سعودی ایران کشیدگی۔۔۔امریکہ کے لئے مشکل؟

سعودی ایران کشیدگی۔۔۔امریکہ کے لئے مشکل؟
سعودی ایران کشیدگی۔۔۔امریکہ کے لئے مشکل؟

  

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ایران دشمنی میں جنون کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ماضی میں کبھی نہیں ہوا تھا،لیکن صرف یہ نہیں ہے۔ ایران بھی ماضی میں مشرقِ وسطیٰ میں اتنا ملوث اور سرگرم عمل کبھی نہیں رہا جتنا اب ہے۔یہ خطرناک اور دھماکہ خیز صورتِ حال ہے اور واشنگٹن کے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ وہ ایران کو اپنی سرحدوں میں محدود رکھنا چاہتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں ایران کا بڑھتا ہوا اثرو رسوخ اور خصوصاً اسرائیل کے لئے خطرہ بن جانا وہ کبھی نہیں چاہے گا، لیکن سعودی ایران کشیدگی میں اُسے صرف اپنا اسلحہ فروخت کرنے کی حد تک دلچسپی ہے اور وہ یہ بھی کبھی نہیں چاہتا اور نہ چاہے گا کہ یہ چنگاری بھڑکتی آگ میں تبدیل ہو کر مشرقِ وسطیٰ کو لپیٹ میں لے لے اور ایسی صورتِ حال میں چین اور روس بھی اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ملوث ہو سکتے ہیں۔

سعودی بادشاہ ہمیشہ ایران کے ساتھ مخالفت کا رشتہ رکھتے ہیں۔ رضا شاہ پہلوی کے دور میں بھی اور آیت اللہ رہنماؤں کے دور میں بھی،لیکن ساتھ ہی انہوں نے ڈائریکٹ تصادم سے گریز کی پالیسی بھی اختیار کئے رکھی اور رابطہ کسی نہ کسی حوالے سے ٹوٹنے نہیں دیا۔

شاہ فیصل(1964-1975ء) اگرچہ رضا شاہ پہلوی کو اپنی اَنا کا قیدی سمجھتے اور کہتے رہے، لیکن انہوں نے بھی شاہ ایران کے ساتھ مل کر او آئی سی کی بنیاد رکھی۔شاہ فہد (1982-2005ء) نے اگرچہ ایران عراق جنگ میں صدام کی حمایت کی، لیکن حالات کے تقاضوں کے پیش نظر صدام حسین کو جنگ بندی پر بھی مجبور کیا۔ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز (2005-2015ء) نے ایک سعودی شیعہ کو ایران میں سفیر مقرر کیا تھا اور گفت و شنید کا دروازہ کھلا رکھا،حالانکہ اُسی دور میں بحرین میں شیعہ اکثریت کی بغاوت کچلنے کے لئے فوج بھیجی جو اب تک وہاں مقیم ہے۔

لیکن شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان نے بہت جارحانہ پالیسی اختیار کی ہے۔ گزشتہ قریب تین سال سے یمن میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں جو اُن کے نزدیک ایران کی زیدی حوثی شیعہ قبائل کی مدد سے یمن پر قبضہ کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے شدید انسانی المیہ بھی ہے۔ رسد، خوراک، ادویات پہنچنے نہیں دی جاتیں اور گزشتہ اپریل میں ایک شادی کی تقریب پر سعودی اتحادی افواج کے فضائی حملے میں بے شمار اموات واقع ہوئی ہیں۔

سعودی عرب میں بھی شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان نے مشرقی سعودی صوبہ عوامیہ میں جہاں شیعہ اکثریت ہے، وحشیانہ بمباری کی۔ ایک بڑے شیعہ عالم اور رہنما شیخ نمرالنمبر کو موت کی سزا دے دی، جس کے بعد سعودی عرب اور ایران کے سفارتی تعلقات منقطع ہیں اور آج تک بحال نہیں ہو سکے۔

