پاکستانی انجینئرز کاکارنامہ ، نہر کے ایک مقام پر تین پل

پاکستانی انجینئرز کاکارنامہ ، نہر کے ایک مقام پر تین پل
پاکستانی انجینئرز کاکارنامہ ، نہر کے ایک مقام پر تین پل

  

 لاہور(شہباز اکمل جندران،انویسٹی گیشن سیل) سی اینڈڈبلیو کے انجینئروں نے انوکھا کارنامہ کردکھایا، نہر کے ایک ہی مقام پر تین الگ الگ پل بنا ڈالے جس سے قومی خزانے کو کروڑںروپے کے نقصان کا سامنا ہے۔کیو بی لنک نہر پرپرانے پل کے ساتھ دوکروڑ روپے کی لاگت سے نئے پل کی تعمیر شروع کی گئی اور60فیصد تعمیر کے بعد پرانے پل کو لاکھوں روپے کی لاگت سے مرمت کیا گیا اور ساتھ ہی چار کروڑ روپے کی لاگت سے نئے پل کی تعمیر شروع کردی۔ اکاﺅ نٹنٹ جنرل نے تیسرے پل کی تعمیر پر رقم جاری کرنے سے انکار کردیاجبکہ قومی خزانے کا نقصان سامنے آنے پر نیب نے معاملے کے چھان بین شروع کردی ۔ معلوم ہواہے کہ محکمہ مواصلات وتعمیرات نے قادر آباد ، بلوکی نہر پر کو ٹ ہرا کے مقام پر ایک ہی جگہ پر تیسرے پل کی تعمیر کا کام شروع کردیا ہے۔ سی اینڈڈبلیو نے پرانے پل کو مسمار کرنے سے پہلے دو کروڑ روپے کی لاگت سے پرانے پل سے 10گز کے فاصلے پر بائیں طرف نئے پل کی تعمیر شروع کی اور اس کا ٹھیکہ انعام بٹ نامی ٹھیکیدار کو الاٹ کیا گیا۔ مذکورہ ٹھیکیدار نے پل کی 20میں سے 18پائلز کی تعمیر ، کیپ بیم، اور گارڈر تیار کرلیے تھے کہ سی اینڈڈبلیو کے متعلقہ ایکسئین نے پائلز کا سریہ ٹیڑھا ہونے کا اعتراض اٹھایا اور ٹھیکیدار کو کام کرنے سے روک دیا۔ بعد ازاں لاکھوں روپے کی لاگت سے پرانے پل کی مرمت کی گئی اور ساتھ ہی چار کروڑ روپے کی لاکت سے پرانے پل سے 10گز کے فاصلے پر دائیں طرف نئے پل کی تعمیر شروع کردی جبکہ پرانے ٹھیکیدار کو ڈیفالٹر ظاہر کرتے ہوئے اس سے تین کروڑ 40لاکھ روپے کی ریکوری کےلئے نیب سے رجوع کر لیا گیا۔ اسی دوران پہلے ٹھیکیدار انعام بٹ نے عدالت سے حکم امتناعی بھی حاصل کیا لیکن محکمے نے نئے ٹھیکیدار کے ذریعے تیسرے پل کی تعمیر کا کام جاری رکھا۔ٹھیکیدار انعام بٹ کے مطابق 85فٹ گہری پائلز کی تعمیر جب 45فٹ ہوگئی تو متعلقہ ایکسئین نے اعتراض اٹھایا کہ سریہ ٹیٹرھا ہے جس پر ایکسئین کو بتایا گیا کہ سریہ پانی کے تیز بہاﺅکے باعث ٹیڑھا ہوا ہے اور اسے تکنیکی طورپر سیدھا کیا جاسکتا ہے لیکن مذکورہ یکسئین نہ مانا اور اس نے پل کی تعمیر کا کام روک دیا۔اس دوران محکمے نے نئے پل کی تعمیر کے دوران نئے ٹھیکیدار کو بل کی ادائیگی کرنا چاہی تو پہلے ڈویژنل اکاﺅنٹنٹ اور بعدازاں اکاﺅنٹنٹ جنرل نے معاملے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے ادائیگی سے انکار کردیا۔ٹھیکیدار انعام بٹ کے مطابق دو کروڑ ورپے کے منصوبے میں وہ پونے دوکروڑ روپے کا کام مکمل کرچکے ہیں اور 25لاکھ روپے میں بقیہ کام بھی کرنے کو تیار ہیں۔انعام بٹ کے مطابق اسے دوکروڑ روپے کے ٹھیکے میں ایک کروڑ 40لاکھ روپے کا جرمانہ ڈالا گیا ہے اور معاملے نیب کو ارسال کیا گیا ہے۔ اس نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کررکھا ہے لیکن محکمے عدالتی حکم کو بھی خاطر میں نہیں لارھا اور جو کام وہ محض بقیہ 25لاکھ میں کرنے کو تیار ہیں۔ محکمہ اس کے لیے چار کروڑ ورپے خرچ کر رھا ہے ا ور ایک ہی جگہ پر تین الگ الگ پل تعمیر کئے جارہے ہیں۔

مزید : رئیل سٹیٹ