کیا روحیں بھی ناراض ہو جاتی ہیں؟

کیا روحیں بھی ناراض ہو جاتی ہیں؟
کیا روحیں بھی ناراض ہو جاتی ہیں؟
کیپشن: abdul hakim ghori

  

میری عادت ہے کہ مَیں عشاءکی نماز ادا کرنے کے فوری بعد سو جاتا ہوں، اس کے کئی فوائد ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سونے سے پہلے مخصوص دُعائیں، کلمات اور وظائف و اوارد پڑھنے کے بعد خاصا وقت مل جاتا ہے، جس میں، مَیں خیالی پلاﺅ کی دیگیں چڑھا کر ورڈز ورتھ کی اصطلاح میں....Bliss of Solitude ....یعنی تنہائی کا لطف اٹھاتا ہوں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مَیں پاکستان کو اسلامی، جمہوری، فلاحی اور ترقی یافتہ پُرامن ملک بنا دیتا ہوں، جہاں بدامنی کا نشان نہیں ہوتا اور شیر اور بکری ایک گھاٹ پرپانی پیتے ہیں.... چند روز قبل معمول کے مطابق ویلفیئر اسٹیٹ کے خاکے میں رنگ بھر رہا تھا کہ لائٹ آن ہو گئی۔ میرے بیٹے نوید احمد نے دھیمی آواز میں کہا: ” ابو ایک صاحب ملنا چاہتے ہیں، وہ بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں ضروری کام ہے، پلیز ان سے ملاقات کر لیں“۔ بیٹے کی”پلیز“ اتنی اثر انگیز تھی کہ مَیں اُٹھ بیٹھا اور ان صاحب سے ملا۔

چالیس کے پیٹے میں ایک شخص خستہ حال، درماندہ اور وحشت کی تصویر بنا میرے سامنے بیٹھا تھا، پینٹ شرٹ کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ معاشی بربادی کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے، بکھرے ہوئے بال، بڑھی ہوئی شیو اور میلے کچیلے ہاتھ پاﺅںاس بات کے غماز تھے کہ وہ نہ صرف پریشان ہے، بلکہ تاریک راہوں میں بھٹکتا رہا ہے۔ پہلی نظر میں مجھے اس سے ہمدردی اور رحم محسوس ہوا۔ ابتدائی سلام و دعا کے بعد وہ بولا اور بولتا چلا گیا۔ مَیں تمام وقت چپ چاپ اس کی داستان غم سنتا رہا.... وہ کہہ رہا تھا: ”غوری صاحب“! مَیں آپ کے پاس نہ تو پناہ کی تلاش میں آیا ہوں اور نہ ہی مالی مدد کا خواہاں ہوں، مَیں ”پاکستان“ کا قاری ہوں اور حد درجہ پریشان کن حالات کے باوجود روزنامہ ”پاکستان“ ضرور پڑھتا ہوں۔ مَیں آپ کے ہر کالم کو پوری توجہ کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ مَیں آپ کو بے وقت تکلیف دینے پر معذرت چاہتا ہوں۔ مَیں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ میری عبرت انگیز حقیقی کہانی اپنے کسی کالم میں شائع فرمایئے۔ مَیں اپنی کہانی سنا کر اندھیرے کا حصہ بن جاﺅں گا اور شاید پھر کبھی آپ کے پاس نہیں آﺅں“۔

یہ کہہ کر وہ شخص ایک ساعت کے لئے خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔ میرے بیٹے نے اسے پانی دیا۔ مَیں ساکت و جامد بیٹھا اس شخص کی باڈی لینگوئج پڑھ رہا تھا۔ اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ ہونٹ خشک تھے اور چہرے پر ہوائیاں اُڑ ری تھیں۔ کچھ دیر توقف کے بعد وہ کہنے لگا! ”میری پیدائش کے وقت میرا باپ اِس دنیا میں نہیں تھا، جب مَیں نے ہوش سنبھالا تو میرے نانا اور نانی ہی میرے والدین تھے۔ میرے ماموں اور خالائیں سب ہی لوگ میری پرورش ، تعلیم و تربیت اور دیکھ بھال پر مائل تھے۔ میرا گھرانہ دینی اقدار سے چمٹا ہوا تھا۔ خا ص طور پر میرے نانا اللہ کے ولی تھے۔ اس دور میں وہ صحابہ کرام ؓ کے زمانے کے اخلاق اور سیرت کی عملی تصویر تھے۔ تہجد گزار، کسب حلال کے لئے ہمہ وقت کوشاں، معاملات اور لین دین میں کھرے اور دیانتدار.... مجھے یاد ہے وہ جب کبھی محلے کی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھتے ، مَیں اپنے بڑے یا چھوٹے ماموں کے ساتھ ان کے لئے سحری اور افطاری لے کر جاتا ۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ ہر سال میں ایک ماہ لگاتے، اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ نانانے بڑے چاﺅ سے میری ہر خواہش کو پورا کیا۔ مَیں نے ایم اے کیا اور کمپیوٹر کے کورسز ان کی رہنمائی میں کئے۔ ایک بڑی فیکٹری میں میری جاب آفیسر گریڈ میں لگی، تو میرے نانا خود مجھے فیکٹری چھوڑ کر آئے۔ میرے لئے دعائیں کیں۔ ”مَیں پورے خاندان کا واحد فرد تھا، جسے نانا ابو نوکری کے اسرار و رموز سمجھا کر اور دیانتداری سے کام کرنے کی نصیحت کے ساتھ سیٹ پر بٹھا کرآئے تھے“۔

