قائداعظم سولر پارک: اندھیرے چھٹنے کو

قائداعظم سولر پارک: اندھیرے چھٹنے کو
قائداعظم سولر پارک: اندھیرے چھٹنے کو

  

دہشت گردی کے بعد وطن عزیز کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں توانائی کا بحران سرفہرست ہے۔وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں حکومت توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے تمام وسائل بروئے کارلا رہی ہے اورحکومت نے بجلی پیدا کرنے کے تمام ذرائع جن میں کوئلے،ہوا اور شمسی شامل ہیں کو زیر استعمال لا رہی ہے ۔موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ایک ایک دن اور ایک ایک لمحہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے صرف کیا۔وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے بہاولپور میں پہلے قائداعظم سولر پارک کا افتتاح کر دیا ہے جو کہ حکومتی کاوشوں کا عملی ثبوت ہے ۔پہلے مرحلے میں 100 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جو نیشنل گرڈ میں شامل ہو گئی ہے ۔توانائی کے بحران کے حل میں یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے اور مرحلہ وار سولر پارک سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی۔ قائداعظم سولر پارک 100میگاواٹ کا پاکستان کی تاریخ میں پہلا شمسی توانائی کا منصوبہ ہے جو حکومت پنجاب نے اپنے وسائل سے لگایا ہے۔

5مئی کا دن پاکستان کے عوام کے لئے ایک تاریخی دن ہے اس روز حکومت نے بجلی کے بحران کے حل اور اندھیروں کو روشنیوں میں بدلنے کا آغاز کر دیا ہے ۔100میگا واٹ کا سولر منصوبہ معیار، شفافیت اور تیز رفتاری سے تکمیل کی اعلی مثال ہے اس طرح صوبہ پنجاب دوسرے صوبوں سے سبقت لے گیا ہے۔وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے 9مئی 2014ء میں منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ منصوبے پر انتہائی تیز رفتاری سے کام کر کے اسے ریکارڈ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے۔ فروری 2015ء میں منصوبے کی تعمیر کا مرحلہ مکمل ہوا اور 7اپریل 2015ء میں 100میگا واٹ کے اس سولر منصوبے سے بجلی نیشنل گریڈ میں شامل ہو چکی تھی۔سولر پار ک کے لئے بہاولپور میں چولستان کا انتخاب کیا گیا جہاں ابتدائی طور پر ساڑھے چھ ہزار ایکڑ رقبہ مختص کیا گیا جسے بعد میں بڑھا کر 15ہزار ایکڑکر دیا گیا۔ اس علاقے کے انتخاب کی بنیادی وجہ یہاں یومیہ اوسط شعاع ریزی (Average Daily Eradiation)ہے جو 1900سے 2300 kWh/m2 ہے۔ چولستان کا یہ علاقہ شعاع ریزی کے لئے بہت زرخیز ہے اور یہاں شمسی توانائی کے پراجیکٹ کے لئے وسیع رقبہ بھی میسر ہے۔قائداعظم سولر پارک اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ضرور ہے تاہم اس میں ہر مرحلے پر بین الاقوامی قوانین اور معیار کو مدنظررکھاگیا ہے۔ کنسلٹنٹس کے انتخاب سے لے کر کمپنیوں کے چناؤ تک، را ء میٹریل کی آمد سے لے کر پلانٹ کی تنصیب اور آپریشن تک کو جرمنی اور چین کی مستند اور معروف بین الاقوامی کمپنیوں نے مانیٹر کیاہے۔ ہر مرحلے پر مکمل جانچ پڑتال کی گئی اور تمام سامان کو چیکنگ اور ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزارا گیا ہے۔ شمسی توانائی کے منصوبے دیر پا ہوتے ہیں اس لئے ان کی تنصیب نہایت مہارت مانگتی ہے۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ توانائی کے ان منصوبوں سے پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو گا، معیشت مستحکم ہو گی، بیرونی سرمایہ کاری آئے گی اور روزگار کے مواقع پیداہوں گے ۔ یہ منصوبے پنجاب میں لگ رہے ہیں، لیکن ان سے حاصل ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں جائے گی، جس سے پورے پاکستان کا فائدہ ہو گا۔ شمسی توانائی کے منصوبے ملک کو درپیش توانائی بحران پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ حکومت پنجاب نے 100میگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبے کو ریکارڈ مدت میں مکمل کر کے ایک نئی راہ تلاش کی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ منصوبہ ارض وطن کو تاریکیوں سے اجالوں کی جانب لانے میں سنگ میل ثابت ہو گا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں آئندہ تین برس ہم دن رات محنت کریں گے اور کوئی مشکل مشکل نہیں رہے گی۔ قائداعظم سولر پارک دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اور منفرد شمسی توانائی کے حصول کا منصوبہ ہے۔ پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی کے حصول کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلاشبہ دہشت گردی کے بعد بجلی کا بحران سب سے بڑا ہے جس سے معیشت، ہر گھر، ہر دکان، ہر کارخانہ، ہر شاہراہ متاثر ہے۔

