پی آئی اے کے ”منافع“کی اصل کہانی سامنے آگئی

پی آئی اے کے ”منافع“کی اصل کہانی سامنے آگئی

غلط اعدادوشمار پیش کیے گئے، ڈالر ایکسچینج ریٹ کی مد میں کافی بچت ہوئی: ترجمان پی آئی اے

پی آئی اے کے ”منافع“کی اصل کہانی سامنے آگئی

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی ایئرلائن کی انتظامیہ نے سیکریٹری ایوی ایشن اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو غلط اعداد و شمار سے گمراہ کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے انتھک کوششوں کے بعد خسارے پر قابو پالیا ہے اور رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ایک ارب 65 کروڑ روپے کا منافع کمایا جبکہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں نقصان 5ارب 65 کروڑ روپے تھا اور اس طرح انتظامیہ کے مطابق مجموعی طور پر 6 ارب سے زائد کا منافع ہوا۔ حیرت انگیز طور پر انتظامیہ اس بات کی نشاندہی کرنا بھول گئی کہ روپیہ متحکم ہونے سے ڈالر کے ایکسچینج ریٹ میں بڑا فرق آیا اور انتظامیہ کو اس مد میں 5 ارب 60 کروڑ 17 لاکھ 78ہزار روپے کا فائدہ ہوا اور انتظامیہ نے اسی رقوم کو اپنی بڑی کامیابی دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ موجودہ انتظامیہ نقصانات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے تصدیق کی کہ ڈالر ایکسچینج ریٹ کی مد میں ہی کافی خطیر بچت ہوئی ہے، منافع اس وجہ سے ہوا کہ ایندھن اور دیگر مد میں اخراجات پر قابو پانے کی کوشش کی گئیں اور اس سلسلے میں فیول ٹینکرنگ بھی متعارف کروائی گئی جس میں یہ ہوتا ہے کہ جس سٹیشن پر ایندھن سستا دستیاب ہوتا ہے وہاں سے طیاروں میں بھرا جاتا ہے۔

مزید : بزنس