آئی ایس آئی پر الزام لگاکرجیو پیمرا کے سامنے مکر گیا

آئی ایس آئی پر الزام لگاکرجیو پیمرا کے سامنے مکر گیا
آئی ایس آئی پر الزام لگاکرجیو پیمرا کے سامنے مکر گیا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نے وزارت دفاع کی درخواست پر پیمرا کو جواب جمع کرادیاہے جس میں کہا ہے کہ اس نے فوج یا آئی ایس آئی پر الزام نہیں لگایا مگر یہ بات حقائق کے برعکس ہے۔مقامی میڈیا کے ذریعے سامنے آنیوالی تفصیلات کے مطابق شام 5بج کر 19منٹ پر حامد میر پر حملہ ہوتا ہے، اس کے 13منٹ بعد 5 بج کر 32 منٹ پر جیو نیوز پر خبر چلتی ہے کہ حامد میر پر کراچی میں حملہ ہوگیا، ساتھ حامد میر کی تصویر چلائی جاتی ہے۔ 5بج کر 46منٹ پر رانا جواد ٹی وی پر آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ حامد میر نے مجھے 5بج کر 19منٹ پر کال کی اور بتایا کہ ان لوگوں نے مجھے گولیاں مار دی ہیں اور میں بھاگ رہا ہوں، انہوں نے نشاندہی بھی کی تھی کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو کون ذمہ دار ہوگا۔ 6:15 منٹ پر سینئر صحافی افتخار احمد کہتے ہیں کہ ریاست کو اس پر شرم آنی چاہیے، اگر کسی کے حامد میر سے اختلافات ہیں تو وہ بزدلی کی بجائے بہادری دکھائیں، حامد میر نے کہا تھا کہ تم نہتے لوگوں کو اٹھاتے ہو، انکا مطالبہ ٹھیک تھا اور تمام صحافی برادری چاہتی ہے کہ یہ ظلم بند ہونا چاہیے۔ 6:23منٹ پر سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں بڑا بحران نقطہ نظر کا اختلاف ہے، سچ کی آواز دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور جو یہ کررہے ہیں،حامد میر پر صرف حملہ نہیں ہوا بلکہ یہ ایک منظم سازش ہے۔ 6:24منٹ پر سینئر صحافی ابصار عالم کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے یہ مکروہ سازش کی ہے، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اس طرح احمد میر یا کسی بھی صحافی کی آواز کو نہیں دبایا جاسکتا۔ 6:28 منٹ پر ایڈیٹر انویسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی کہتے ہیں کہ اس ملک میں ہم اختلاف رائے برداشت نہیں کررہے اور ایک شخص کو جینے کا حق نہیں دے رہے۔ 6:38 منٹ پر سلیم صافی کہتے ہیں کہ اگر کسی کو ان سے اختلاف رائے ہے تو دلیل سے جواب دینا چاہیے۔ 6:56 منٹ پر کامران خان کہتے ہیں کہ ہمیں تحقیقات سے قبل نتائج اخذ نہیں کرنے چائیں، اسی وقت الطاف حسین کا مذمتی بیان چلتا ہے۔ 7:04منٹ پر نیوز کاسٹر کہتا ہے کہ کچھ دن قبل حامد میر نے جیونیوز کی انتطامیہ، خاندان، دوستوں، حکومت اور فوجی حکام کو حریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ انہیں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اور کچھ دیگر آئی ایس آئی افسروں سے خطرہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ سکرین پر جنرل ظہیر الاسلام کی فائل ویڈیو چلائی جاتی ہے، نیوز کاسٹر دوبارہ یہی دہراتا ہے۔ 7:06منٹ پر حامد میر کے بھائی عامر میر بتاتے ہیں کہ حامد میر نے کچھ روز قبل مجھے بتایا تھا کہ آئی ایس آئی چیف جنرل ظہیر الاسلام کی ہدایت پر آئی ایس آئی نے مجھے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ آئی ایس آئی کے کچھ کرنلز بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سکرین پر آئی ایس آئی چیف کی تصویر دکھائی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان خدشات کی وجہ سے حامد میر نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کو نامزد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حامد میر کو دہشتگردوں سے زیادہ آئی ایس آئی سے خطرہ تھا۔ بلوچستان ایشو، مشرف کیس، سیاست میں فوج کی مداخلت پر موقف کی وجہ سے آئی ایس آئی حامد میر کے پیچھے تھی، آئی ایس آئی ریاست کے اندر ریاست ہے۔ انہوںنے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنٹس کے علاوہ حامد میر کے کراچی آنے کا کسی کو علم نہیں تھا، ایجنٹس نے کراچی ایئرپورٹ پر حامد میر کو دیکھا اور حملہ آوروں کو اطلاع دی، آئی ایس آئی گولیاں چلا کر یا گاڑی کے نیچے بم لگاکر ہمیں ڈرانہیں سکتی، آئی ایس آئی پاکستان کو تباہ کررہی ہے، نوچ رہی ہے، اسے اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حامد کو قتل کرنے کا منصوبہ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا کے دور میں بنا مگر اس پر عمل اب کیا گیا ہے۔7:15 تک عامر میر کا بیان جاری رہتا ہے اور اس کے بعد نیوز کاسٹر ان جملوں کو دہراتا ہے۔ 7:28پر انصار عباسی جیو نیوز پر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام کی جگہ ہوتا تو استعفیٰ دے دیتا، آئی ایس آئی کا دفاع میں اہم کردار ہے مگر اس میں موجود کچھ لوگوں نے اپنے مفادات کیلئے ادارے کو بدنام کیا، آئی ایس آئی دہشتگردوں کے بجائے ہمارے پیچھے پڑی ہوئی ہے، آئی ایس آئی فون کالز کی ریکارڈنگ ودیگر وزراء میں لڑائیاں کراتی ہے۔ 7:02 منٹ سے لے کر 7:34 منٹ تک مسلسل ڈی جی آئی ایس آئی کی تصویر چلائی گئی جس کے بعد بھی ان کی تصویر اور فائل ویڈیو چلائی جاتی رہی، اس کے ساتھ بریکنگ نیوز چلائی گئی کہ حامد میر نے پہلے ہی بتایا دیا تھا کہ ان پر حملہ ہوا تو آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام ذمہ دار ہوں گے۔ 10:12 منٹ پر نیوز کاسٹر بتاتا ہے کہ حامد میر نے بتادیا تھا کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام ذمہ دار ہوں گے۔ صبح 3:20پر ثناءمرزا نے نیوز بولیٹن میں کہا کہ جیو اور جنگ نے کسی پر الزام نہیں لگایا، حامد میر نے حملے سے قبل ریاستی اداروں میں موجود لوگوں کا نام لیا تھا، اس کے بعد میں بھی اس حوالے سے خبری آتی رہیں۔

مزید : اسلام آباد