فیصلے کا وقت

فیصلے کا وقت
فیصلے کا وقت

  

کپتان11مئی کو فیصلہ کرو لیڈر بننا ہے یا سیاست دان۔ لیڈر بننا ہے تو قوم سے وعدہ کرو کہ انتخابی عمل میں تبدیلی تک پیچھے نہیں ہٹو گے۔اگر سیاست دان بننا ہے ، تو غیر ملکی طاقتوں کو ضامن بنا کر کوئی این آر او کرو، کسی میڈیا ہاﺅس سے سودے بازی کر لو اور خدارا عوام کی امیدوں کا خون نہ کرو۔ کپتان فیصلہ کرو تبدیلی یا اقتدار؟

نظر اُٹھے تو منزل ایک قدم پر ہے

سفر آسان ہے بھی اور نہیں بھی

ابھی خواب باقی ہیں، ابھی آرزوﺅں کا خون نہیں ہوا، ابھی آس ٹوٹنے کا مقام نہیں آیا، ایک مہیب امید کی کرن اجالے کی نوید دے رہی ہے کہ کپتان اس فرسودہ نظام میں تبدیلی کا عزم رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے اردگرد لوگوں کو دیکھ کر آرزوﺅں کے جنازے اٹھنے لگتے ہیں، خواب ٹوٹنے سے وحشت ہونے لگتی ہے، مگر امید.... ایک امید ہی ہے کہ اگر امید بھی مر گئی تو زندہ کیسے رہیں گے۔ کپتان سے اب بھی امید ہے، مگر کپتان کا حال یہ ہے ”مَیں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں“ سعید جوشی کے خوبصورت اشعار یاد آ گئے، جو کپتان کی موجودہ بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں:

مجھے بتایا ہوا ہے مری چھٹی حس نے

میں اپنے عہد خلافت میں مارا جاﺅں گا

مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہو گا

مَیں دوستوں کی حراست میں مارا جاﺅں گا

کپتان اوپر اٹھو، اپنے قد کے برابر فیصلے کرو، چھوٹے فیصلے انسان کو پست قد بنا دیتے ہیں، بڑے فیصلے انسان کو بلندیاں چھونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ لیڈر وہ نہیں ہوتا جو اپنے حریفوں کو پچھاڑ ڈالے اور جوڑ توڑ، داﺅ پیچ سے ان پر سبقت حاصل کرے۔ یہ اصول کھیل تماشے کی دنیا میں یا قبضہ مافیا کے لئے تو سود مند ہوتے ہیں، لیکن لیڈر وہ ہوتا ہے ، جو قوم کا شعور بیدار کرے، تعمیری جدوجہد سے فرسودہ نظام میں تبدیلی لائے۔ منزل کی نشاندہی کرے اور ایک عظیم کارواں سے سفر کا آغاز کرے، جو منزل پر پہنچ کر ہی دم لے۔ قائداعظم ؒ کی مثال موجود ہے، قائد کی عملی زندگی سے روشنی حاصل کرو۔ کپتان آگے بڑھو، آغاز انتخابی نظام میں اصلاحات سے کرو۔ جب تک انتخابی نظام کو شفاف بنانے میں کامیاب نہیں ہوتے اس فرسودہ نظام کے تحت ہزاروں الیکشن بھی لڑ لو ”فرشتے“ کامیاب نہیں ہونے دیں گے، جو رات کے آخری پہر اترتے ہیں اور طلوع صبح تک اپنے محبوب بندوں کو تخت و تاج عنایت کر جاتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ معجزوں کا سلسلہ بند ہو چکا۔ ہمارے ہاں الیکشن کی رات ”فرشتے“ ایسے ایسے معجزے دکھاتے ہیں کہ فلک بھی ان کے کمال سے حیراں ہو جاتا ہے۔ کپتان کے پاس دو راستے ہیں، جن کے ذریعے وہ اقتدار حاصل کر سکتا ہے۔ ایک راستہ تو وہی ہے، جس پر چل کر ہمارے ہاں آج تک ”جمہوری حکمران“ حکومت کرتے رہے اور دوسرا طریقہ الیکٹرانکس ووٹنگ ہے۔ صرف اور صرف عوامی ووٹ سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنا۔ کپتان نے اگر روایتی رائج طریقہ اپنایا، تو پھر وہ لیڈر سے سیاست دان بن جائے گا۔ ہیرو سے اس کا رتبہ بہت نیچے آ جائے گا، ظفر اللہ جمالی، شوکت عزیز،یوسف رضا گیلانی یا پھر....!

کپتان کے پاس چار سال ہیں، پچھلا ایک سال وہ ضائع کر چکا۔ اسے اگلے الیکشن تک ہر صورت اسے انتخابی نظام کو دھاندلی سے پاک کرنے کے لئے جدوجہد کرنی ہو گی، اس سے پہلے کہ اگلا الیکشن آ جائے اور کپتان پھر شکست کا رونا روتا رہے یا سودے بازی کر کے ادھورے اقتدار کا طوق گلے میں پہن کر بے بسی کی تصویر بن جائے۔ کپتان کو ہر صورت یہ نظام بدلنا ہو گا، چینی کہاوت ہے ”پیاس لگنے سے پہلے کنواں کھود لو“۔