شمسی بجلی گھر کا یہ منصوبہ انتہائی شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا ہے اور چین کی کمپنی جس نے اس منصوبے کے لئے سب سے کم بولی دی، ہم نے ان کے ساتھ بات چیت کر کے 2ارب روپے مزید کم کرائے جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور نہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ چینی کمپنی نے اس منصوبے کی لاگت میں 2 ارب روپے کا ڈسکاؤنٹ دیا ہے جو پاک چین دوستی کی ایک اور عمدہ مثال ہے۔ یہ منصوبہ اعلیٰ معیار اور شفافیت کا شاہکار ہے۔ جرمن کنسلٹنٹ نے ایک ایک سولر پینل کو پرکھا ہے۔ میرا چیلنج ہے کہ اس منصوبے کا دنیا کے کسی بھی سولر منصوبے سے مقابلہ کرایا جا سکتا ہے۔ پاک چائنہ اکنامک کو ریڈور کے تحت اس سولر پارک سے 900 میگاواٹ مزید بجلی حاصل ہوگی جس میں سے 350 میگاواٹ بجلی رواں برس کے اختتام تک پیدا ہونا شروع ہو جائے گی، جبکہ 550 میگاواٹ بجلی اگلے برس حاصل ہو گی۔ اس طرح ایک ہزار میگاواٹ کا یہ منصوبہ دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑا سولر پراجیکٹ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے اس سولر پراجیکٹ کی منصوبہ بندی کی تو پہلے پاکستان کے نجی شعبہ سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی، کیونکہ پاکستان کا نجی شعبہ بہت جاندار ہے، لیکن بڑے بڑے سورما بھاگ گئے، کیونکہ وہ منافع خوری کرنے کے عادی تھے اور انہیں اس منصوبے میں منافع نظر نہیں آ رہا تھا اور وہ ایزی منی کمانا چاہتے تھے۔ ایسی منافع خوری یا منافع خوروں کی پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں۔

وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں آپ سے التماس کرتا ہوں کہ ملک کی خدمت کرنے والے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دیئے جانے چاہئیں اور اس کے برعکس جو سرمایہ دار یہاں اپنا سرمایہ لگانے کی بجائے سرمایہ کاری باہر کر رہے ہیں ان کا ناطقہ بند ہونا چاہئے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کو اس بات کا نوٹس لینا چاہئے اور وہ منافع خور سرمایہ کار جو اپنا پیسہ باہر لے جاتے ہیں ان کا حساب ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی جہاں سورج نہیں نکلتا وہاں 30 ہزار میگاواٹ بجلی سولر سے بنائی جا رہی ہے اور پاکستان میں جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور میں سولر سے بجلی پیدا کرنے کا یہ پہلا اور منفرد منصوبہ مکمل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولر اور ونڈ سے توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے جو کنفیوژن پیدا ہوا ہے اسے دور کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں ہر وقت ٹیرف پر نظرثانی کرتے رہنا چاہئے، کیونکہ دُنیا بھر میں سولر توانائی کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں۔ تیل، گیس یا کوئلہ امپورٹ کرنے پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے اور سولر سے توانائی اس کے مقابلے میں تقریباً مفت پڑتی ہے، لہٰذا اس بارے نیپرا کو ہدایت کرنی چاہئے کیونکہ نیپرا کا ریٹ 16.8 سینٹ تھا اور ہم نے اس منصوبے میں ریٹ 13.5 سینٹ اچیو کیا ہے۔ اب بھی نیپرا کا ریٹ 14.1 سینٹ ہے۔ میری وزیراعظم سے درخواست ہے کہ اس کا ضرور جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے صدر کا حالیہ دورہ ایک تاریخ ساز حیثیت رکھتا ہے جس میں 46 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔

چین نے پاکستان کو جو منصوبے دیئے ہیں اس کی دُنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی وجہ پاکستانی لیڈرشپ خصوصاً وزیراعظم محمد نواز شریف اور پاکستان کے 18 کروڑ عوام پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے او ریہ ایک احسان عظیم ہے۔ کیونکہ چین نے ان ممالک میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے پاکستان کو ترجیح دی جہاں حالات سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان سے بہتر تھے، اس لئے میں کہتا ہوں کہ پاک چین دوستی لازوال ہے اور چین کی یہ سرمایہ کاری صرف سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک احسان ہے، ایک تحفہ ہے اور ایک بہت بڑی سپورٹ ہے۔ صرف توانائی کے شعبہ میں چین کی جانب سے 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے گئے ہیں۔ چین کے اس اقتصادی پیکیج کی کوئی مثال نہیں، یہ بے مثال ہے اور پاکستان اور پاکستان کے عوام اس کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم محمد نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آپ نے ا یٹم بم چلا کر ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو موقع دیا ہے کہ آپ بجلی کے یہ منصوبے لگا کر پاکستان کی معیشت کو ناقابل تسخیر بنا دیں اور انشا اللہ آپ معیشت کو ناقابل تسخیر بنائیں گے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر بہاولپور اور گردونواح میں انڈسٹریل اسٹیٹس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ انڈسٹریل اسٹیٹس میں سنگل شفٹ انڈسٹری کو سولر پاور پراجیکٹ سے بھی بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ انڈسٹریل اسٹیٹس اور سولر پاور پراجیکٹ کے قیام سے جنوبی پنجاب میں صنعتوں کو فروغ ملے گا۔روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک کے مسائل حل ہوں گے۔ سرمایہ کاری سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور جنوبی پنجاب ایک معاشی مرکز بن کر ابھرے گا اور ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔ انڈسٹریل ا سٹیٹس کے قیام سے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کو روزگار کے ہزاروں نئے مواقع میسر آئیں گے۔ علاقے میں ترقی اور خوشحالی آئے گی۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب ساہیوال کول پاور پراجیکٹ ،رحیم یار کول پاور پراجیکٹ ،مظفر گڑھ کول پاور پراجیکٹ اور پنڈ دادنخان /جہلم کول پاور پراجیکٹ پر کام کر رہی ہیں ۔انشا اللہ ا ن منصوبوں کی تکمیل سے توانائی کے بحران کے حل میں مدد ملے گی۔

مزید :

کالم -