احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ باعث تشویش ہے

احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ باعث تشویش ہے
احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ باعث تشویش ہے

  

دنیا بھر کے اخبارات میں بڑی بڑی شہہ سرخیوں کے ساتھ جناب احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی خبر شائع کی گئی ،اللہ کا شکر ہے کہ جناب احسن اقبال بال بال بچ گئے، جی ہاں کیسی افسوسناک خبر ہے کہ اسلامی ریاست میں ریاست کے اہم وزیر پر دیدہ دلیری سے گولیاں چلا دی گئیں اور حیرانی ہے کہ گولیاں چلانے والے ملزم کا کہنا ہے کہ ختم نبوت کے قانون کے معاملے پر اس کی دل آزاری ہوئی اور اس نے احسن اقبال پر حملہ کر دیا۔

بہر حال جناب احسن اقبال کے متعلق بتلاتے چلیں کہ جناب احسن اقبال آپا نثار فاطمہ مرحومہ کے لخت جگر اور اگر کہا جائے کہ میدان سیاست میں ان کے بال سفید ہو گئے تو غلط نہ ہو گا، جی دوستوجناب احسن اقبال جہاں دیدہ سیاست دان ہیں اور میاں نوا ز شریف کے پرانے ساتھیوں میں ان کا شمار کیا جاتا ہے اور متعدد دفعہ حکومتوں میں اہم وزیر رہے اور موجودہ حکومت میں بھی وزیر ہیں اورموجودہ حکومت میں بھی اہم وزارت پر فائز ہیں، بہر حال جناب احسن اقبال پر حملہ انتہائی تشویشناک بات ہے، اسی لئے تو سب سیاسی رہنما جناب احسن اقبال کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔

بہر حال انتہائی افسوسناک بات ہے، جہاں اہم حکومتی عہدیدار ہی محفوظ نہیں، وہاں عام آدمی کی حفاظت کون کرے،بہر حال حکومتِ وقت کا کام ہے کہ ریاست کے ہر عام و خاص کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر خاص و عام پر چھایا اک انجانا خوف دور ہو سکے۔

میاں نواز حکومت کا اہم کارنامہ ملک بھر سے دہشت گردی کا خاتمہ بھی ہے، تاہم اب حکومت وقت کے لئے ضروری ہو گیا کہ ملک بھر میں بچے کھچے دہشت گردوں کا صفایا کر ے تاکہ عوام کے دلوں سے خوف بھی بھاگنے پر مجبور ہو جائے، بہرحال اجازت چاہتے ہیں دوستو ملتے ہیں، جلد بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا۔

مزید :

رائے -کالم -