انرجی ایفیشنٹ ڈیوائسز کے استعمال سے توانائی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے، ماہرین

انرجی ایفیشنٹ ڈیوائسز کے استعمال سے توانائی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے، ...

  

لاہور ( پ ر)پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی (پیکا) کے زیر اہتمام انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ٹولز کے موضوع پر تین وزہ ورکشاپ کا اہتمام یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ۔ای ۔ٹی) لاہور میں ہوا جس میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے توانائی کی بچت اور استعداد بڑھانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے پر زور دیا تاکہ برقی طلب کی مینجمنٹ بہتر طریقے سے کی جاسکے ۔ مقررین نے پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی (پیکا) کے کردار کو سراہا اور اسکے اقدامات کو مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے انتہائی ضروری قرار دیا ۔مقررین بشمول چیف انرجی اکانومسٹ پیکا سعدیہ قیوم ،پروفیسر ڈاکٹر وقار محمود ، ڈاکٹر طاہر اظہار ، محمد علی ، فیضان اسلم ، سلمان بٹ، رائے محمد اعظم ، انجینئر شمعون جمشید ، وقاص خالد اورڈاکٹر غالب اسداللہ شاہ نے ورکشاپ سے خطاب کیا اور ٹریننگ سیشن کروائے ۔ مقررین نے توانائی کی استعداد بڑھانے کی ٹیکنالوجیز ،بجلی کی پائیدار بنیادوں پر فراہمی ،انرجی انفارمیٹکس ، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان توانائی کے بہتر استعمال پر اشتراک ، توانائی کی بچت کا قومی سطح پر ادراک ،انڈسٹریل سیکٹر میں انرجی ایفیشنٹ ڈیوائسسز کے استعمال ، سولر نیٹ میٹرنگ کے عملی تقاضے اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے صنعتی شعبے میں بجلی کی بچت جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔ بجلی کے وسائل کے بہتر استعمال کے موضوع پر ہونے والی اس تین روزہ ورکشاپ میں مقررین کا مزید کہنا تھا لوگوں کی پر سکون زندگی اور صنعت کے پہیے کو چلتا رکھنے کیلئے مطلوبہ انرجی کی فراہمی صرف اسی صورت ممکن ہے کہ انرجی کنزرویشن کوڈز پر عمل کیا جائے اور بجلی پیدا کرنے والے تمام ذرائع کو بروئے کار لایا جائے ،ترقی یافتہ ممالک میں اس سلسلے میں بہت سا کام کیا جا چکا ہے اور اب ہمارے ملک میں پنجاب وہ پہلا صوبہ ہے جہاں انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن کے سلسلے میں عملی اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے ۔پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی (پیکا) نہ صرف انرجی ایفی شینسی اور بلڈنگ کوڈز بنانے میں مصروف ہے بلکہ عوامی آگاہی کی مہم بھی چلا رہی ہے ۔

مزید :

کامرس -