سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے

سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے
سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے

  

ایمسٹرڈیم (بیورورپورٹ) کھانا کتنا کھایا جائے اور دن میں کتنی دفع کھایا جائے؟ یہ سوال انسان کے سامنے کھڑے بڑے بڑے سوالوں سے کسی طرح کم نہیں ہے اور ہمیشہ سے سائنسدان اور ماہرین اس پر اظہار رائے کرتے رہے ہیں اور جب یہ اتفاق رائے ہوتا نظر آرہا تھا کہ دن میں تھوڑا تھوڑا کرکے کئی بار کھانا چاہیے تو نیدرلینڈ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے یہ ثابت کردیا ہے کہ بار بار تھوڑا تھوڑا کھانے سے موٹاپا ہوتا ہے اور دن میں تین فعہ اگر آپ زیادہ بڑی مقدار میں بھی کھائیں تو اس سے موٹاپے کا خطرہ نہیں ہے۔ خصوصاً ایسی ہلکی پھلکی اشیاءکہ جن میں چکنائی اور میٹھا زیادہ ہوجگر اور پیٹ میں چربی کا اضافہ کرکے موٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔ اکیڈیمک میڈیکل سنٹر ایمسٹرڈیم کے مربل سلی کی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر آپ زیادہ کیلریز والی خوراک تھوڑی تھوڑی کرکے بار بار کھائیں تو یہ جگر اور کمر کے گرد چربی میں کولیسٹرول کے ذخیرہ میں اضافہ کرتی ہے جبکہ زیادہ مقدار میں ایک ہی وقت میں کھا لینا ایسا نہیں کرتا۔ تحقیق کاروں نے کہا کہ اچھی صحت کیلئے اور موٹاپے سے بچنے کیلئے ہمیں سنیکس سے بچنا ہوگا۔ بازار سے فاسٹ فوڈ اور بھوک مٹانے کی ہلکی پھلکی اشیاءکھانے کی بجائے دن میں تین دفعہ بھرپور کھانا کھانا چاہیے۔

مزید : تعلیم و صحت