 یہاں پہنچ کر وہ شخص خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھیں اشکوں سے لبریز تھیں اور خشک ہونٹ تھرا رہے تھے۔ مَیں کچھ نہ بولا۔مَیں چاہتا تھا کہ وہ ضبط کے بندھن توڑ کر وہ سب کچھ کہہ دے جو اس کے دل میں ہے۔ چند ساعتوں کے بعد وہ کہنے لگا: جس سال مارچ میں میری جاب ہوئی، اسی سال دسمبر میں میرے نانا اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کا کمرہ مجھے دے دیا گیا۔ میری شادی ایک پڑھی لکھی لڑکی سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے تین اولادوں سے نوازا، میری جاب ٹھیک ٹھاک تھی، ہر چیز درست سمت میں جا رہی تھی کہ مَیں نے اپنے ہاتھوں سے بربادی کا سامان کیا، کچھ معاشی مسائل حل کرنے کی غرض سے مَیں نے بینکوں سے سودی قرضہ لے لیا۔ اس ضمن میں، مَیں نے اپنی نانی اور فیملی کے کسی ممبر سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔ میری بدبختی کہ مَیں نے ایک شخص سے ،جو چلتا پھرتا سود خور ہے، دو لاکھ روپے سود پر لے لئے اس کے بعد حالات بد سے بد تر ہوتے گئے، مَیں سود کی دلدل میں پھنستا چلا گیا۔ ایک قدم آگے بڑھتا تو دس قدم پیچھے جا پڑتا۔ سود کی بدبودار غلاظت کے کیچڑ میں اس طرح دھنس چکا تھا کہ14لاکھ قرض اتارنے کے باوجود اب بھی میرے کندھوں پر25لاکھ روپے کا سودی قرض چڑھا ہوا ہے۔ مَیں جتنا اس گندگی سے نکلنا چاہتا ہوں، اتنا ہی دھنستا جا رہا ہوں۔

 میرے نانا مرحوم سود، جھوٹ بولنے اور قرض لینے سے بہت منع فرماتے تھے اور ہر وقت اللہ سے دُعا کرتے تھے کہ اسے اللہ میرے کنبے کو اس نحوست سے محفوظ رکھ۔ مَیں نے اسی کمرے میں جہاں وہ دن رات عبادت کرتے تھے، بیٹھ کر سودی لین دین کیا۔ جھوٹ بولا، گھر کے ہر فرد سے غلط بیانی کی اور قرض اٹھائے۔ ان قرضوں پر سود کا انبار اتارتے اتارتے مَیں تھک گیا ہوں۔ آپ اپنے کالموں میں سود کے بارے میںضرور لکھیں، مَیں اور میرا گھرانہ اس کی نحوست کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ میری نوکری ختم ہو چکی ہے۔ مَیں ایک بیروزگار شخص ہوں۔ میرے گھر پر قرض خواہ یلغار کرتے ہیں، گلی میں کھڑے ہوکرگھر کی عورتوں سے بلند آواز میں شور بپا کر دیتے ہیں۔ مَیں گھر سے بھاگ کر دربدر ہو چکا ہوں۔ مَیں کہاں جاﺅں گا، مجھے خبر نہیں؟ میری فیملی کا کیا بنے گا؟ مَیں نہیں جانتا۔ مَیںاندھیروں کا حصہ بن جاﺅں گا۔ میری دنیا تو تباہ ہو چکی، آخرت بھی برباد ہے۔ مَیں نے اللہ اور اس کے پیارے رسول اکرمﷺ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ مَیں تو اس کی سزا بھگت رہا ہوں، میرے گھر والے بھی میری بداعمالیوں کے سبب مصائب کا شکار ہیں، سر آپ میری ذلت آمیز اور عبرت انگیز کہانی روزنامہ ”پاکستان“ میں ضرور شائع کریں تاکہ دوسرے لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔ خدارا سودی لین دین نہ کریں، قرض اٹھانے کذب بیانی اور بدعہدی کرنے سے توبہ کریں، جو قدم اٹھائیں سوچ سمجھ کر اور بڑوں سے مشورہ کر کے اٹھائیں، ورنہ تباہی اور بربادی آپ کا مقدر بن جائے گی۔ سر میرے لئے دعا کریں کہ مَیں اس عذاب سے نجات حاصل کر لوں.... سود کا عذاب.... قرضوں کا عذاب .... جھوٹ کا عذاب....“!

