خلائی مخلوق

خلائی مخلوق
خلائی مخلوق

  

میاں نواز شریف نے صادق آباد کے جلسہ میں بالکل ٹھیک کہا کہ ان کا مقابلہ سیاست دانوں سے نہیں،بلکہ اس خلائی مخلوق سے ہے جو نظر نہیں آتی۔ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ اس invisible خلائی مخلوق کے ’’ کارناموں‘‘ سے بھری پڑی ہے۔ اگر یہ مخلوق نہ ہوتی تو پاکستان صحیح معنوں میں ایک جمہوری اور فلاحی مُلک ہوتا اور شائد عالمی سطح پر اقتصادی سپر پاور بھی۔ شائد ہی کوئی دن ایسا گذرا ہو جب خلائی مخلوق نے عوام کی کسی منتخب حکومت کو عوام کی بھلائی کے لئے آرام سے کام کرنے دیا ہو، کیا یہ ایک تلخ حقیقت نہیں کہ پاکستان اپنی زندگی کے پہلے دن،بلکہ اس سے بھی کچھ دن پہلے سے ہی خلائی مخلوق کے کنٹرول میں چلا گیا تھا۔ قائداعظمؒ کی11 اگست 1947ء والی تقریر اس وقت کے ایک سپر بیوروکریٹ نے یہ کہہ کر سنسر کر دی تھی کہ جناح صاحب کو دو قومی نظریہ کا صحیح علم نہیں ہے۔ سبحان اللہ، پاکستان بنانے والے کو پاکستان کا نہیں پتہ تھا، لیکن انگریزی سرکار کے ایک ملازم بابو کو زیادہ علم تھا۔ ان حالات میں پاکستان کا قیام ہوا اور بان�ئ پاکستان کو پہلے دن سے ہی سائیڈ لائن کرکے خلائی مخلوق نے پاکستان پر قبضہ کر لیا۔

تاریخ ملاحظہ کیجئے،ابھی پاکستان کو بنے صرف8 ماہ اور 14 دن ہوئے تھے کہ 28 اپریل 1948ء کو وفاقی حکومت نے سندھ کے پہلے وزیراعلیٰ ایوب کھوڑو کی حکومت برطرف کر دی تھی ۔وہ دن اور آج کا دن، پاکستان کے منتخب سیاست دان لگاتار خلائی مخلوق کے ہاتھوں شکار ہو کر گھر واپس جا رہے ہیں۔ اس کے صرف ڈھائی مہینے بعد جولائی 1948ء میں گورنر جنرل کی طرف سے دستور ساز ایکٹ میں شق 92(a) کا اضافہ کیا گیا، جس کے تحت گورنر جنرل کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ جب چاہے کسی بھی صوبائی حکومت کو برطرف کرکے ایمرجنسی لگا سکتا ہے۔ بان�ئ پاکستان قائداعظمؒ محمد علی جناح جو انتہائی بااصول شخص تھے،انتہائی بیماری کی حالت میں زیارت ریذیڈنسی میں زیر علاج تھے، جس کی وجہ سے امورِ مملکت خلائی مخلوق کے ہاتھوں میں چلے گئے اور پھر اس شق کا بار بار بے دریغ استعمال ہوا، سندھ اور پنجاب کی حکومتیں ہر چند ماہ بعد توڑ دی جاتیں۔ خلائی مخلوق کا حوصلہ بڑھا تو اس نے وفاقی حکومت کو بھی نشانہ پر لے لیا اور وفاقی حکومتیں بھی گھر بھیجی جانے لگیں، حتیٰ کہ بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو پھبتی کسنی پڑی کہ وہ اتنی جلدی دھوتی نہیں بدلتے جتنی جلدی پاکستان میں حکومت بدل جاتی ہے ۔

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس مخلوق کا محبوب ترین مشغلہ عوام کے دئیے ہوئے مینڈیٹ کا خون پینا ہے۔ جن اداروں سے خلائی مخلوق کا تعلق ہے، وہ اگر مکمل نہیں تو کچھ حصہ ضرور یہ کام کرتا رہا ہے۔ ان اداروں کے ٹولے سازشوں میں شریک رہے، انہیں عوام دشمن کارروائیوں میں کچھ قانونی و آئینی ماہرین، کچھ صحافیوں اور کچھ بڑے سرمایہ داروں کا تعاون بھی ہمیشہ حاصل رہا۔جب بھی بیوروکریٹس کے ٹولے نے منتخب قیادت پر وار کیا، کچھ جج نظریہ ضرورت لے آئے۔ جب بھی فوج نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا، کچھ جج پی سی او پر حلف اٹھا کر ان کے ساتھی بن گئے اور سپریم کورٹ سے آئینی چھتری فراہم کر دی۔ آپ 1947ء سے شروع ہو جائیں اور ہر سال کا جائزہ لیتے ہوئے 2018ء تک پہنچ جائیں، کوئی سال اور کسی سال کا کوئی مہینہ ایسا نہیں ملے گا جب خلائی مخلوق نے کوئی نہ کوئی عوام دشمن واردات نہ کی ہو۔ اگر 2018ء میں بلوچستان کی پوری اسمبلی سانپ کی طرح کینچلی بدل لیتی ہے یا سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں ’’فرشتے‘‘ میدان میں آ جاتے ہیں تو یہ 1948ء کا 92 (a) ہی ہے جو براستہ 58-2(b) آج کے پاکستان تک پہنچا ہے۔ اگر 2017ء میں کروڑوں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کو 62-1(f) کی تلوار سے نااہل قرار دیا جاتا ہے تو یہ وہی تلوار ہے، جس کی بھٹی کا الاؤکالے قوانین پروڈا (PRODA) اور ایبڈو (EBDO) کے ایندھن سے بھڑکایا گیا تھا۔

