بجلی بحران ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت

بجلی بحران ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے کا ہمارا اپنا ایجنڈا ہے۔ ہم اس پر کاربند رہیں گے، ہم نے توانائی بحران پر قابو پالیا تو ملک سے بےروزگاری کا خاتمہ ہو گا۔ پاکستان اقتصادی خود مختاری حاصل کرے گا، دنیا میں اس کا وقار بلند ہو رہا ہے۔دنیا پاکستان کا رخ کر رہی ہے، سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ رکاوٹوں اور مخالفت سے ڈرنے والے نہیں قوم ہمارے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام بجلی کے بحران پر صبر سے کام لیں، بجلی کا بحران ایک دن میں ختم نہیں ہو سکتا۔ وہ پورٹ قاسم پر کول پاور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور قطر کے تعاون سے پورٹ قاسم پر1320 میگاواٹ کا منصوبہ شروع ہونے سے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔ دس سال میں21ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ہم بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں ، ہمیں کرنے دیا جائے۔ وزیراعظم نے خود کو وزارت بجلی و پانی کی طرف سے دی گئی بریفنگ کے موقع پر کہا کہ انہیں اعداد و شمار نہیں رزلٹ چاہئیں ، لوڈ شیڈنگ میں کمی ہونی چاہئے۔

بجلی و پانی جیسے منصوبوں کے سلسلے میں ہمیشہ طویل المدت کے ساتھ فوری ضرورت پوری کرنے کے منصوبوں کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے، لیکن وزیراعظم کی طرف سے دس سال میں 21ہزار میگاواٹ بجلی تیار کرنے کے منصوبے کی بات کے ساتھ عوام کو صبر کرنے کے لئے کہہ دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ توانائی بحران ایک دن میں ختم نہیں ہو سکتا، جبکہ یہ ایک دن کی نہیں پورے ایک سال کی بات ہے کہ موجودہ حکومت کے آنے کے وقت بھی عوام ایسے ہی سنگین بحران کا سامنا کر رہے تھے جیسے کہ اب کر رہے ہیں۔ اب بھی لوگ اسی طرح گرمی میں پھک رہے ہیں اور آ ج بھی فیکٹریاں بند ہونے سے اسی طرح بیروزگاری اور پریشان حالی ہے، جس طرح آج سے ایک سال پہلے تھی۔ لوگوں کے علم میں ہے کہ روز نئے نئے منصوبوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، لیکن جن مصائب کا سامنا عوام کو موجودہ شدت کی گرمی کے دوران اب ہے اور جس بیروزگاری اور مہنگائی کا سامنا وہ آج کر رہے ہیں اس نے آج کے ساتھ ان کے کل کو بھی تاریک کر دیا ہے۔

جن لوگوں کے بچے گرمی کی وجہ سے بیمار ہورہے ہیں انہیں ان کی صحت آج درکار ہے دس سال بعد نہیں،جن کے گھر بیروزگاری کی وجہ سے کھانے کو کچھ نہیں اور جنہیں بچوں کی فیسیں آج ادا کرنی ہیں وہ دس سال تک صبر کیسے کر سکتے ہیں؟ وزیراعظم نواز شریف کا ترقی اور خوشحالی کی منزل سے ملک کو ہمکنار کرنے کا اپنا ایجنڈا ہو سکتا ہے، لیکن ایسا معلوم دیتا ہے کہ اس ایجنڈے میں ایک مخصوص طبقے کے سوا دوسروں کے لئے کچھ نہیں ہے۔ اس طبقے نے یہ سوچ رکھا ہے کہ وہ خوشحال اور مالی لحاظ سے مضبوط سے مضبوط تر ہو گیا تو پھر ملک بھی مضبوط ہوجائے گا ، وہ مہر بانی کر کے بہت سے لوگوں کو اپنی فیکٹریوں اور کاروبار میں ملازمتیں بھی دے دیں گے، ان کی طرف سے عام آدمی پر ملازمتوں کے دروازے کھول دیئے گئے تو پھر عوام کی تکالیف بھی کم ہو جائیں گی، لیکن اس کے مقابلے میں عام آدمی کی سوچ مختلف ہے وہ اپنی روٹی کا انتظام آج کے لئے چاہتا ہے دس سال بعد کے حالات سے اسے کچھ غرض نہیں ہے۔ وہ گرمی کی شدت میں جھلسنے سے آج بچنا چاہتا ہے۔ اس کے گھر کے نل میں پانی آج آنا چاہئے۔ خوراک اور اشیائے ضرورت کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں میں آج کمی ہو تو وہ اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کر سکتا ہے ۔ بجلی کی پیداوار بڑھانے اور اس عذاب سے عوام کو نجات دلانے کے لئے فوری طور پر حکومت یہ اقدامات کر سکتی ہے جو نہیں کئے جا رہے۔