وہ شخص مسلسل بڑبڑا رہا تھا، اسی حالت میں وہ باہر نکلا اور اندھیرے میں معدوم ہو گیا۔ میری نیند اڑ چکی تھی پورا وجود مضطرب تھا، تمام رات بستر پر کروٹیں بدلتے گزری .... میری فطرت ایسی ہے کہ مَیں دوسروں کی دلخراش کہانی کی چوٹ اپنے جگر پر کھاتا ہوں اور غم سے نڈھال ہو جاتا ہوں۔ مَیں نے اس شخص کا احوال اپنے ایک دوست سے بیان کیا، گو وہ مجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں، مگر چونکہ اہل دل اور صاحبان بصیرت کے صحبت نشین ہیں۔ وہ معاملات اور حقائق کو صوفیوں کی نظر سے دیکھتے ہیں، تمام واقعہ سن کر کہنے لگے:”غوری صاحب! جس آدمی کا قصہ عبرت انگیز آپ نے بیان کیا ہے، اس کے نانا کی روح اس سے ناراض ہے، اس لئے وہ گردش ایام کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے“۔ مَیں نے پوچھا:کیا روحیں بھی ناراض ہو جاتی ہیں؟ فرمایا:”بالکل“ ۔چہکتی مہکتی پھرتی ہیں،جب کبھی ان کے لئے صدقہ جاریہ کا تحفہ برائے ایصال ثواب اہل دنیا کی جانب سے جاتا ہے تو وہ مزید خوش ہوتی ہیں اور جب ان کی اولاد یا لواحقین میں سے کوئی حسنات کی سیئات کا ارتکاب کرتا ہے، نیک لوگوں کی روحیں تڑپ جاتی ہیں اور اظہار ناراضی کرتی ہیں۔ یہ ناراضی اور طیش ان کی اولاد پر قہر بن کر ٹوٹتا ہے اور وہ اس جہان آب و گل میں طرح طرح کی پریشانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

 جس شخص کا واقعہ آپ نے مجھے سنایا ہے اس کے نانا ابو ایک نیک پارسا انسان تھے، مَیں تو اپنے وجدان سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اعمال حسنہ کے باعث دور حاضر کے ولی اللہ تھے۔ ان کے وصال کے بعد ان کا کمرہ اس شخص کو ملا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ ان کا نائب اور مسند نشین بن جاتا اور ان کی عطا کردہ تعلیم و تربیت سے ان کی نیکی اور اوصاف حمیدہ کی ترویج کے سلسلے کو آگے پھیلاتا، مگر اس کے برعکس اس نے انہی کے گھر، بلکہ ان کی جائے سکونت اور مقام آہ و فغاں اور اللہ پاک کے حضور سجدہ ریز ہونے کی بجائے شیطانی کھیل شروع کر دیا۔ سودی لین دین اور قرضے لینے کی روش انسان کو جھوٹا، لالچی، مفاد پرست، خود غرض، بزدل اور ڈرپوک بناتی ہے۔ حرام رزق پر پلنے والا وجود نہایت کم ہمت اور تُھڑدِلا ہوتا ہے، جبکہ حق حلال کی روزی روٹی کھانے کمانے والا شخص باہمت، دلیر اور بہادر ہوتا ہے۔ اس شخص نے اپنے نانا ابو کا رحمانی راستہ چھوڑ کر سود خوری اور جھوٹ کا شیطانی راستہ اپنایا، اسی لئے اس کے نانا کی روح اس سے ناراض ہو گئی۔

 اللہ کے نیک بندے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنے والوں سے خوش ہوتے ہیں اور جب اللہ پاک کے حکم اور رسول اکرمﷺ کے اسوہ¿ حسنہ کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو نیک بندوں کی روحیں خفا ہو جاتی ہیں۔ اس شخص کو چاہئے کہ اللہ رب العزت کے حضور گڑ گڑا کر روئے اور سودی لین دین، کذب بیانی، عہد شکنی سے توبہ کرے، ہر وقت سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیﷺ پر درود شریف کے تحائف نچھاور کرے اور اپنے نانا ابو کی روح کو نیک اعمال کے ذریعے منائے۔اسی میں اس کی بچت ہے، ورنہ جھوٹ میں ہلاکت ہے اور سود خوری میں دوزخ کا دائمی عذاب ہے۔ ہمارے بزرگوں کی روحیں ہم سے اس وقت خوش ہوتی ہیں، جب ہم اللہ پاک اور ختمی مرتبت کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں۔ میرے درویش صفت دوست کی باتیں دل کو لگتی ہیں۔ بلاشبہ ہمارے بزگوں کی روحیں ہمارے اعمال کی بدولت خوش یا ناراض ہوتی ہیں۔ مَیں روزنامہ ”پاکستان“ کے ذریعے اس شخص اور تمام قارئین کو یہ حقیقت بتانا چاہتا ہوں کہ اگر اپنے بزرگوں کی روحوں کو منانا ہے، تو اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چلئے۔ ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے اور کامیابی اور عزت ہے۔ سودی لین دین سے بچئے کہ اس میں اندھیروں اور ناکامیوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مزید :

کالم -