پاکستان کے بڑوں کے فیصلے اور بیرونی دنیا میں ہماری حیثیت

پاکستان کے بڑوں کے فیصلے اور بیرونی دنیا میں ہماری حیثیت
پاکستان کے بڑوں کے فیصلے اور بیرونی دنیا میں ہماری حیثیت

  

کسی جگہ خطاب کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے عمران خان صاحب کو بہت صائب مشورہ دیا ہے کہ عمران خان جا کر میاں نواز شریف صاحب سے صلح کر لیں۔اس مشورے پر عمل کرنے سے میاں صاحب کا بھی بہت فائدہ ہے اور عمران خان صاحب کا بھی۔ نوازشریف کی مشکلات ختم ہو سکتی ہیں اور عمران خان بھی وزیراعظم پاکستان بن کر نیا پاکستان بنا سکتے ہیں ویسے میاں شہباز شریف کو یہ مشورہ اپنے بڑے بھائی کو بھی دینا چاہیے تھا۔ میاں نواز شریف صاحب کو میرا بھی یہی مشورہ ہے کہ وہ خود چل کر عمران خان صاحب کے پاس جائیں اور ان سے صلح کریں۔ تاکہ خلائی مخلوقات سے سب کو بچایا جا سکے۔ بیرونی دنیا میں کوئی ہمیں سنجیدہ لیتا ہے نہ ہماری بات سنتا ہے بلکہ الٹا ہمیں ہی سناتے ہیں۔

میں نے اپنے گذشتہ کالم میں چوہدری شجاعت صاحب کی کتاب سے کچھ اقتباسات پیش کیے تھے جس سے ملک کی اندرونی کہانی سمجھنے میں مدد ملتی تھی۔ اور آج پھر انہی کی کتاب سے کچھ اقتباسات پیش کر رہا ہوں جس میں انہوں نے ایٹمی دھماکوں کے بعد اپنے بیرونی دوروں کی روداد بیان کی ہے۔ میرا کالم پڑھنے کے بعد ہنسنے یا رونے کا فیصلہ میں آپ پر چھوڑ دیتا ہوں وہ لکھتے ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس اور تمام وزراء کو ہدایت کی کہ وہ مختلف ممالک میں جائیں اور ان کے سربراہان کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر بریف کریں۔ میں اس وقت وزیر داخلہ تھا۔ میں نے کہا کہ میں ایک نہیں چار ملکوں کا دورہ کروں گا۔مصر ، لیبیا، شام اور عراق۔ مصر لیبیا اور شام کا دورہ میں نے کیا لیکن عراق کا دورہ نہ کر سکا۔ (چوہدری صاحب پہلے تین ممالک کے سلوک کے بعد عراق کا دورہ نہ کرنا ہی درست تھا)

حسنی مبارک سے ملاقات اور مکالمہ : پہلا دورہ مصر کا طے ہوا۔ میں دورے پر روانہ ہونے لگا تو وزیراعظم نوازشریف نے مجھے بلا کر کہا کہ جب آپ مصر کے صدر حسنی مبارک سے ملیں تو میری طرف سے ان کے ساتھ یہ گلہ ضرور کریں کہ جرمنی میں ایک کانفرنس کے بعد مجھ سے بات کرتے ہوئے میرے بارے میں کافی سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ میں اور پاکستانی سفیر حسنی مبارک سے ملاقات کے لیے صدارتی محل پہنچے تو ان کے چیف آف پروٹوکول نے مجھ سے کہا کہ کہ صدر صاحب آپ کو علیحدگی میں ملنا چاہتے ہیں۔ میں اکیلا اندر چلا گیا۔ ابھی میں نے نوازشریف کے شکوے کی بات نہیں کی تھی کہ حسنی مبارک نے کہا کہ میں نے آپ کو علیحدہ اس لیے بلایا ہے کہ میں جرمنی میں ہونے والے واقعہ کی وضاحت کر دوں۔ کہنے لگے، انہیں بھی اس بات کا افسوس ہے لیکن اس وقت میں بہت پریشان تھا۔ میں نے نوازشریف سے کہا تھا کہ مصر میں میرے مخالفین مجھے قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں، ان میں سے چند لوگ ان دنوں پاکستان کی پشاور جیل میں ہیں، آپ ان کو ہمارے حوالے کر دیں۔ نوازشریف نے جواب دیا کہ پشاور جیل میں نہیں ہیں وہ لوگ۔ میرے بار بار اصرار کرنے پر بھی جب انہوں نے انکار کیا تو مجھے غصہ آگیا اور میں نے کچھ سخت الفاظ استعمال کر دیئے، جن پر اب مجھے خود بھی افسوس ہے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے بعد بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو انہوں نے پشاور جیل میں قید ان ملزموں کو ہمارے حوالے کر دیا۔ اس پر میں نے موقع کی مناسبت سے وزیراعظم نوازشریف کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ آپ وزیراعظم نوازشریف کی نیت پر شبہ نہ کریں۔، ممکن ہے کہ اس وقت ان کو متعلقہ اداروں نے یہی بتایا ہو کہ آپ کے ملزم پشاور جیل میں نہیں۔