(1) بجلی کے بڑے چوروں اور نادہندگان کی طرف سے بجلی چوری کا سلسلہ بند کرکے بجلی کے باقاعدہ بل ادا کرنے والوں کے لئے سپلائی لازمی بنائی جائے۔

(2) فرنس آئل سے بجلی پیدا کرکے بھاری نرخوں پر نیشنل گرڈ میں داخل کرنے والوں کی پیدا کردہ بجلی کا درست اور پورا حساب اور سخت نگرانی کی جائے اور آڈٹ کیا جائے یہ ادارے روزانہ چند گھنٹے بجلی پیدا نہ کرنے کی ہیرا پھیری سے بھی اربوں روپے کی کمائی کر سکتے ہیں اور واپڈا کے عملہ کے ساتھ مل کر یہ سب کچھ ہو رہا ہے، اگر یہ سلسلہ بند ہو جائے تو بجلی کی ہر طرح کی کمی اسی سے پوری ہو سکتی ہے۔

(3) سات بجے کے بعد ایک ایک دکان میں سو سو بلب جلانے والے دکانداروں کو واپڈا کی بجلی کی ترسیل 7بجے کے بعد بند کر دی جائے، اس کے بعد وہ صرف اپنے جنریٹرز سے بجلی پیدا کر کے کاروبار کریں، خواہ ساری رات دکانیں کھلی رکھیں۔

(4) تمام سرکاری دفاتر، اراکین اسمبلی، اراکین کابینہ کی رہائش اور دفاتر کے ایئر کنڈیشنر اس وقت تک بند کر دیئے جائیں جب تک پورے ملک میں بجلی کا بحران ختم نہیں ہو جاتا۔ ان لوگوں کے ایئر کنڈیشنرکا بند کیا جانا عام آدمی کا پنکھا اور لائٹ بلب چالو رکھنے اور ان کے گھروں میں پانی کی سپلائی میں آنے والی رکاوٹ دور کرنے کے لئے ضروری ہے۔

(5) جس طرح بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سے کک بیکس اور اپنے فوائد حاصل کرنے کے لئے بجلی پیدا کرنے یا اس سلسلے میں ریگولیشنز لے کر بیٹھے ہوئے لوگ عام آدمی اور قوم کے مفاد کے بجائے اپنی جھولیاں بھرنے کی قسم کھائے بیٹھے ہیں، یہ سب معاملے قوم کے سامنے ہیں ۔ ان اداروں نے نہ گزشتہ 30سال میں کچھ کیا ہے نہ آئندہ دس سالوں میں ان سے قوم کو کچھ امیدیں ہیں۔ ان کے ریگولیشنز اور اجارہ داری کا سلسلہ اگر کچھ برسوں کے لئے لپیٹ دیا جائے بجلی کی پیداوار کو اوپن کر دیا جائے ۔ اس کی پیداوار اور ترسیل کے متعلق بجلی پیدا کرنے والوں کو کھلی اجازت دے دی جائے۔ ماحول دوست چھوٹے تھرمل سٹیشن اور سولر انرجی سٹیشن اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والوں کو بغیر کسی لائسنس اور اجازت نامہ کے بجلی پیدا کرنے کے بعد اپنے طور پر اس کی ترسیل کا انتظام کرنے دیا جائے توبجلی بحران دس سال میں نہیں دس ماہ سے پہلے ختم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لئے حکومتی اجارہ داروں کو عوام کے فائدے اور قومی مفاد کے راستے کی رکاوٹ بننے سے باز رکھنا ہو گا۔

(6) ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ ایک چیز کی مارکیٹ میں شدید طلب موجود ہو اور اس کو فراہم کرنے والے اچھے خاصے نفع کے واضح مواقع کے باوجود آگے نہ آئیں۔ ہماری قوم اس بات کا پورا ادراک رکھتی ہے کہ بجلی پیدا کرنے اور اس کی بھارت ، ایران یا وسط ایشیا سے فوری فراہمی کی راہ میں کون رکاوٹ ہے؟

