آئی پی ایچ میں سپیشلائزیشن کرنیوالے ڈاکٹروں کے رولنمبر روک لئے گئے خبر کی اشاعت پر کھلبلی

آئی پی ایچ میں سپیشلائزیشن کرنیوالے ڈاکٹروں کے رولنمبر روک لئے گئے خبر کی ...

                                  لاہور( جاوید اقبال)آئی پی ایچ لاہور میں لوٹ مار کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی پوسٹ گریجوایٹ ڈگریوں کے حوالے سے پاکستان میں شائع ہونے والی خبر سے اعلیٰ حکام میں کھلبلی مچ گئی اور اس مکروہ دھندے میں ملوث گروہ اپنے خلاف ہونے والی ممکنہ کارروائی کے خدشے سے سرجوڑ کر بیٹھ گیا، اصل ذمہ د ار زاہد کلرک نے خود کو بچانے کے لئے کوششیں شروع کردیں، اس کے ساتھ ساتھ کئی حلقوں سے اس خبر کی پذیرائی ہوئی کہ جب غیر قانونی طریقے سے حاصل کی جانے والی ڈگریوں پر ممبر صوبائی اور قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کی جاسکتی ہے تو ایسے جعل ساز ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟جو محکمے کی آنکھوں میں دھول جھونک کر خزانے کو بھی لوٹتے ہیں اور کورس اٹینڈ کئے بغیر ڈگریاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق IPH میں ہونے والی MM CH,MMH,MPHکے ساتھ ساتھ MPhillپروگرام کل وقتی پروگرام ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس پروگرام میں داخل ہونے والا کوئی ڈاکٹر کسی دوسرے سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں کورس کے دورانیہ میں کام نہیں کرسکتا، یہ ڈگریوں کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بننے والے ہیلتھ منیجر کی Hands on ٹریننگ بھی ہے کہ جب تک وہ یہاں کل وقتی موجود رہ کر کچھ سیکھیں گے نہیں وہ آگے چل کر کیسے ہیلتھ مینجر بن سکتے ہیں۔داخلے کی شرائط میں شق نمبر4کے مطابق کورس کے دوران کوئی ڈاکٹر کسی دوسرے کورس میں داخلہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی کسی اور پروگرام میں داخل کیا گیا ڈاکٹر IPH کے ان کورسز میں آسکتا ہے۔ اسی طرح داخلے کی شرط نمبر13میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ کوئی ایسا ڈاکٹر جو حاضر سروس ہو اور کسی دوسرے ادارے میں کام کر رہا ہو وہ قطعی طور پر IPH کی کسی ڈگری میں داخلہ نہیں لے سکتا۔ایڈمیشن نوٹس کی شق نمبر 14کے مطابق اگر کوئی حاضر سروس ڈاکٹر ان کورسز میں داخلہ لینا چاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہسپتال یا کسی میڈیکل ادارے سے باقاعدہ چھٹی لے ا ور پرائیویٹ طالبعلم کے طور پر IPHمیں کورس اٹینڈ کرے، سرکاری پنجاب حکومت کے ملازمین ڈاکٹر Deputation کے ذریعے بھی ان کورسز میں داخل ہوسکتے ہٰں، لیکن ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے پہلے ادارے سے Relieveہوں اور IPHمیں بطور سرکاری ملازم join کریں IPH کے قوانین کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہے کہ کوئی ڈاکٹر سرکاری ملازم ،ڈاکٹر پرائیویٹ طور پر IPH میں دخلہ لے اور اسکے ساتھ ساتھ اپنے سرکاری ہسپتال میں بھی ڈیوٹیاں کرتا رہے، ایسا کرنا قوانین کی خلاف ورزی ہے جس کے لئے اُن کا داخلہ کینسل کیا جاسکتا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔ سیشن 2013ءمیں روزنامہ ”پاکستان“ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کم وبیش 14-15ڈاکٹر IPH کی مختلف ڈگریوں میں داخل ہوئے اور ساتھ ساتھ نہ تو انہوں نے سرکاری ہسپتالوں سے چھٹی لی اور تمام قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے UHSکے امتحان میں بھی بیٹھنے میں کامیاب ہوگئے، ذرائع کے مطابق ان ڈاکٹروں نے اس مقصد کے حصول کے لئے میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کلرک مافیا کو 50ہزار سے 1لاکھ تک کا نذرانہ پیش کیا،لیکن ساتھ ساتھ اپنے اپنے ہسپتالوں میں بھی ڈیوٹیاں دیتے رہے، روزنامہ”پاکستان“ کی رپورٹ کے مطابق IPH کے حوالے سے پہلے ہی بہت سارے شکوک وشبہات ہیں اور PMDC اور دیگر اداروں کو اس پر شدید اعتراضات ہیں اور اس قسم کے ڈاکٹروں کی وجہ سے ادارے کی مزید بدنامی کا امکان ہے، معلوم ہوا ہے کہ IPH کا یہ گروہ پہلے کئی سالوں سے اس مکروہ کاروبار میںملوث ہوکر ادارے کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے، اس وقت IPH کے اندر اس حوالے سے خبرشائع ہونے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی اور سیشن 2014ءمیں IPH اس چور راستے میں داخل ہونے والے ڈاکٹروں کو رول نمبر ابھی تک نہیں دئیے گئے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4