیا لکھے کہ وہ پہچان لیں، لیکن کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا۔ اسی اثناءمیں پی اے نے کہا آپ چٹ مجھے دے دیں، مَیں اندر جا رہا ہوں۔سو، صرف نام کی چٹ لے کر وہ چلا گیا۔مَیں سر کے دفتر میں ہی صوفے پر اس انداز میں بیٹھ گیا کہ جب آپ کمرے میں تشریف لائیں تو سیدھی نظر مجھ پر پڑے۔

ابھی چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے کمرے کے کونے سے سر انجم نثار کی حیرت بھری آواز سنائی دی اور وہ جملہ جو میری سماعت سے ٹکرایا، اس نے مجھے عقیدت اور نیاز مندی کی گہرائیوں میں اتار دیا.... ”اوئے احسان توں تے میرے توں وی بڈھا لگنا اے، اوہ اج توں کتھوں آ گیا ایں....مَیں یہ جملہ سن کر ایک طرف ہواﺅں میں اُڑ رہا تھا تو دوسری طرف اپنے عظیم استاد کے قدموں کو چوم رہا تھا،جن سے آج تقریباً20سال بعد اچانک ملاقات ہورہی تھی۔مَیں نے بے ساختہ پوچھا، سر آپ کے ہاتھوں سے ہزاروں سٹوڈنٹ گزرتے ہیں۔آپ نے مجھے پہچان کیسے لیا؟ جواب سنئے: اوئے میں تینوں بھل سکنا واں بیٹا! ہور سنا کیہ ہو ریا اے؟

یاد رہے کہ راقم اپنے دور میں ان چند طالب علموں میں شامل تھا جو ہم نصابی سرگرمیوں کو نصاب سے زیادہ نصابی سمجھتے تھے۔کون سا ایسا فورم ہوگا، جس کا اہم عہدے دار یا ممبر بنے بغیر راقم نے کوئی کام کیاہوگا۔ایسی ہی ایک انتہائی خوشگوار یاد جو میرے لئے اس قدر اعزاز کی بات ہے کہ لفظ ساتھ نہیں دے رہے۔ہمارے زمانے میں فرسٹ ایئر کے داخلہ کا انٹرویو پرنسپل جناب عبدالمجید اعوان خود کیا کرتے تھے، لہٰذا میرا انٹرویو بھی پرنسپل آفس میں آپ ہی نے کیا تھا۔اس کے بعد سال چہارم میں راقم گورنمنٹ کالج میگزین راوی کا شریک مدیر بنا تو راوی کی مجلس ادارت کی خصوصی ملاقات اکثر پرنسپل صاحب سے ہوا کرتی تھی۔پروفیسر عبدالمجید اعوان جب ہم ایم اے پارٹ ون میں تھے تو ریٹائر ہو گئے۔کافی سال گزرنے کے بعد پرنسپل صاحب سے کہیں آمنا سامنا ہوگیا۔انتہائی گرم جوشی، محبت اور شفقت سے گلے لگا کر ملے۔مَیں نے پوچھا سر آپ کے ہاتھوں تو ہزاروں سٹوڈنٹس گزرتے ہیں۔آپ کو مَیں یاد ہوں؟ کہنے لگے ”تم وہی ہونا جو راوی تک گئے تھے۔

ابھی پچھلے ہفتے راقم کاپہلا کالم شائع ہوا۔میرے عزیز دوست اور ہم جماعت ریاض حسین کی کالم نگاری اور انداز تحریر نے اتنا متاثر کیا کہ راقم بے اختیار کہہ اٹھا: ”یار تینوں ویکھ کے تے میرا دل کر رہیا اے میں وی بلی تھیلے چوں بار کڈھ ہی دواں“.... 14اگست 2013ءسے جو کالم لکھنا شروع کئے ہیں اب چھپوانا شروع کردوں“.... ریاض حسین نے دوستی نبھاتے ہوئے پہلا شائع شدہ کالم ”مَیں بھی چودھری بننا چاہتا ہوں“....فیس بک پر مجھے ٹیگ کردیا، پھر کیا تھا.... یوں لگا کہ سارے بچھڑے ہوئے دوست ایک ساتھ مل گئے ہیں۔ایک دن میں دوستوں کے تاثرات اور ”لائکس“ نے مجھے یہ واضح پیغام دے دیا کہ وہ نہ جانے کب سے مجھے لکھتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔سب دوست احباب ایک طرف اصل تحریک تو جناب پروفیسر صابر لودھی کی ”لائک“ سے ملی۔لودھی صاحب ہمارے زمانے میں ”راوی“ کے نگران ہوتے تھے۔راقم کی تحریر میں اگر کچھ اثر ہے تو یہ صرف لودھی صاحب کی شفقت آمیز نگرانی، اصلاح اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے۔سچ بات تو یہ ہے کہ اگر راقم لودھی صاحب کے زیر سرپرستی راوی کی مجلس ادارت کا رکن نہ ہوتا تو آج کا دن کبھی نہ آتا۔آپ جیسے معتبر اور مدبر اساتذہ لاکھوں میں نہیں ملتے۔اس واقعے میں خاص بات تقریباً بیس سال بعد اپنے طالب علم کی کاوش کو دیکھنا اور سوشل میدیا پر یہ پیغام دیناکہ بیٹا تم اب بھی میری نظروں میں ہو عظمت کے میناروں سے بھی اونچا ہے۔

راقم پچھلے چند سالوں سے آئی بی اے پنجاب یونیورسٹی میں ایم بی اے کا ایک کورس پڑھا رہا ہے، لہٰذا اس کا رویہ اپنے طالب علموں کے ساتھ ویسا ہی ہونا قدرتی بات ہے۔راقم کلاس شروع ہونے کے چند لیکچرز کے بعد سے ہی اپنے ہر سٹوڈنٹ کو نام سے پکارتا ہے۔ایک سیشن کے اختتام پر ایک سٹوڈنٹ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ سر مَیں جہاں جاب کرتا ہوں، وہاں باس مجھے کلاسز لینے کا وقت دینے کو تیار نہیں تھا، لیکن دوسری تیسری کلاس میں جب آپ نے مجھے نام سے پکارا تو اس دن کے بعد سے مَیں نے ایک بھی کلاس مِس نہیں ہونے دی، کیونکہ آئی بی اے کے تقریباً چھ سالہ دور میں آپ کے علاوہ کم ہی کسی استاد نے مجھے نام سے پکارا ہوگا۔ اب آپ میری جذباتی کیفیات کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں، جسے اپنے استادوں نے بیس سال گزرنے کے بعد بھی دست شفقت سے محروم نہیں کیا۔گورنمنٹ کالج عظیم ہے اور اس کے پروفیسر انجم نثار، ڈاکٹر عبدالمجید اعوان اور پروفیسر صابر لودھی جیسے عظیم تر استاد اسے عظیم ترین بنانے والے عظمت کے مینار ہیں۔گورنمنٹ کالج ٹاور ایسے استادوں کی موجودگی میں روز نئی بلندیوں کو چھوتا ہے۔

مزید :

کالم -