عمران خان نے طاہرالقادری کو احتجاجی تحریک میں ملا یا تو جماعت اسلامی وابائی حکومت چھوڑ سکتی ہے

عمران خان نے طاہرالقادری کو احتجاجی تحریک میں ملا یا تو جماعت اسلامی وابائی ...

                        لاہور(حنیف خان )پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان حکومت مخالف چلائی جانے والی تحریک کے آغاز سے قبل ہی آزمائش میں پڑ گئے ہیں ، اگر تحریک انصاف نے ڈاکٹر طاہر القاد ری کی جماعت عوامی تحریک کو اپنے ساتھ حکومت مخالف تحریک میں ملایا تو جماعت اسلامی پاکستان خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی اختیار کرسکتی ہے اور جماعت اسلامی ممکنہ طور پرپاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ مل سکتی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ جماعت اسلامی اور عوامی تحریک کے درمیان تقریباابتداءہی سے ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے دونوں جماعتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات بہت زیادہ ہے اس لئے دونوں جماعتوں حکومت مخالف تحریک میں ایک نہیں ہوسکتیں ۔ذرائع نے بتایا کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری جو حکومت مخالف تحریک کے بانی سمجھے جاتے ہیں دونوں کی کوشش ہے کہ بھرپور تحریک چلائی جائے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی طرف سے عمران خان کو قائل کیا گیا ہے کہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے اس سلسلے میں تحریک انصاف کی طرف سے عوامی مسلم لیگ کو مثبت اشارے دیئے گئے ہیں او ر اس بات کا قوی امکان ہے کہ مستقبل میں تحریک انصاف ،عوامی مسلم لیگ اور عوامی تحریک مل کر حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے تاہم اس معاملے کو خفیہ رکھا جارہا ہے لیکن جماعت اسلامی کو اس بارے میں علم ہے جس کے باعث جماعت اسلامی نے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے غور وخوض شروع کردیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی عوامی تحریک کے ساتھ قربت کے نتیجے میں عمران خا ن کو سیاسی نقصان پہنچ سکتاہے ایک تو انہیں جماعت اسلامی چھوڑ سکتی ہے دوسری طر ف وہ اس تحریک کی مخالفت بھی کرسکتی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ 11مئی سے حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک میں بظاہرکھچڑی بنی ہوئی ہے۔کیونکہ حکومت مخالف تحریک چلانے میں بہت سی مذہبی جماعتیں خواہش رکھتی ہیں مگر ان کے نظریاتی اختلاف کئی زیادہ ہیں کوئی جماعت تحریک انصاف کو پسندکرتی ہوئی نظر نہیں آتی تو کوئی جماعت عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو،ذرائع نے بتایا کہ مجلس وحدت المسلیمین دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کے حوالے سے تحریک انصاف کے ساتھ شدید اختلافا ت رکھتی ہے اس لئے مجلس وحدت المسلیمین کی طرف سے حکومت مخالف تحریک میں تحریک انصاف کا ساتھ نہ دیئے جانے کا امکان ہے ۔عوامی تحریک بھی دہشت گردی کے خلاف تحریک انصاف کے موقف سے اختلاف رکھتی ہے لیکن و ہ حکومت مخالف تحریک میں تحریک انصاف کو ساتھ لے کر چلنے کے لئے تیار ہے۔ جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف)،جمعیت علمائے اسلام (س)،جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اسلامی بھی عوامی تحریک کی موجودگی میں حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننے سے کرسکتی ہیں اس کی بڑی وجہ شدید نظریاتی اختلافات ہیں۔ذرائع نے بتایاکہ تحریک انصاف نے شیخ رشید کے مشوروں کے مطابق عوامی تحریک کو ساتھ ملا لیا تو ممکن ہے کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف میں دوریاں پیدا ہوجائیں اور دونوں کے راستے جدا جدا ہوجائیں۔

مزید : صفحہ اول