شام اور لبنان میں سعودی عرب نے صدر بشار الاسد اور حزب اللہ کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن کامیابی حاصل نہ کر پایا اور ختم تو کیا ہونا تھا کمزور بھی نہ کئے جا سکتے(اُس کی بین الاقوامی وجوہات ہیں) اور ایران وہاں مضبوطی سے قدم جما رہا ہے۔اِن حالات میں امریکہ کی یہ پالیسی کہ وہاں سے امریکی افواج نکال لی جائے اور ریاض سے کہا جائے کہ وہ اپنی فوج وہاں بھیجے، لیکن یمن میں سعودی فوج کی کارکردگی نے ریاض کے لئے پریشانی پیدا کر دی ہے،کیونکہ اس سے پہلے سعودی عرب نے عراق میں ایک تلخ تجربہ دیکھ لیا ہے۔ 2003ء میں جب عراق پر حملہ کیا گیا اور صدام حسین کو گرفتار کر کے پھانسی دے دی گئی، جس کے بعد وہاں شیعہ منتخب حکومت قائم کر دی گئی جسے سعودی عرب نے ہر قسم کی امداد مہیا کی اور القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کی بھی درپردہ حمایت کی کہ حکومت کو کمزور کیا جائے اور ممکن ہو تو Regime Change کی جائے، لیکن یہ ایک ناقابلِ عمل، بلکہ Bankrupt سوچ اور پالیسی ثابت ہوئی اور سعودی حمایت یافتہ گروہ کمزور سے کمزور ہوتے گئے۔

اب سعودی عرب کی کوشش ہے کہ عراق کے شیعہ حکمرانوں کے ساتھ ’’دوستانہ‘‘ تعلقات بنانے کی کوشش کی جائے تاکہ وہ ایران کے اثر سے نکل آئیں، بغداد میں سفارت خانہ قائم کر دیا گیا ہے۔ بصرہ، نجف اور اربل میں قونصل خانے قائم کر دیئے گئے ہیں، سرحدیں کھول دی گئی ہیں۔ باہمی دو طرفہ تجارت شروع کر دی گئی ہے۔ مستقبل قریب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ عراق کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی، بلکہ اس خطے اور دونوں ممالک کے لئے ’’خوشخبری‘‘ سمجھی جا رہی ہے۔

لیکن اب بھی حدود قائم ہیں۔ عراق اُس فوج کا حصہ نہیں ہے جو ’’سعودی اسلامی اتحادی فوج‘‘ کہلاتی ہے، جو ایران کے خلاف ایک قدم سمجھا جاتا ہے اور ہے بھی، عراق میں ایران سعودی عرب سے زیادہ اثر رکھتا ہے اور وہ قائم بھی رہے گا۔

خطے میں فرقہ ورانہ کشیدگی اور تصادم کی کیفیت ختم کرنے کے لئے یمن سے آغاز کرنا پڑے گا، لیکن اس میں مشکل یہ ہے کہ سلامتی کونسل نے یمن کے بارے میں جو قرارداد پاس کی ہے اس کا جھکاؤ مکمل طور پر ریاض کی طرف ہے۔ اِس وقت واشنگٹن، لندن اور پیرس سعودی عرب کو سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک ہیں۔ اگر وہ اپنے ’’منافع‘‘ پر نظرثانی کریں تو وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان کے سخت گیر رویہ میں نرمی اور لچک پیدا کرسکیں۔

یمن میں ایران بہت بہتر پوزیشن میں ہے اور اب تو اُس نے یمن میں اپنے حامیوں کو میزائل بھی فراہم کرنا شروع کر دیئے ہیں، جس سے آئے دِن ریاض پر اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے کی کوشش کی جا رہی ہے، البتہ وہ امریکہ کی طرف سے سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی ’’اینٹی میزائل سسٹم‘‘ کی وجہ سے اکثر ناکام ہو رہے ہیں،لیکن یہ سعودی عرب کے لئے سردرد تو ہے۔

ایران ہر طریقے سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تضحیک کر رہا ہے، جس نے آیت اللہ خامنائی کو اکیسویں صدی کا ہٹلر قرار دیا ہے۔ ایسی فضا اور ماحول میں امریکہ ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کرے گا اور کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہہ تو دیا ہے کہ ایران سے ایٹمی معاہدہ ختم ہو گا،لیکن یورپ اس فیصلے کی حمایت نہیں کر رہا،کیونکہ ان کے خیال میں یہی معاہدہ ایران کو ایک ایٹمی طاقت بننے سے روکے ہوئے ہے۔ایک طرف اسرائیل کے وزیراعظم نقشے بنا بنا کر یورپ کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کے باوجود ایران اپنا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ہمارا اور اسرائیل کا دشمن مشترکہ ہے اور اگر ایران نے ایٹم بم بنایا تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔

اس سارے پس منظر نے امریکہ کے پالیسی سازوں کے لئے مشکل پیدا کر دی ہے کہ کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے کوئی ایسی پالیسی نہ اپنائی جائے جو ’’جلتی پر تیل ڈالنے‘‘ کے مترادف ہو۔

مزید : رائے /کالم