فلاحی اسلامی ریاست کا سفر تمام ؟حکمت عملی کے آرٹیکلز متروکہ آئین بن گئے ،متعدد ارکان اسمبلی بھی لاعلم نکلے

فلاحی اسلامی ریاست کا سفر تمام ؟حکمت عملی کے آرٹیکلز متروکہ آئین بن گئے ...
فلاحی اسلامی ریاست کا سفر تمام ؟حکمت عملی کے آرٹیکلز متروکہ آئین بن گئے ،متعدد ارکان اسمبلی بھی لاعلم نکلے

  

لاہور(سعید چودھری /شہزاد ملک )وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے حکمت عملی کے آرٹیکلز کو "متروکہ آئین "بنا کررکھ دیا۔حکمت عملی کے اصولوں کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 29سے 40تک پرمشتمل باب دوم پرعمل درآمد کی سالانہ رپورٹ صدر کی طرف سے قومی اسمبلی اور گورنروں کی طرف سے صوبائی اسمبلیوں میں پیش کیا جانا ضروری ہے مگر سالہاسال سے یہ آئینی تقاضہ پورا کیا جارہا ہے اور نہ ہی حزب اختلاف کی طرف سے اس بابت کبھی حکومت کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے ۔

اس مرتبہ بھی پارلیمانی سال مکمل ہونے میں چند روز باقی ہیں مگر یہ رپورٹ تاحال پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں پیش نہیں کی گئی ۔روزنامہ پاکستان نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سمیت کئی ارکان اسمبلی سے رابطہ کیا تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ وہ بھی اس آئینی تقاضے سے آگاہ نہیں ہیں ۔پالیسی اصولوں پر مشتمل آئینی آرٹیکلز فلاحی اسلامی ریاست کی منزل کی طرف مسلسل سفر کے متقاضی ہیں جبکہ حکومتی رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سفر بیچ میں ہی چھوڑ دیا گیا ہے ۔

آئین کے باب دوم میں حکمت عملی کے اصول وضع کئے گئے ہیں جن پر عمل درآمد مملکت کے ہر شعبے اور ادارے کی ذمہ داری ہے ،وسائل کی کمی کی وجہ سے اگر ان پر عمل درآمد نہ ہوسکے تو اسے غیر آئینی اقدام نہیں گردانا جاتا تاہم آئین کے آرٹیکل 29(3)کے تحت یہ لازم ہے کہ ان اصولوں پر عمل درآمد کی رپورٹ ہر سال صدر پارلیمنٹ اور گورنرز صوبائی اسمبلیوں میں پیش کریں گے ۔باب دوم کے حوالے سے آئین اس حد تک سنجیدہ ہے کہ اس کے آرٹیکلز پر عمل درآمد کے لئے اٹھائے گئے اقدامات خواہ ناکام ہی کیوں نہ ہوں انہیں اسمبلی میں پیش کیا جانا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔اس باب کے آرٹیکلزاسلامی طرز زندگی کے فروغ ،علاقائی اور فرقہ ورانہ تعصبات کے خاتمہ ،قومی زندگی میں خواتین کی بھرپور شمولیت، خاندان اور اقلیتوں کے تحفظ اور معاشرتی انصاف کے لئے حکومتی اقدامات کا تقاضہ کرتے ہیں ۔پسماندہ طبقات کے لئے خصوصی اقدامات ،مفت تعلیم کی فراہمی ،مساوی بنیادوں پر تعلیم ،عورتوں کے لئے ان کی صنف کے مطابق ملازمتیں ،فحاشی کا خاتمہ ،حکومتی نظم و نسق کی مرکزیت کو ختم کرنا ،دولت کا ارتکاز روکنا ،بلا رنگ ونسل اور مذہب معاشی سہولیات فراہم کرنا ،محروم طبقات کو خوراک ،لباس، رہائش ،تعلیم اور طبی سہولیات کی مفت فراہمی ،عدم مساوات کا خاتمہ اور مسلم دنیا سے رشتوں کی استواری کے علاوہ بین الاقوامی عمل کو فروغ دینے جیسے معاملات بھی شامل ہیں ۔پنجاب اسمبلی میں آخری مرتبہ یہ رپورٹ 2011ءکو پیش کی گئی تھی جو2010ءمیں اٹھائے گئے اقدامات پر مشتمل تھی۔پارلیمنٹ اور دیگر صوبائی اسمبلیوں میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے یہ رپورٹ پیش کی گئی ہے اور نہ ہے اس رپورٹ کے حوالے سے صدر یا گورنرز نے وہاں خطاب کیا ہے ۔اس رپورٹ کے بارے میں جاننا اور اس پر بحث کرنا ارکان اسمبلی کا استحقاق ہے ۔پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن سردار احمد رضا خان دریشک نے تحریک استحقاق بھی پیش کررکھی ہے لیکن رپورٹ کی طرح یہ تحریک استحقاق بھی اسمبلی میں کارروائی کی منتظر ہے ۔حکمت عملی کے اصولوں سے متعلق سالانہ رپورٹ کی عدم پیشی کے حوالے سے روزنامہ پاکستان نے متعدد ارکان اسمبلی سے رابطے کئے ۔پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے کہا کہ وہ اسمبلی سیکرٹریٹ سے پتہ کرتے ہیں کہ کون سی رپورٹ ہے جو پیش نہیں ہورہی ؟ تاہم جب انہیں مذکورہ آرٹیکلز کے بارے میں یاد دہانی کروائی گئی تو انہوں نے فوری طور پر مطالبہ کیا کہ اس قانونی تقاضے کو ہر حال میں پورا کیا جائے ۔پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی سعدیہ سہیل رانا نے اس حوالے سے کہا کہ میرے خیال میں پچھلے سال یہ رپورٹ پیش ہوئی تھی تاہم مجھے کنفرم نہیں ۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر قاضی احمد سعید سے اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے آپ کا سوال سمجھ نہیں آرہا ،شاید فون میں کوئی خرابی ہے ۔

مزید :

خصوصی رپورٹ -اہم خبریں -