یہ بات ہو چکی تو مصر میں پاکستان کے سفیر سمیت وفد کے باقی ارکان کو بھی ملاقات کے لیے اندر بلا لیا گیا۔ مصری وزیر داخلہ بھی آگئے۔ میں نے صدر حسنی مبارک کو ایٹمی دھماکوں پر بریفنگ دی۔ انہوں نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پھر انہوں نے عربی میں اپنے وزیر داخلہ سے پوچھا کہ آپ نے ان کو مصر کی سیر بھی کروائی ہے یا نہیں؟ جب انہوں نے انگریزی کا لفظ، بیلے ڈانس ، استعمال کیا تو مجھے تھوڑی بہت سمجھ آگئی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ بعد میں مصری وزیر داخلہ کی زبانی پتا چلا کہ صدر حسنی مبارک کہہ رہے تھے کہ مصر کی سب سے اچھی رقاصہ کو بلائیں اور مہمانوں کو اس کا بیلے ڈانس دکھائیں۔ ہم واپسی کے لیے گاڑی میں بیٹھے۔ مصری وزیر داخلہ نے رقاصہ کا پتا کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ الیگزینڈریا گئی ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ کے حکم پر نائٹ وژن ہیلی کاپٹر پر رقاصہ کو الیگزینڈریا سے بلوایا گیا اور رات گئے اس نے ہمارے اعزاز میں اپنا روایتی شو پیش کیا۔ ( اب اس خاک نشین کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ میں ہنس لوں یا رو لوں)

کرنل معمر قذافی سے ملاقات اور مکالمہ:لیبیا کے کرنل قذافی سے ملنے کے لیے ہم تیونس سے بذریعہ سڑک طرابلس پہنچے، جہاں ہمارے استقبال کے لیے لیبیا کے وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کے علاوہ ایک افریقی ملک کے وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔ اس کے بعد خصوصی طیارے میں مجھے پاکستانی سفیر اور جوائنٹ سیکریٹری ساجد حسین چٹھہ کو ایک خفیہ مقام پر پہنچایا گیا۔ دوسرے روز علی الصبح ہم بذریعہ کار آگے روانہ ہوئے۔ ایک گھنٹے کے بعد ایک صحرائی مقام پر ہمیں جیپوں میں منتقل کر دیا گیا۔ پھر ریگستان کا سفر شروع ہوگیا۔ پھر ایک لمبے سفر کے بعد ہمیں دو خیمے نظر آئے۔ اس کے علاوہ دور دور تک ریگستان ہی ریگستان نظر آرہا تھا۔ ہم ان خیموں کے نزدیک پہنچے تو ہمیں ان میں سے ایک خیمے میں بٹھا دیا گیا۔ خیمے کے اندر بے حد گرمی تھی۔ مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔کوئی ایئرکنڈیشن نظر نہیں آرہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ جس خیمے میں کرنل قذافی رہ رہے ہوں گے، وہاں ضرور ایئرکنڈیشنر کا بندوبست ہو گا۔ لیکن جب ہمیں ان کے خیمے میں لے جایا گیا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہاں بھی یہی صورتحال تھی۔تاہم کرنل قذافی کے چہرے پر اس ماحول کی وجہ سے کوئی بیزاری نہ تھی۔ انہوں نے کھڑے ہو کر ہمارا استقبال کیا مگر جب بات چیت شروع ہوئی تو ہم نے ان کے لہجے میں بڑی تلخی محسوس کی۔ کہنے لگے، میں آپکی بات بعد میں سنوں گا، پہلے آپ میرے دو سوالوں کا جواب دیں۔ پہلا یہ کہ ایٹمی دھماکے کرنے سے پہلے آپ نے مجھے اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔ دوسرا یہ کہ مسئلہ کشمیر پرمصالحت کرانے کے لیے میں نے پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم ، دونوں کو خطوط لکھے اور یہ پیشکش بھی کہ اگر کشمیر کو مکمل طور پر خود مختار ریاست بنا دیا جائے تو نئی ریاست کو چلانے کے لیے ابتدائی طور پر جو مالی وسائل درکار ہوں گے، وہ لیبیا فراہم کرے گا۔

