نائیجیریاکی تنظیم بوکوحرام کی کہانی ، ڈرپوک موٹرسائیکل سواروں سے تنظیم تک کا سفر

نائیجیریاکی تنظیم بوکوحرام کی کہانی ، ڈرپوک موٹرسائیکل سواروں سے تنظیم تک ...
نائیجیریاکی تنظیم بوکوحرام کی کہانی ، ڈرپوک موٹرسائیکل سواروں سے تنظیم تک کا سفر

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) نائیجیریامیں بوکوحرام نامی ایک چھوٹا ساگروپ خطرناک شدت پسند تنظیم کی شکل اختیارکرچکاہے اور اب کچھ بھی ہو جائے تو بوکوحرام اس قابل ہوگئی ہے کہ ذمہ داری اُس پر ڈال دی جاتی ہے ۔بوکوحرام کا لفظی مطلب ہے کہ مغربی تعلیم حرام ہے،آغاز میں بوکوحرام تنظیم نے چھوٹے پیمانے پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا جس میں کارروائی کرنا اور فرار ہونا شامل تھا۔ اس میں اپنے مخالفین اور اسلامی رہنماﺅں کو سفاک انداز میں ہلاک کرنے کی زیادہ تر کارروائیوں میں موٹر سائیکل کا استعمال کیا جاتا تھا، جب یہ گروپ زیادہ بے خوف ہوا تو اس نے گرجا گھروں، پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے کرنا شروع کر دیے۔اس نے بڑے حملوں میں نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں اقوام متحدہ کے دفتر اور فیڈرل پولیس کے مرکزی دفتر کو نشانہ بنایا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بوکوحرام تنظیم نے شمالی نائجیریا میں پولیس کے متعدد تھانوں اور فوجی بیرکوں پر حملے کیے اور وہاں سے ہتھیار، گاڑیاں اور یونیفام لوٹ کر لے گئے۔ لوٹی گئیں گاڑیوں اور یونیفام کی مدد سے تنظیم نے بھیس بدل کر اور زیادہ تباہی پھیلائی۔ رپورٹ کے مطابق بینکوں سے لاکھوں نائرا( مقامی کرنسی) لوٹے جانے کے بعد بعد فوج نے مقامی نوجوانوں کی مدد سے میدوگری کے علاقے سے بوکوحرام کی محفوظ پناہ کو ختم کر دیاتھا جس کے بعد مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت عام شہریوں کو نقصان پہنچانے پر توجہ مرکوز کر لی۔ اس نے کئی دیہات کو نذرِ آتش کر دیا اور اس میں 1500 کے قریب لوگ مارے گئے،سکولوںپر حملوں میں صرف طلبا کو ہلاک کیا جاتا اور طالبات کو چھوڑ دیا جاتا تھا لیکن اب حال ہی طالبات کو اغوا کرنا شروع کردیاہے ۔ابھی تک نائجیریا کی حکومت ان طالبات کو تلاش نہیں کر سکی ہے۔ اس سے پہلے تنظیم کے رہنماو¿ں نے حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ان کی خواتین کو بغیر عدالتی کارروائی کے قید کر رکھا ہے۔بوکوحرام اسلام کے ایسے سخت گیر نظریے کی پیروی کرتا ہے جو مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی مغربی طرز کی سیاسی یا معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے منع کرتا ہے۔اس میں انتخابات میں حصہ لینا، ٹی شرٹیں پہنا یا سیکولر تعلیم حاصل کرنی بھی شامل ہیں۔شمالی نائجیریا، نائیجر اور جنوبی کیمرون پر سوٹوکو خلافت کی حکومت تھی۔1903 میں برطانیہ نے سوکوٹو خلافت کو شکست دے کر ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا اور مغربی تعلیم کے خلاف مہم اس وقت سے ہی جاری ہے۔ان حالات میں ایک مسلم مذہبی عالم محمد یوسف نے 2002ءمیں بوکوحرام کی بنیاد میدوگری کے شہر میں رکھی،ایک مسجد بنائی جس کے احاطے میں ایک مدرسہ بھی قائم کیا۔نائجیریا اور ہمسایہ ممالک کے بہت سے غریب خاندانوں نے اپنے بچوں کو اس سکول بھیجالیکن بوکوحرام کی دلچسپی صرف تعلیم تک محدود نہیں تھی۔ ان کا سیاسی ہدف ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا اور یہ سکول حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے جہادیوں کو بھرتی کرنے کی جگہ بن گیا اور پھر آہستہ آہستہ پولیس سٹیشن ، سرکاری عمارات اور شہرمیں ہنگامے ہونے لگے ، سینکڑوں لوگ مارے گئے اور کئی کو تنظیم کی طرف سے محبوس بھی کرلیاگیا۔ بی بی سی کے مطابق گذشتہ دنوں طالبات کے اغوا کے بعد ابوبکر شیکاو¿ نے ایک خبر رساں ادارے کو بھیجی جانے والی ایک ویڈیو میں سینکڑوں طالبات کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ اصرار کیا تھا کہ لڑکیوں کو سکول جانا ہی نہیں چاہیے، اور سکول بھیجنے کی بجائے ان کی شادیاں ہونی چاہیں۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں