سٹریٹ چلڈرن کے لیے سہولیات فراہم کرینگے،نادیہ گبول

سٹریٹ چلڈرن کے لیے سہولیات فراہم کرینگے،نادیہ گبول

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ کی کواآرڈینیٹربرائے انسانی حقوق نادیہ گبول نے سندھ کی عوام کو خوشخبری دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ محکمہ انسانی حقوق سندھ کی جانب سے جلد صوبے بھرمیں اسٹریٹ چلڈرن کے لیے مفت تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولیات متعارف کروادی جائیں گی۔اپنے جاری ایک بیان میں نادیہ گبول کا کہنا تھا حکومت سندھ کے تعاون سے محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے سندھ بالخصوص دیہی علاقوں میں اسٹریٹ چلڈرن کے لیے مفت تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولیات پیپلزپارٹی کی جانب سے ایک تحفہ ہے جوجلد مہیا کردی جائیں گی تاکہ ہر بچے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جاسکے۔انھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے اپنے منشور پرعمل کرتے ہوئے سندھ کی عوام سے کیے ہوئے وعدوں کو اپنے ہردور میں پورا کیا ہے اور مفت تعلیم اور صحت کا منصوبہ سندھ سے ناخواندگی ختم کرنے میں زیادہ موثرثابت ہوگا، اور وہ دن دور نہیں جب اس ملک سے جہالت کا اندھیرا ختم ہوجائے گا۔انھوں نے کہا کہ آج پولیو کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے پاکستانیوں پربیرون ملک سفر کی پابندی عائد کردی ہے تاہم حکومت سندھ اپنی کوششوں سے اسٹریٹ چلڈرن کو مفت تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولیات مہیا کرنے کا بندوبست کررہی ہے جو ناصرف اس مرض بلکہ دیگر علوم میں بھی انھیں آگاہی فراہم کرنے کا ٹھوس ذریعہ ثابت ہونگی۔انھوں نے کہا کہ لیاری کے اسٹریٹ چلڈرن نے فٹ بال کی دنیا میں پاکستان کی جانب سے ایک نیا باب رقم کیا ہے اور دنیا بھر کے سامنے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کی صلاحیتیں کسی اعتبار سے کسی سے کم نہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ان میں چھپے ہوئے ٹیلینٹ کو کس طرح دنیا کے سامنے لایا جائے اور انہیںمواقع فراہم کیے جائیں۔انھوں نے کہا کہ یہ بچے اس ملک کا اثاثہ ہیں اور انہیں ہی آگے چل کر اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے،ہماری جڑیں مضبوط ہونگی توہی ملک دیر پا ترقی کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ان غریب بچوں نے مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کا مثبت خاکہ جس خوبصورتی سے دنیا کے سامنے پیش کیا وہ قابل ستائش ہے، پیپلزپارٹی سمیت ملک کا ہر شہری ان پر فخر کرتا ہے۔دریں اثناءوزیراعلی سندھ کی کواآرڈینیٹر برائے انسانی حقوق نادیہ گبول نے سکھر میں 70سالہ بوڑھے شخص کی 11سالہ بچی سے جعلی نکاح کی خبر کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے شدید غم وغصے کا اظہار کیاہے۔اطلاعات کے مطابق ضلع سکھر میں روہڑی کے علاقے سات سہیلیوں کے مزار کے نزدیکی علاقے میں 70سالہ شخص ہدایت اللھ میرانی نے گیارہ سالہ لڑکی سمیرہ سے شادی کرلی تھی،پولیس کے مطابق نکاح کرنے کی کوئی دستاویز موجود نہیں تاہم ہدایت اللھ میرانی کو گرفتارجبکہ سمیرہ کو بازیاب کرواکر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ نکاح خواں کی تلاش جاری ہے۔نادیہ گبول نے واقع پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے فرسودہ روایات معاشرہ میں بگاڑ پیدا کررہی ہیں،ان واقعات سے دنیا بھر میں پاکستان کو شدید بدنامی اٹھانی پڑتی ہے۔انھوںنے متعلقہ پولیس حکام کو ہدایت دیں کہ متاثرہ بچی کو فوری تحفظ فراہم کرکے واقع میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور گرفتار شخص کے خلاف سندھ اسمبلی میں پاس کردہ حالیہ کم عمری کی شادی کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔

ا

مزید : صفحہ آخر