میاں نواز شریف کا ایک ہی قصور ہے کہ وہ ایک پاپولر لیڈر ہیں۔ خلائی مخلوق کو پاپولر لیڈر کسی صورت برداشت نہیں، پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں میاں نواز شریف سے پہلے چھ پاپولر لیڈر آئے، قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی، محترمہ فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو، ان تمام کو خلائی مخلوق نے ڈسا۔ ان چھ لیڈروں کے علاوہ بھی منتخب لوگوں پر کسی نہ کسی طور تلوار چلتی ہی رہی۔ جو سلوک ایوب کھوڑو سے صوبائی سطح پر شروع ہوا تھا وہ آج بھی بلوچستان میں ہوا اور جو سلوک خواجہ ناظم الدین کی برطرفی سے قومی سطح پر شروع ہوا تھا وہی آج میاں نواز شریف کے ساتھ ہوا۔ 1950ء کی دہائی میں پانچ درجن ممالک ہمارے جیسے تھے،جہاں منتخب قیادت کو ہٹا کر فوجی آمر اقتدار پر قبضہ کر لیتے تھے یا وہاں کی خلائی مخلوق کوئی اور کھیل کھیلی تھی۔ اب ایسے ممالک کی تعداد پانچ درجن کی بجائے پانچ بھی نہیں رہ گئی، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں عوام کے مینڈیٹ کو ماننے کا عمل ابھی تک شروع نہیں ہو سکا۔

ایسا لگتا ہے کہ جب دُنیا کے تمام ممالک میں سویلین بالا دستی ہو گی، اس وقت بھی پاکستان میں خلائی مخلوق کی بالا دستی ہی ہو گی، کیونکہ ہمارے یہاں کی سیاسی طاقتیں حق اور سچ کا ساتھ دینے کی بجائے پاپولر قیادت کوکسی بھی قیمت پر گرا کر خود آگے آنے کی کوشش کرتی ہیں چاہے اس کے لئے غیر جمہوری طاقتوں کی چمچہ گیری ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سینیٹ چیئرمین الیکشن میں عمران خان اور آصف زرداری کبھی بھی میاں نواز شریف کے مقابلہ میں خلائی مخلوق کا ساتھ نہ دیتے۔اِسی لئے میاں نواز شریف نے بالکل درست کہا ہے کہ ان کا مقابلہ نہ تو آصف زرداری اور نہ عمران خان سے ہے، بلکہ ان کا مقابلہ تو نظر نہ آنے والی خلائی مخلوق سے ہے۔

بدقسمتی سے عمران خان پچھلے کئی سال سے خلائی مخلوق کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں ۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہیں آرٹیکل 62 اور 63 کے حق میں دلائل دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ یہ آرٹیکل بہت سے ممالک کے آئین میں شامل ہیں، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں، کیونکہ آئین کی ان شقوں کی نظیر دُنیا کے کسی مُلک کے آئین میں نہیں ملتی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ عمران خان کی معلومات ناقص ہیں یا انہیں غلط معلومات فیڈ کی جاتی ہیں اور وہ انہیں سچ سمجھ لیتے ہیں۔ بہر حال وجہ کچھ بھی ہو، کل کلاں عمران خان خود بھی آرٹیکل 62 یا 63کا شکار بن سکتے ہیں، کیونکہ خلائی مخلوق جب تک چاہے گی انہیں استعمال کرے گی اور پھر انہیں آؤٹ کر دیا جائے گا۔ ماضی میں پاکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی یہ غلطیاں کر چکی ہیں اور برملا تسلیم بھی کرتی ہیں، مثال کے طور پر یکم اپریل 1997ء کو جب میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے 58-2(b) ختم کی تھی تو اسی وقت آرٹیکل 62اور63 بھی ختم کر دیتے،اس کام کا دوسرا موقع 18ویں ترمیم کے وقت ملا تھا ،لیکن اس وقت بھی اسے رہنے دیا گیا ۔

سیاسی جماعتوں کی ان غلطیوں کی وجہ سے خلائی مخلوق کو کھل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے، غیر جمہوری طاقتیں عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کو گھر بھیج دیتی ہیں، چار بار مارشل لا لگا کر فوجی ڈکٹیٹروں نے اقتدار پر قبضہ کیا، چار مرتبہ 58-2(b)کی تلوار سے حکومت کا سر قلم ہوا، متعدد بار صوبائی حکومتیں برطرف کی گئیں اور اب دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیراعظم کوایبڈو کے کالے قانون کی طرح تا حیات نا اہل قرار دیا گیا۔ خلائی مخلوق اس وقت تک یہ سب کچھ کرتی رہے گی، جب تک عوام سیسہ پلائی دیوار بن کر غیر جمہوری طاقتوں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کو شکست نہیں دے دیتے، یہی وجہ ہے کہ 2018ء کا الیکشن پاکستانی عوام کا امتحان مُلک کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں میں لانے کا موقع بھی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -