بو کو حرام کے قبضے میں اغوا شدہ لڑکیوں کی ویڈیو منظر عام پر آگئی،اکثر کو بیچ دیا گیا

بو کو حرام کے قبضے میں اغوا شدہ لڑکیوں کی ویڈیو منظر عام پر آگئی،اکثر کو بیچ ...

                                  واشنگٹن( تجزیاتی رپورٹ،اظہر زمان) امریکہ کے سیکیورٹی ذرائع کافی عرصے سے خبردار کررہے تھے کہ القاعدہ کے فرنچائز ادارے دوسرے مقامات کے علاوہ افریقہ میں بھی منظم ہو رہے ہیں، جو کسی وقت بھی دہشت گردی کی بڑی واردات کرسکتے ہیں۔ روزنامہ”پاکستان“ کے واشنگٹن بیورو نے بھی حال ہی میں نائجیریا میں ایسی ہی ایک تنظیم ”بوکو حرام“ کی سرگرمیوں میں اضافے کی رپورٹ کی تھی جس نے وہاں لڑکیوں کے ایک سکول پر حملہ کر کے دوسو سے زائد لڑکیوں کو اغواءکرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، ”بوکوحرام“ کا مطلب ہے”انگریزی تعلیم حرام“ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اصل نشانہ وہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں انگریزی تعلیم دی جاتی ہے، وہ خاص طور پر لڑکیوں کے سکولوں کو بند کرنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں، ”بوکو حرام“ کے نام سے جانے والے اس گروہ کا اصل نام ”جماعت اہلِ سنت الدعوة والجہاد“ ہے۔ ”بوکو حرام “کا قیام2002ءمیں ہوا ہے جس نے بعد میں القاعدہ سے رابطہ کر کے اس کے مقاصد کو آگے بڑھانے کا عہد کیا تھا۔ یہ تنظٰم ”طالبان“ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، جس کے بانی محمد یوف ہیںجو مغربی اثرات ختم کر کے اپنی اسلامی ریاست قائم کرنے کے حامی ہیں، جہاں اسلامی شریعت کا نفاذ ہو، امریکہ نے 13نومبر 2013ءکو اسے دہشت گرد تنظیم قراردیا تھا۔ امریکی ذرائع کے مطابق ”بوکو حرام“ کا تعلق AQIM(القاعدہ ان اسلامک مغرب)) سے ہے جو افریقہ میں القاعدہ کی فرنچائز ہے، دو سو سے زائد لڑکیوں کو گزشتہ ماہ اغوا کیا گیا تھا، جب دہشت گرد جانوروں اور خوراک سے بھرے ٹرک لے کر آئے اور ان میں ان لڑکیوں کو بھی بھیڑ بکریوں کی طرح لاد لیا گیا، اس تنظیم کے ایک لیڈر ابوبکر شیکاﺅ نے ایک ویڈیو پر گزشتہ روز ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے اللہ کے حکم پر اغوا کی کارروائی کی ہے اور اب ان لڑکیوں کو مارکیٹ میں فروخت کردیں گے، ویڈیو پر بیان جاری ہونے کے تھوڑی دیر بعد گزشتہ روز مزید آٹھ لڑکیوں کو گرفتار کرلیا، نائجیریا کی پولیس نے بتایا ہے کہ اب ”بوکو حرام“ کے قبضے میں اغوا شدہ لڑکیوں کی تعدادتین سو سے بڑھ گئی ہے، جن کی عمریں بارہ سے پندرہ سال کے درمیان ہیں، ویڈیو پربیان میں اس تنظیم کے لیڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ عیسائی لڑکیوں کو اغواءکر کے مسلمان بنانے اور پھر بیچ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ادھر وائٹ ہاﺅس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے نائجیریا کے صدر گڈلک جونا تھن سے رابطہ کر کے لڑکیوں کی تلاش کے لئے امریکی ٹیم بھیجنے کی پیش کش کی ہے، ایک اطلاع کے مطابق اغوا کنندگان نے کچھ لڑکیوں سے شادی کر لی ہے اور کچھ کو ہمسایہ ملک کیمرون اور چاڈ میں پہنچا دیا گیا ہے، نائیجیرا کے سرکاری ذرائع کے مطابق دہشت گرد تاوان وصول کر کے چھوڑنے کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیںاور بہت سی بیمار ہیں، 53لڑکیاں فرار ہوگئی ہیں جبکہ 280سے زائد لڑکیاں ابھی تک ان کی حراست میں ہیں۔

مزید : صفحہ اول