14 برس گزر گئے ، سکولوں کی مانیٹرنگ کرنے والے 922افسران مستقل نہ ہو سکے

14 برس گزر گئے ، سکولوں کی مانیٹرنگ کرنے والے 922افسران مستقل نہ ہو سکے

  

لاہور(فورم رپورٹ :حافظ عمران انور۔تصاویر :ندیم احمد )وزیر اعلیٰ مانیٹرنگ فورس کے زیر سایہ پنجاب بھر میں مسلسل 14برسوں سے سکولوں کی مانیٹرنگ کرنے والے 922مانیٹرنگ اینڈ ایولویشن اسسٹنٹس تاحال مستقل نہ ہو سکے۔انصاف کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹا لیا کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔اسی ڈیپارٹمنٹ میں دفتروں میں کام کرنے والے کلرکوں سے لے کر نائب قاصداور دیگر سٹاف کو مستقل کر دیا گیا ہے لیکن انہیں ان کے حق سے مسلسل محروم رکھا جار ہا ہے ان خیالات کا اظہار پنجاب مانیٹرنگ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالجبار قمر ،زونل پریذیڈنٹ ناصر اقبال ، اور ڈسٹرکٹ لاہور کے صدر ثناء اللہ نے پاکستان فورم میں کیا۔صدر عبدالجبار قمر نے دوران گفتگو بات کرتے ہوئے کہا کہ مانیٹرنگ اسسٹنٹ کو ہر ماہ 100سے زائد سکولوں کو مانیٹر کرنے کا ٹاسک دیا جاتا ہے اور وہ اپنا ٹارگٹ بہترین طریقے سے پورا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سکولوں میں طلبہ ،اساتذہ اور دیگر سٹاف کی حاضری میں بہتری آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایم ای ایز کی جانب سے مانیٹرنگ کے موثر نظام کی وجہ سے سکولوں میں چیک اینڈ بیلنس بہتر ہو اہے اور عادی غیر حاضر اساتذہ بھی اب سکولوں میں آ کر اپنے تدریسی امور سر انجام دے رہے ہیں۔لیکن اتنی محنت اور ایمانداری سے کام کرنے کے باوجود انہیں مستقل نہیں کیا جا رہا جو کہ سرا سر ظلم ہے ۔ ناصر اقبال نے فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر کے سکولوں میں اپنے فرائض منصبی سر انجام دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے اور اب گزشتہ 2ماہ سے سپیشل ایجوکیشن کے اداروں کو مانیٹر کرنے کا ٹاسک بھی ہمیں دے دیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں کچھ اضلاع میں ہمارے ایم ای ایز کو رمضان بازاروں میں اوپن مارکیٹوں میں جا کر آٹے کو چیک کرنے کی ذمہ داری کے علاوہ ٹیوب ویلوں کو چیک کرنے کا ٹاسک بھی دیا جاتا ہے جس کو ہمارے ایم ای ایز احسن طریقے سے نبھاتے ہیں لیکن مستقل نہ کرنے سے ہمیں کوئی جاب سیکورٹی نہیں ۔مانیٹرنگ ایسوسی ایشن لاہور کے صدر ثناء اللہ نے فورم میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایم ای ایز نے جانفشانی اور لگن کے ساتھ کئی اضلاع میں گھوسٹ اساتذہ اور دیگر ملازمین کا سراغ لگایا ہے اور ان کے حوالے سے رپورٹس محکمہ تعلیم کو ارسال کی ہیں جس کی وجہ سے اب پنجاب میں کوئی گھوسٹ سکول باقی نہیں بچا ۔ اپنے حقوق کے لئے ہر سطح پر آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت نے لاہور رنگ روڈ اتھارٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا ہے اسی طرح انہیں بھی مستقل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ،اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ان کی درخواست ہے کہ ان کے حال پر رحم کر کے ان کی داد رسی کی جائے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -