تھائی لینڈ کی وزیر اعظم ینگ لک شناوا ترا بر طرف

تھائی لینڈ کی وزیر اعظم ینگ لک شناوا ترا بر طرف

                                 بنکاک (آن لائن) تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیراعظم ینگ لک شناواترا کو ان کے عہدے سے معزول کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کے خلاف زیر سماعت اس درخواست پر دیا گیا جس میں ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے 2011 میں اپنی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لئے قومی سلامتی کے شعبے کے سربراہ تھاوِل پلینسری کو تبدیل کر دیا تھا۔بدھ کے روز سنائے جانے والے اس فیصلے میں جج کا کہنا تھا کہ ”وزیراعظم کا درجہ ختم ہو گیا ہے۔ یِنگ لَک اب بطور عبوری وزیراعظم اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتیں۔ تھائی آئینی عدالت کی طرف سے سنائے گئے اس فیصلے میں متفقہ طور پر کہا گیا ہے کہ ینگ لک شناواترا کی طرف سے 2011ئ میں اعلیٰ سکیورٹی اہلکار تھاوِل پلینسری کی تعیناتی غیر قانونی تھی۔ اس جرم کے ثابت ہو جانے کے بعد جج چارون انتاچان نے براہ راست نشر کئے جانے والے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس لئے ینگ لک شناواترا کی بطور وزیر اعظم حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ وہ مزید عبوری وزیراعظم کے عہدے پر تعینات نہیں رہ سکتی ہیں۔ اس مقدمے میں ینگ لک شناواترا کا مو¿قف تھا کہ تھاوِل پلینسری کی تعیناتی سیاسی مفادات کے حصول کی کوشش نہیں تھی۔ تھائی قوانین کے مطابق ایسی صورتحال میں نائب وزیر اعظم کو وزارت عظمیٰ کا منصب سونپ دیا جاتا ہے جو نئے الیکشن کے انعقاد تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد وزیر انصاف پھونگتھیپ تھیب کانجانا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ نائب وزیراعظم نیواٹمورنگ بون سونگ پائیسان کو عبوری وزیراعظم کے عہدے کے لئے منتخب کر لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ عبوری حکومت بیس جولائی کے انتخابات تک اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی۔ اس عدالتی فیصلے کے مطابق تھاوِل پلینسری کی تعیناتی کی توثیق کرنے والے کابینہ کے نو ممبران کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے لیکن نائب وزیر اعظم اور دیگر چھبیس ممبران اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔ دوسری طرف بنکاک کی سڑکوں پر ینگ لک شناواترا کے سیاسی مخالفین اپنے احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ خاتون وزیراعظم کے حامیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے انہیں اقتدار سے الگ کرنے کے خلاف عوامی مہم شروع کر دیں گے۔

مزید : صفحہ اول