چہرے نہیں نظام کو بدلو، پرانا، سیاست نہیں ریاست بچاﺅ، نیا نعرہ

چہرے نہیں نظام کو بدلو، پرانا، سیاست نہیں ریاست بچاﺅ، نیا نعرہ
چہرے نہیں نظام کو بدلو، پرانا، سیاست نہیں ریاست بچاﺅ، نیا نعرہ

  

تجزیہ:-چودھری خادم حسین

ائیرمارشل (ر) اصغر خان انتہائی قابل اور دیانت دار افسر تھے۔ ائیرفورس کے جن حضرات نے شہرت پائی ان میں اصغر خان کے علاوہ ائیرمارشل (ر) نور خان بھی ہیں، ہر دو حضرات کے کریڈٹ میں ائیرفورس کی کمانڈ کے علاوہ اور بھی کارہائے نمایاں ہیں۔ تاہم دونوں حضرات سیاسی میدان نہیں چل سکے تھے۔ ائیرمارشل نور خان تو جلد ہی تائب ہو گئے لیکن اصغر خان نے بہت وقت دیا۔ اب اپنی بزرگی کے باعث قریباً گوشہ نشین ہیں تاہم عدالت عظمیٰ میں جب ان کی ر ٹ درخواست زیر سماعت آئی تو وہ خود بھی پیش ہوئے تھے، اس درخواست کے ذریعے انہوں نے سیاست دانوں کو نقد رشوت دینے کا الزام لگایا ہوا ہے۔ ائیرمارشل(ر) نور خان اب اس دنیا میں نہیں۔ لیکن جب بھی ہاکی اور پی آئی اے کا ذکر آتا ہے تو ان کا نام ضرور لیا جاتا ہے کہ ان کے دور میں ٹیم اور پی آئی اے دونوں ہی عروج پر تھیں۔

ائیرمارشل(ر) اصغر خان ایوب خان کے خلاف تحریک کے دنوں میں باہر نکلے اور ذوالفقار علی بھٹو کی نظر بندی کے دوران مظاہروں کی بھی قیادت کی۔ عام خیال تھا کہ وہ بھٹو کا ساتھ دیں گے اور ان کی جماعت کا حصہ ہوں گے لیکن انہوں نے اپنا راستہ خود چنا پہلے جسٹس پارٹی کے نام سے اور بعد میں تحریک استقلال کے نام سے جماعت بنائی وہ بڑے دلیر اور حوصلہ مند انسان ہیں لگی لپٹی کے بغیر بات کرتے تھے۔ تحریک استقلال بناتے وقت ان کا نعرہ تھا ”چہرے نہیں نظام کو بدلو“ تحریک استقلال میں میاں محمود علی قصوری سے ملک وزیرعلی تک بہت ہی نامور شخصیات نے شرکت کی اور بہت کام کیا۔ تحریک استقلال نے زندگی اور حکومت کے ہر شعبہ میں اصلاحات کی تیاری کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔ ان کمیٹیوں نے بڑی عرق ریزی اور محنت سے اپنی سفارشات مرتب کی تھیں۔ آج بھی شاید یہ رپورٹیں ریکارڈ میں موجود ہوں، بڑی ہی مفید تھیں اور اب بھی ہو سکتی ہیں کہ ان سے راہنمائی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ائیرمارشل (ر) اصغر خان کے سیاسی سفر اور اس کے اختتام پر بہت کچھ لکھا اور بتایا جا سکتا ہے لیکن اتنا ہی کافی ہے کہ وہ چہروں کی جگہ نظام کو بدلنے میں ناکام ہو گئے تھے ان کی جماعت سے سیاسی سفر شروع کرنے والے آج ملک کے اقتدار اعلیٰ پر فائز ہیں تو ملک کی بڑی جماعت کے بڑے صوبے کے سربراہ بھی ہیں۔ میاں محمد نواز شریف اور میاں منظور وٹو کا سفر بھی تحریک استقلال سے شروع ہوا۔

اب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنے اپنے طور پر نظام بدلنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے ”سیاست نہیں ریاست بچاﺅ“ کا نعرہ اپنایا تو عمران خان نے بھی نظام ہی بدلنے کی بات کی جیسا پہلے عرض کیا پروگرام ابھی واضح نہیں۔ خیبرپختون خوامیں بھی تجربہ کامیاب نہیں ہو پا رہا۔ ایک پرانی فلم کا گیت ”آئینہ وہی رہتا ہے۔ چہرے بدل جاتے ہیں“ ملک کے حالات اور ان نعروں پر صادق آتا ہے۔ خود عمران خان کی اپنی جماعت میں بھی اسی آئینے اور چہرے والی بات ہے۔ ڈاکٹر طاہر القاری کی عوامی تحریک تو بہت سے مراحل سے گذر چکی اور بہت سے چہرے آئے اور گئے، اب ان کا بنیادی تکیہ منہاج کے تعلیمی اداروں پر اور عمران خان کی توجہ نوجوانوں پر ہے۔ہر دو اپنے اپنے طور پر 11مئی کو احتجاج کر رہے ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ فرزند راولپنڈی نے اپنا وزن دونوں پلڑوں میں ڈال رکھا ہے اول تو وہ دونوں کے اتحاد کی بات کرتے ہیں تاہم ان کا رجحان عمران خان کی طرف ہے اور وہ بہت زور سے وکالت بھی کرتے ہیں، ابھی تک لوگ تحریک کے مقاصد یا ہدف سے لاعلم تھے۔ عمران خان نے تو اپنے انداز میں عوامی مسائل کی بات کی ہے لیکن محترم شیخ رشید سے نہیں رہا گیا اور انہوں نے بلی کو تھیلے سے باہر نکال دیا ہے۔ ہم نے کم از کم اڑتالیں گھنٹے انتظار کیا کہ تحریک انصاف کے ردعمل کا پتہ چلے لیکن شیخ رشید کے بیان پر کچھ نہیں کہا گیا زور انتخابی دھاندلی پر ہے یوں یہی سمجھا جائے گا کہ شیخ رشید کے موقف کو خاموش تائید حاصل ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تحریک انصاف اب نئے انتخاب کا مطالبہ کرنے جا رہی ہے۔ جبکہ پاکستان عوامی تحریک تو ایوان ہائے نمائندگان اور الیکشن کمشن کے ساتھ ساتھ طریق حکومت کو بھی رد کر رہی ہے اور کہے بغیر صدارتی طرز حکومت کے حق میں ہے۔ نظام خلافت کا ذکر دور جدید کے باعث نہیں لیا جاتا لیکن جب بات اصلاحات کی ہو تو مقطع یہی ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر طاہر القادری عوامی دباﺅ(ایک کروڑ مقتدی) کے ذریعے فوری اقتدار چاہتے ہیں؟ وہ یہ بھی واضح نہیں کرتے۔ بہرحال عمران خان تو انتخابات ہی کے ذریعے اقتدار کے خواہش مند ہیں اس لئے شیخ رشید کی طرف سے وسط مدتی(مڈٹرم) انتخابات کی بات ہوا میں نہیں۔

قارئین کرام کے لئے دو ائیرمارشل(ر) حضرات کا ذکر کیا تو وہ خود ہی موازنہ بھی کر لیں۔ڈاکٹر طاہر القادری انتخابات میں حصہ لے کر قومی اسمبلی کے رکن بن کر مستعفی بھی ہوئے اور پھر انتخابات کا بائیکاٹ بھی کیا۔ سیاسی اتحادوں میں شرکت بھی کی اور عوامی تحریک کو آرام سے سلا کر خود سیاست سے رخصت پر کینیڈا بھی چلے گئے اور اب وہیں سے سرگرم عمل بھی ہیں شاید وہ ایک بڑے سیاسی اور روحانی لیڈر کی طرح براہ راست ہوا سے ہی لینڈ کرنا چاہتے ہیں۔

اب 11مئی زیادہ دور نہیں۔ وقت ہی بتائے گا کہ کیا ہو گا۔ دونوں راہنمایا ن کرام اپنے اپنے طور پر منزل کی طرف گامزن ہیں اور جن سے یہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کا بھی تو کوئی ردعمل ہو گا۔ اللہ خیر کرے حالات سب کے سامنے ہیں اور کام بھی آسان نہیں۔ ذراشیخ رشید کی طرف توجہ رکھئے کہ یہ خوشی نہیں مجبوری ہے۔

مزید : تجزیہ