روس میں گالی دینے پر پابندی

روس میں گالی دینے پر پابندی
روس میں گالی دینے پر پابندی

  

ماسکو (نیوز ڈیسک) روس کی حکومت اپنے نت نئے اقدامات کی وجہ سے خبروں کا موضوع بنی رہتی ہے۔ روسی حکومت نے اب ایک نیا قانون بنایا ہے جو بظاہر اچھا لیکن ناقدین کے مابق روسی حکومت کی اظہار رائے کو دبانے کی ایک اور کوشش ہے۔ روسی صدر ولادی میربیوٹن نے اس قانون کی منظوری دے دی ہے کہ کے مطابق فحش اور اخلاق سوز زبان استعمال کرنے والوں کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ جرمانہ اداروں کیلئے 829 پاﺅنڈ تک ہوسکتا ہے جبکہ افراد کیلئے 41 پاﺅنڈ تک ہوسکتا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں آرٹس کلچر اور تفریحی مراکز پر غیر اخلاقی زبان کے استعمال پر بھی پابندی کردی گئی ہے۔ جبکہ ایسی کتابیں سی ڈی اور فلمیں جن میں فحش زبان استعمال کی گئی ہو کو صرف سیل کرکے فروخت کیا جائے گا اور ان پر واضح طور پر لکھا ہوگا کہ ان میں فحش زبان استعمال کی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ روسی حکومت کی طرف سے پرانے دور کے کمیونسٹ نظام کی طرح کا نظام لانے کی کوشش ہے کہ جس میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوگی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس