لوڈشیڈنگ چند روز میں کم کر کے 7 گھنٹے تک لانے کا فیصلہ

لوڈشیڈنگ چند روز میں کم کر کے 7 گھنٹے تک لانے کا فیصلہ

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک 228اے این این ) وزیراعظم نواز شریف نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے موجودہ دورانیے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بند کیے گئے تین بجلی گھروں کو فوری طورپر فعال کیا جائے، کھاد کی صنعت کو فراہم کی جانے والی گیس پاور سیکٹر کو دی جائے اور سی این جی کے شعبے کو گیس کی سپلائی جزوی طورپر کم کی جائے، شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں7 گھنٹے سے زائد نہیں ہونا چاہیے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت بجلی کی صورتحال سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی، وزیراعظم کے معاون خصوصی مصدق ملک اور سیکرٹری پانی و بجلی سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ وزارت پانی و بجلی کی جانب سے وزیراعظم کو مئی، جون اور جولائی کیلئے لوڈشیڈنگ مینجمنٹ پلان پیش کیا گیا اور وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ11مئی سے پانی کی صورتحال بہتر ہوگی اور نیشنل گرڈ میں مزید 1ہزار میگا واٹ بجلی شامل ہو جائے گی جبکہ رواں ماہ کے آخر تک سسٹم میں3500 میگا واٹ بجلی کا اضافہ ہوگا۔ سی این جی سیکٹر کو سپلائی کی کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں592 میگاواٹ کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کا موجود ہ دورانیہ قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کھاد کی صنعت کو فراہم کی جانے والی گیس پاور سیکٹر کو دی جائے، ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اس سے بجلی کی پیداوار میں 630میگاواٹ اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 592 میگاواٹ بجلی کیلئے سی این جی کے شعبے کو جزوی طورپر گیس کی سپلائی کم کی جائے اور بند کیے گئے تین بجلی گھروں کو فوری طورپر فعال کیا جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 گھنٹے پر اور دیہی علاقوں میں7گھنٹے پر لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی گھروں کو ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے، آئل کی چوری اور ضیاع روکنے کیلئے ریلوے کے ذریعے بجلی گھروں کو ایندھن فراہم کیا جائے۔

حکومت نے گیارہ مئی سے شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک کا زور کم کرنے کے لئے فوری طور پر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اپوزیشن لوڈ شیڈنگ سے تنگ عوام کے جذبات کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق ، پرویز رشید اور عابد شیر علی کو ٹاسک دیا ہے کہ گیارہ مئی سے قبل بجلی کا شارٹ فال ختم کیا جائے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سسٹم میں مزید 4 ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی جائے گی۔ 3 ہزار میگاواٹ بجلی تھرمل اور 1 ہزار میگاواٹ اضافی پن بجلی سے پیدا کی جائے گی جس کے لئے سرکاری تھرمل پاور پلانٹس کو 5 ہزار ٹن اضافی فرنس آئل فراہم کرنے اور کیپکو پاور پلانٹ کو تیل کی سپلائی 2 ہزار 500 سے بڑھا کر 4 ہزار 500 ٹن کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ مظفر گڑھ پاور پلانٹ کو تیل کی سپلائی 3 ہزار سے بڑھا کر 5 ہزار ٹن کر دی گئی ہے۔ ارسا کو منگلا اور تربیلا سے پانی کا 10 ہزار کیوسک فٹ اخراج بڑھانے اور تقسیم کار کمپنیوں کو انتظامات بہتر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ تمام گرڈ اسٹیشنز اور فیڈرز کی مرمت بھی کی جائے گی۔

مزید : صفحہ اول