امریکہ، برطانیہ اور ہندوستان کے انتخابی نظام کی مثالیں دیتا کپتان یہ ادراک ہی نہ کر سکا کہ وہ جس انتخابی نظام کے تحت الیکشن لڑ رہا ہے، و ہ غیبی ہاتھ کی مدد سے لڑا جانے والا نظام ہے۔ یہاں پر اتنی صفائی سے پنکچر لگائے جاتے ہیں کہ رات کے آخری پہر زیر زبر اور زبر زیر بن جاتی ہے۔ بھولا کپتان الیکشن مہم میں میاں صاحب اور مسٹر زرداری کو للکارتا ہے اور یہ سمجھتا رہا کہ اس کا مقابلہ شائد میاں صاحب اور زرداری صاحب سے ہے اور شائد ابھی تک مکمل طور پرنہیں سمجھ پایا کہ اس کا مقابلہ اس فرسودہ نظام سے تھا۔ زرداری صاحب اور میاں صاحب تو اس نظام کا ایک حصہ ہیں، اصل اقتدار تو کہیں اور ہوتا ہے۔ اس انتخابی نظام کے راز کو سمجھنے والے ہمارے نمک خوار تجزیہ کار کپتان کی میاں صاحب پر تنقید سے جب خون کے آنسو روتے تھے تو ان کا غم بجا تھا کہ وہ جانتے تھے کہ عمران خان کا مقابلہ تو نظام کے ساتھ ہے اور یہ خواہ مخواہ میاں صاحب پر تنقید کرتا ہے۔ مملکت کے مقدر کے فیصلے کسی اور کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ ان کی مرضی کے فیصلے کریں تو گڈ بوائے اور اگر اپنی مرضی سے کریں گے تو تاریخ اپنے آپ کو کال کوٹھڑیوں میں دہراتی رہے گی۔ افتخار عارف نے کہا تھا:

سب کٹھ پتلیاں ہیں رقص میں بس رات کی رات

سحر سے پہلے سب کرتب تماشا ختم ہو گیا

کپتان کی سب سے پہلی ترجیح انتخابی عمل میں شفافیت کے لئے الیکٹرانکس ووٹنگ کا طریقہ شروع کرانا ہونی چاہئے۔ ہر حلقے میں جعلی ووٹوں کی کثیر تعداد ثابت کر رہی ہے کہ بڑے پیمانے پر دھاندلی کی جاتی ہے۔ کپتان اگر ووٹنگ کا نظام تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ حقیقی معنوں میں انقلاب ہو گا۔ راتوں رات مینڈیٹ تبدیل کرنے کا راستہ رک جائے گا۔ مفلوج سیاسی گھوڑوں کی بیساکھیاں ٹوٹ جائیں گی۔ غیر ملکی مداخلت کا راستہ بند ہو جائے گا، ”فرشتوں“ کے معجزوں کا دور ختم ہو گا۔ اس ملک میں فرسودہ نظام کو رائج رکھنے اور نااہل و کرپٹ لوگوں کو مسلط کرنے والوں کو ناکامی ہو گی۔ طاقتور مہروں سے یہ نظام پاک ہو جائے گا۔ آج بھی اس نظام کے طاقتور مہروں کو الگ کر کے دیکھا جا سکتا ہے، جنہیں ہرانا کسی صورت ممکن نہیں، چاہے انہیں ان کے گھر والے بھی ووٹ نہ دیں۔ عمران خان اگر دھاندلی کے خلاف نکل ہی پڑا ہے تو اسے انتخابی نظام میں تبدیلی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانی ہو گی تاکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نااہل، کرپٹ اور عوام دشمن لوگوں سے پارلیمنٹ پاک ہو۔

کپتان کو فیصلہ کن معرکہ لڑنا ہو گا۔اسے اچھی طرح یہ سوچ کر آگے بڑھنا ہو گا کہ جب وہ اس نظام کو چیلنج کرے گا تو اس نظام کی محافظ ساری طاقتیں اس کے خلاف اکٹھی ہوں گی، کپتان نے آج تک حقیقی معنوں میں اس نظام کو بدلنے کے لئے عملی جدوجہد نہیں کی، جبکہ طاہر القادری عملی طور پر اس نظام کو چیلنج کر چکا۔ کپتان کو انتخابی عمل کو دھاندلی سے پاک کرنے کے لئے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ اس کو انتخابی عمل کو دھاندلی سے پاک کرنے کے لئے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ اس کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کرپٹ نظام کی محافظ طاقتیں چاہیں گی یہ نظام ان کی گرفت میں رہے۔ باریاں لگائی جاتی رہیں۔ کٹھ پتلیاں اشاروں پر ناچتی رہیں، جمہوریت کے نام پر سیاسی تماشے سجتے رہیں۔ سیاست دانوں کے روپ میں مفلوج گھوڑے میدان میں اترتے رہیں۔ ایلیٹ کلاس کے مفادات کو تحفظ ملتا رہے، عام لوگ بدترین غلاموںکی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور رہیں۔ اس دھرتی پر شیطانیت رقص کرتی رہے، ڈیروں، حجروں اور محلات میں انسانیت پر ظلم کے ایجنڈے تیار ہوتے رہیں اور اس ملک کو لوٹنے والے طاقتور ہاتھوں کو روکنے کے لئے کوئی احتساب کا عمل نافذ نہ ہو سکے۔ کپتان کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ اس معرکے میں وہ کامیابی تک لڑے گا یا ادھوا چھوڑ دے گا۔11مئی کپتان کے لئے فیصلے کا دن ہے، اسے اپنے لئے راستے کا انتخاب کرنا ہے کہ کپتان تبدیلی چاہتا ہے یا اقتدار، اسے لیڈر بننا چاہے یا سیاست دان، کپتان کو اب فیصلہ کرنا ہو گا۔ کپتان 11مئی کو نکلنے سے پہلے خوب سوچ لو لیڈر یا سیاست دان، تبدیلی یا اقتدار....!

مٹی کا جسم لے کر چلے ہو تو سوچ لو

اس راستے میں ایک سمندر بھی آئے گا

مزید : کالم