بھارتی وزیراعظم نے تو میرے اس خط کا جواب دیا لیکن آپ کے وزیراعظم یا دفتر خارجہ نے اس کی زحمت گوارہ نہیں کی۔میں نے کہا آپ کا یہ شکوہ میں وزیراعظم نوازشریف تک پہنچا دوں گا اور پھر جو بھی ان کا جواب ہوگا، وہ آپ تک پہنچا دوں گا۔ مسئلہ کشمیر پر سوال کا جواب دینا ابھی باقی تھا۔ پاکستانی سفیر نے مجھے ٹہوکا دیا اور پنجابی میں کہا کہ ان کو مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرادادوں کے بارے میں بتائیں۔ میں نے کہا اس کا موقع نہیں۔ سفیر بضد ہو گئے اور کہنے لگے کہ آپ مجھے بات کرنے کی اجازت لے کر دیں۔ میں ان کو بتا دیتا ہوں۔ میں نے کرنل قذافی سے کہا، اس مسلے پر ہمارے سفیر آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ کرنل قذافی نے اثبات میں سر ہلایا تو پاکستانی سفیر نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر شروع کر دیا۔ جیسے ہی اقوام متحدہ کا نام آیا تو کرنل قذافی نے سفیر کو روکا، اور ساتھ والے خیمے میں موجود اپنے وزیر خارجہ کو طلب کیا اور اس سے عربی میں اس کے متعلق دریافت کیا۔ وزیر خارجہ نے عربی میں ہی ان کو بریف کر دیا۔ اس کے بعد کرنل قذافی پاکستانی سفیر کی طرف متوجہ ہوئے اور ہاتھ سے کچھ اس طرح بات کرنے سے روکا، جیسے شٹ اپ کال دے رہے ہوں۔ یہ دیکھ کر میں نے پاکستانی سفیر سے کہا، میں نے کہا تھا کہ یہ اس بات کے کرنے کا موقع نہیں ہے۔

کرنل قذافی دوبارہ میری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے صورتحال کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ لاہور میں میرے گھر کے قریب ہی ایک بہت بڑا سٹیڈیم ہے۔ اس سٹیڈیم کا نام آپ کے نام پر، قذافی سٹیڈیم ہے۔ اگر آپ کبھی پاکستان تشریف لائیں اور اس سٹیڈیم میں خطاب کریں تو مجھے یقین ہے کہ لاکھوں پاکستانی یہاں آپ کو دیکھنے اور سننے کے لیے جمع ہو جائیں گے۔ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے میں آپ کی مدد شامل ہے۔ پاکستان کے عوام آپ کو بہت چاہتے ہیں۔اور آپکی بہت عزت کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے اس کہنے پر کرنل قذافی، جو پہلے اچھے موڈ میں نہیں تھے، ان کے چہرے پر رونق آگئی اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ اب وہ مطمئن نظر آ رہے تھے۔( یہ ہیں پاکستان کی سفارت کاریاں پھر بھی سیاست دان گلہ کرتے ہیں کہ فوج ہمیں خارجہ امور میں مکمل اختیارات نہیں دیتی)

حافظ الاسد سے ملاقات اور مکالمہ:شام کے صدر حافظ الاسد سے ملاقات کے لیے جب ہمارا وفد دمشق پہنچا تو ائیرپورٹ پر مجھے سربراہ مملکت کا پروٹوکول دیا گیا۔ گارڈ آف آنر کے ساتھ شام کے نائب وزیر داخلہ نے میرا استقبال کیا۔ وہ ہمارے وزیر مہمانداری بھی تھے۔ اگلے روز صدر حافظ الاسد سے ہماری ملاقات تھی۔ ملاقات سے پہلے ان کا چیف پروٹوکول افسر میرے پاس آیا اور کہا کہ صدر صاحب کی طبیعت کچھ ناساز ہے۔ ہم ملاقات کے لیے صدارتی محل پہنچے تو صدر حافظ الاسد نے بڑے پرتپاک انداز سے ہمارا استقبال کیا۔ جب میں نے ان کو وزیراعظم اور صدر پاکستان کی طرف سے نیک خواہشات کا پیغام دیا تو انہوں نے کہا نوازشریف صاحب کو جاکر میری طرف سے کہیں کہ وہ بہت موٹے ہو رہے ہیں، کھانا کچھ کم کھایا کریں۔ میں نے ان کو ٹیلیویڑن پر دیکھا ہے۔ ملاقات کے بعد صدر حافظ الاسد نے اپنے پروٹوکول افسر کو طلب کیا اور ہدایت کی کہ جتنے دن ہم شام کے مہمان ہیں، ہماری اچھے طریقے سے دیکھ بھال کریں اور ہمیں شام کی سیر بھی کروائیں۔ وہ افسر اسی روز ہمیں سیر کے لیے لتاخیہ بیچ پر لے گیا، جہاں حافظ الاسد کے بیٹے بشارالاسد ، جو اب شام کے صدر ہیں، اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے۔ وہ ایک نیکر پہنے ہوئے سن باتھ لے رہے تھے۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو ہمارے پاس آئے۔ کچھ دیر تک ہم سے بات چیت کرتے رہے۔

مزید : رائے /کالم