(7) حکومت اخلاص سے کام کرے اس کی نیت ہو تو سولر انرجی کے لئے سستی بیٹریوں اور سستے اور معیاری پینلز کا انتظام کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ ملک میں یہ سب کچھ تیار کرنے والوں کے پیچھے کک بیکس اور ریگولیشنز کا ڈنڈا پکڑ کر لپکنے والوں کو نکیل ڈال دی جائے تو پھر سولر انرجی سے تمام گھریلو اور بڑی حد تک صنعتی ضرورتیں فوری طور پر پوری کرنے کا معاملہ دشوار نہیں۔ ایسے پینلز اور سسٹم گھروں یا فیکٹریوں میں لگوانے والوں کو بنکوں سے قرضوں کی سہولت دلا دی جائے تو بجلی بحران ختم کرنا چند ہفتوں میں ممکن ہے۔

 گزشتہ کئی عشروں کے دوران ہماری حکومتوں اور بیورو کریسی نے توانائی کی پیداوار اور ڈیموں کی تعمیر جیسے بنیادی اور اہم معاملات میں قوم کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کے بعد بھی چھ ماہ میں بجلی بحران ختم کرنے کے دعووں کے ساتھ اقتدار سنبھالنے والی حکومت کی طرف سے ایک سال گزر جانے کے بعد صبر کرنے کی تلقین سمجھ سے بالا تر بات ہے۔ نواز شریف اور ان کی ٹیم کے لوگ واقعی بہت تجربہ کار اور جہاندیدہ ہیں۔ ان کی ساکھ کی بدولت غیر ملکی سرمایہ کار بھی ملک کا رخ کرنے لگے ہیں۔ ان کی طرف سے آئے روز بجلی بحران ختم کرنے کے سلسلے میں نئے نئے منصوبوں کا اعلان اور افتتاح کیا جاتا ہے۔ چشمہ بجلی گھر جیسے منصوبے پر تیزی سے عمل بھی شروع ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر موجودہ حکومت کا ایک سال مکمل ہو جانے کے بعد آج بھی انہیں گرمی میں جھلسنا اور فیکٹریاں بند ہونے سے بےروزگار ہونا ہے تو یہ سب منصوبے کب نتائج دکھائیں گے۔ آخر موجودہ حکومت کے پاس وعدوں اور دلکش مستقبل کی باتوں کے علاوہ ان کے حال کے لئے بھی کچھ ہے یا نہیں؟

جس طرح بے نظیر بھٹو کے دور میں بجلی کا شدید بحران پیدا کرنے کے بعد آئی پی پیز کو دنیا میں بجلی کے سب سے زیادہ فی یونٹ ریٹ دے کر قوم کے گلے میں پھندا ڈال دیا گیا تھا ، کیا اب بھی سب انہی بنیادوں پر منصوبہ بندیاں ہو رہی ہیں۔ اگر ہمارے محکمے اور ادارے اپنی نالائقی کی بنا پر اب تک اس سلسلے میں ناکام رہے ہیں تو کیا اب آئندہ کے لئے ان اداروں میں فرشتے لا کر بٹھا دئیے گئے ہیں؟ آخر حکومت اور اس کے ادارے اس شعبے کو دنیا کے سرمایہ کاروں اور خود اپنے سرمایہ کاروں کے لئے اوپن کیوں نہیں کرتے؟ شدید بحران سے فوری طور پر عوام کو نکالنے اور ان کے زندہ رہنے کے لئے فوری اقدامات کیوں نہیں کئے جاتے؟ غریب اور مجبور عوام گلی گلی محلے محلے میں اس احسا س کا شکار ہیں کہ بڑے منصوبے بڑے کک بیکس کے وجہ سے بڑے لوگوں کے لئے ہوتے ہیں، لیکن کچھ تو چھوٹے لوگوں کے لئے بھی ہونا چاہئے۔ حاکم اگر چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں کام کے لئے تائید و حمایت دیں، سٹرکوں پر نہ آئیں احتجاج کرنے والوں کا ساتھ نہ دیں تو پھر انہیں عوام سے مخلص ہونے کا ٹھوس ثبوت اپنے ٹھوس کام سے دینا ہو گا۔ مہنگائی ، بیروزگاری اور بیماریوں سے عوام کو بچانے کے لئے انہیں بلاتعطل بجلی اور پانی کی فراہمی کا مسئلہ ہی حل کر کے عوام کی نظروں میں سرخرو ہوجانا چاہئے۔

مزید : اداریہ